پاکستانی سینما گھر قصہ دلنشیں، بیشتر شاپنگ سنٹرز، شادی ہالز میں تبدیل 

پاکستانی سینما گھر قصہ دلنشیں، بیشتر شاپنگ سنٹرز، شادی ہالز میں تبدیل 

  

 لاہور (حسن عباس زیدی)پاکستان میں روائتی سنیماء گھرماضی کا قصہ بننے لگے خاص طور پر ماضی کی فلم نگری لاہور میں چند روائتی سنیماؤں باقی رہ گئے ہیں۔اس وقت لاہور میں جو روائتی سنیماء گھرفعال ہیں ان میں میٹروپول،اوڈین،ملک تھیٹر،پاکستان ٹاکیز اورکیپیٹل کے نام نمایاں ہیں۔ باقی سنیما گھر تھیٹرز،شاپنگ سنٹرز اور شادی گھروں میں تبدیل ہوچکے ہیں جن میں رتن، امپیریل،ایمپائر، انگولا،صنم، نغمہ، مبارک،محفل،کراؤن، تاج،شمع،ریکس،روالی،فردوس، الممتاز،گیلیکسی،لیرک،وینس،شیش محل،ناز،نگینہ،شالیمار، ترنم،سٹی،نگار،رٹز، سنگیت، تاج,پلازہ اور انگوری شامل ہیں۔ان سنیماؤں میں غریب اور مڈل کلاس شہری فلمیں دیکھنے آتے تھے۔پاکستان میں گزشتہ چند سالوں کے دوران نئے اور جدید سینماء گھروں کی تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے، فلم انڈسٹری کے ریوائیول کے ساتھ ہی نئے سنیماء گھروں کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے سرمایہ کاروں نے سنیماء گھروں میں سرمایہ کاری شروع کی ہوئی تھی۔ملک میں بالی ووڈ کی فلموں کی بندش کے بعد رہی سہی کسر کرونا وائرس نے پوری کردی اور سنیما انڈسٹری ایک بار پھر بدترین بحران کا شکار ہوگئی۔کئی ماہ سے پاکستانی سنیماؤں میں کسی بھی فلم کی نمائش نہیں کی گئی ہے۔بالی ووڈ کی فلموں کی نمائش کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں میں جدید طرز کے ملٹی پلکس سنیماء گھر تیار کئے گئے اور بعد میں چھوٹے شہروں میں بھی سنیماء بنائے جا رہے تھے۔ پورے ملک میں سنیماء گھروں کی تعمیرات میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ جبکہ کچھ پرانے بوسیدہ روائتی سینماء گھروں کو بھی جدید طرز پر بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ اس سلسلے میں پرنس اور شبستان سنیماء کو تزین و آرائش کے بعد جدید بنایا گیا تھا۔سینکڑوں کی تعداد میں قائم پاکستان میں سنیماء گھروں کی تعداد نا ہونے کے برابر رہ گئی تھی جس کی وجہ لالی ووڈ کی فلموں کا نا بننا تھا جبکہ متعدد سینماء مالکان نے سنیماء گھروں کو فروخت کرکے رہائشی عمارتیں یا شاپنگ سنٹر بنا دیا تھا۔ اب جبکہ پاکستان میں نئے سرے سے لالی ووڈ انڈسٹری کا دوبارہ جنم ہوا اور فلمیں باکس آفس پراچھا بزنس کرنا شروع ہوئیں تو سنیما انڈسٹری میں سرمایہ کاری تیز ہونے لگی۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں بالی ووڈ کی فلموں کی نمائش کو قرار دیا گیا جبکہ لالی ووڈ کی فلمیں پاکستان میں اچھا بزنس کرتی دکھائی دے رہی تھیں تو ایسے حالات میں سنیماء ایک منافع بخش کاروبار بنتا جارہاتھا لیکن اچانک پاک بھارت تعلقات میں خرابی کے باعث پاکستان میں سنیما انڈسٹری زبردست دھچکا لگا۔ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، مری، گوجرانوالہ، گجرات، حیدرآباد، لاڑکانہ، راولپنڈی میں جدید طرز کے سنیماء گھروں کی تعمیرات مکمل ہوکر فلموں کی نمائش جارہی تھی جبکہ  پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بھی نئے ملٹی پلکس سینماء گھر نمائش کے لئے کھولے گئے تھے۔ عوامی حلقوں سمیت فلم انڈسٹری کی شخصیات نے نئے سنیماء گھروں کی تعمیرات کو فلم انڈسٹری کے مستقبل کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جتنے زیادہ سنیماء گھر پاکستان میں ہوں گے پاکستانی فلموں کو اتنا ہی زیادہ بزنس ملے گا۔ ہدایتکار سید نور،احسن خان اور سٹار میکر جرار رضوی نے کہا تھا کہ نئے سنیماء گھروں کی تعمیر سے فلموں کے باکس آفس پر اچھا رسپانس مل رہا تھا۔ اداکارہ،ماڈل اور پرفارمر میگھا نے کہا تھاکہ نئے سینماء گھر پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے سود مند ثابت ہورہے تھے۔سینئر اداکارہ عذرا آفتاب، ادکارہ و ماڈل مایا سونو خان،ثناء،نیلم منیر خان،مایا علی،فلک اور رزکمالی نے کہا تھا کہ نئے سنیماء گھر پاکستان فلم انڈسٹری کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرہے تھے۔ سینئر اداکارہ وماڈل صائمہ نوراوراداکارہ،ماڈل نے کہا تھاکہ پاکستان میں معیاری فلم سازی ہورہی تھی ملک میں جتنے زیادہ سنیماء گھرہوتے ہماری فلمیں اور فلم پر سرمایہ کاری کرنے والے دونوں ترقی کرتے۔ معروف فلم پروڈیوسر چوہدری اعجاز کامران،میاں راشد فرزند،پرویز کلیم،سید فیصل بخاری،پروڈیوسریار محمد شمسی صابری،سید جہانزیب علی اور یامین ملک نے کہا تھا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی ترقی پر نئے سینماء گھروں کی تعمیرات براہ راست اثر کررہی تھی اور پاکستانی فلموں کے فروغ ملنے کے ساتھ نئے نئے سرمایہ دار بھی فلموں پر سرمایہ کاری کررہے تھے مگر بالی ووڈ کی فلموں کی بندش کے بعد رہی سہی کسر کرونا وائرس نے پوری کردی، اس وقت ہر شخص پریشان ہے۔سینئر اداکارو ڈائریکٹر سہراب افگن،اشرف خان،راشد محمود،خالد بٹ،آغا عباس،آغا حیدر،عباس باجوہ اور ظفر عباس کھچی نے کہا تھا کہ نئے سنیماء وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں سنیماؤں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی فلمیں کم وقت میں اپنا بجٹ نکالنے کی پوزیشن میں آئیں گی۔سنیماء گھروں پر سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

پاکستانی سنیما

مزید :

صفحہ اول -