سابق صدر کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، نیب کو ایسا سلوک نہیں کر نا چاہئے: بلاول بھٹو زرداری 

سابق صدر کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، نیب کو ایسا سلوک نہیں کر نا چاہئے: ...

  

 میرپور خاص (مانیٹرنگ ڈیسک) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف تمام مقدمات سیاسی اور مذاق سے زیادہ کچھ نہیں، سابق صدر کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، نیب کو ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے، توشہ خانہ کا نہیں، 18 ویں ترمیم اور این ایف سی کا حساب لیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا حساب ہو تو سب کا ہو، جھوٹا کھیل کھیلنا بند کیا جائے، ایک نہیں دو پاکستان واضح نظر آ رہے ہیں، دوغلا نظام نہیں چلے گا، بتایا جائے وزیراعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنے گی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا میرپور خاص میں سب سے زیادہ بارش ہوئی، بارشوں سے اندرون سندھ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا، میر پور خاص پورا سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، 2011 میں اس طرح کی بارش ہوئی تو پوری دنیا متوجہ ہوئی تھی، ہمیں متاثرین کو ریلیف دینا ہوگا، کسانوں کو ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا آپ پانچ گھنٹے کے ٹرپ پر سندھ نہ آئیں، یہاں آکر بیٹھیں، نظر آئیں، کپتان بن کر سیلاب متاثرین کی مدد کریں، زراعت ایمرجنسی لگا کر کسانوں کو ریلیف دیا جائے، ہم مشکل وقت میں عوام کیساتھ ہونگے۔

بلاول بھٹو

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ بلاول کی پریس کانفرنس کا مقصد ایک ہی تھا ابو زرداری کو کیوں پکڑا ہوا ہے، خدا کے لئے اپنی کرپشن بچانے کے لئے ملک کے اہم اشوز پر سیاست نہ کریں، ان کو ڈر ہے سندھ کی صفائی کے ساتھ کہیں سندھ کے سیاسی کچرے کا بھی صفایا نہ ہو جائے،سندھ میں پیپلزپارٹی کی تین نسلوں سے حکومت ہے،کراچی اس سلوک کا مستحق نہیں تھا، ہم ایسا کراچی بنائیں گے جہاں جب بارش آئے گی تو گھروں میں پانی نہیں آئے گا۔ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد سعید نے کہاکہ یہ ملک کے اہم اشوز کو بھی سیاست کی نظر کر دیتے ہیں، گوداموں میں یہ گندم نہیں چھوڑتے، ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں چھوڑتے۔فرزند زرداری کا اگر بس چلتا تو پورا پاکستان بند ہوتا معیشت رک جاتی۔عمران خان کے اقدامات کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ کورونا کی وجہ سے بھارت میں 12کروڑ لوگ غربت کا شکار ہوئے۔ غربت کی شرح سندھ میں زیادہ تھی۔ وزیر اعظم نے غربت کی شرح کو دیکھتے ہوئے سندھ میں ریلیف دیا۔ بلاول تو کہتا ہے کہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے لیکن پانی اور سیلاب سے بچنے کے لئے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا۔ہلکی سی بارش ہوتو کراچی ڈوب جاتا ہے۔یہ چاہتے تھے کورونا میں زیادہ اموات ہوں تا کہ ہم سیاست کر سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کے پی کے میں بھی سیلابی صورت حال پیدا ہوئی، کے پی کے میں 12 گھنٹوں میں ٹرانسپورٹ اور بجلی بحال کی گئی، جاں بحق افراد کے اہلخانہ کو مدد فراہم کی گئی لیکن سندھ والے ہر چیز میں پیسہ مانگ رہے ہیں۔ سندھ کو دیا گیا پیسہ لوگوں کے لئے ہے یہ فیک اکاؤنٹس کی نظر کر دیتے ہیں۔ ہم ایسا کراچی دینا چاہتے ہیں کہ جب بارش آئے گی تو پانی آئے گا لیکن گھروں میں داخل نہیں ہوگا۔ صوبے سیلاب میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں، این ڈی ایم اے کو وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اتنے بڑے پیکج کے باوجود سندھ میں نقصانات کا تخمینہ لگائیں۔

مراد سعید 

مزید :

صفحہ اول -