آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے تبادلے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج، چیف جسٹس آج سماعت کرینگے 

آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے تبادلے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج، چیف جسٹس آج ...

  

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے تبادلوں کولاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمداحمد خان نے درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی اور پنجاب حکومت کے علاوہ سابق آئی جی شعیب دستگیر،موجودہ آئی جی انعام غنی،سابق سی سی پی او ذوالفقار حمید اور موجودہ سی سی پی او محمد عمر شیخ کو فریق بنایاگیاہے۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ آج 10ستمبر کو اس درخواست کی سماعت کریں گے۔درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ موجودہ حکومت نے سیاسی مقاصد کے لئے آئی جی پنجاب اورسی سی پی اوکو تبدیل کیا، یہ تبادلے پولیس آرڈر 2002 ء کی خلاف ورزی ہے۔قانون کے مطابق آئی جی پنجاب کو تین سال کے لئے تعینات کیا جاسکتا ہے جبکہ سی سی پی او کی تعیناتی کے لئے آئی جی پولیس کی سفارش ضروری ہے۔موجود حکومت نے صرف 2 سالوں کے دوران 5 آئی جی تبدیل کردئیے ہیں۔آئی جی پنجاب کا تبادلہ پولیس آرڈر 2002 ء کے سکیشن 12 اور 80 (2) کی خلاف ورزی ہے۔ یہ تبادلے پنجاب بزنس رولز 2011 ء کے بھی منافی ہیں۔درخواست میں ان تبادلوں کو کالعدم کرنے کے علاوہ استدعا کی گئی ہے کہ آئی جی پولیس کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکرنے جبکہ سی سی پی او کی تعیناتی کے لئے آئی جی پنجاب کی سفارش کوضروری قراردیاجائے۔ہائی کورٹ کے رجسٹرارآفس نے اعتراض عائد کیاہے کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں تاہم چیف جسٹس محمد قاسم خان اعتراض کیس کے طور پر آج 10ستمبر کو اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

تبادلے چیلنج

مزید :

صفحہ اول -