شہریوں کے مسائل کا حل، امن وامان کی فضاء کو برقرار رکھنا اولین ترجیح، آئی جی 

شہریوں کے مسائل کا حل، امن وامان کی فضاء کو برقرار رکھنا اولین ترجیح، آئی جی 

  

  

 لاہور(کر ائم رپو رٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ صوبہ میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے مسائل کا بلا تاخیر حل اور قانون کی یکساں عمل داری کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کیلئے سینٹرل پولیس آفس میں تعینات تمام پرنسپل سٹاف افسران اورریجنز اور اضلاع میں تعینات کمانڈ افسران کو اپنا موثر کردار بہتر سے بہتر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ظالموں کو قانون کی گرفت میں لانے اور مظلوموں کا ساتھ دینے والے افسران وا ہلکار میری ٹیم میں ہراول دستہ ہونگے انہوں نے مزیدکہاکہ ہراسمنٹ اور کرپشن پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی بدعنوانی کے معاملات پر سوموٹو ایکشنز لینے کے ساتھ ساتھ انکوائری مکمل کرکے ذمہ داران کو سزا دلوانے کیلئے مکمل خود مختار ہونگے انتظامی و پیشہ ورانہ امور میں کسی بھی سطح پر کرپشن،اختیارات سے تجاوز اور پولیس حراست میں ہلاکت و تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور ایسے بے ضابطگیوں میں ملوث افسران واہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالریننس کا تحت کاروائی کو یقینی بنایا جائے گابعد ازاں آئی جی پنجاب انعام غنی نے سنٹرل پولیس آفس میں افسران کے ساتھ پہلی باضابطہ میٹنگ کی اور افسران کو اپنی پالیسی، ترجیحات اور پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں۔تقریب میں ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر)ظفر اقبال اعوان، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ شاہد حنیف، ایڈیشنل آئی جی آر اینڈ ڈی غلام رسول زاہد، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی سیف سٹی راؤ سردار ڈی آئی جی لیگل جواد احمد ڈوگر، ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ علی عامر ملک اور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ڈی محمد طاہر رائے،ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

۔ انہوں نے مزید کہاکہ قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے رٹ آف دی اسٹیٹ کو بحال کرنا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں میرٹ کی پاسداری،ڈسپلن اور جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے پابندی کو ہر صورت یقینی بنایاجائے گا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایف آئی آرکی فری رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ انویسٹی گیشن کے معیار کی بہتری پر خاص توجہ دی جائے گی تاکہ سنگین جرائم میں ملوث پیشہ ور ملزمان کو سزائیں دلو کر معاشرے کو کرائم فری کیا جاسکے۔انہوں نے مزیدکہا کہ پولیس فورس کے رویے میں اخلاقی تبدیلی لاکر اسے پبلک فرینڈلی فورس میں تبدیل کرنامیری پالیسی کا اہم حصہ ہے اور اس سلسلے میں ریکروٹمنٹ پالیسی کو مزید موثر بنانے کے ساتھ، ٹریننگ کے نظام کو مزید اپ گریڈ کرتے ہوئے ٹرانسفر، پوسٹنگ اور پروموشن میں میرٹ کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوامی تاثر کو بدلتے ہوئے پنجاب پولیس کو بطور ادارہ مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو اور افسران کے ساتھ پہلی باضابطہ میٹنگ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کیا۔صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے مزیدکہاکہ پنجاب کے تمام ریجنز اور اضلاع میں کام کرنے والی افسران کی ٹیم بہترین پروفیشنل افسران پر مشتمل ہے جس میں سے کسی افسر کوبلاوجہ ہرگز تبدیل نہیں کیا جائے گا بلکہ سی پی او سمیت تمام فیلڈ افسران کو سپرویعن کے حوالے سے مزید بااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سنٹرل پولیس آفس کے ورکنگ سسٹم کو مزید فعال کرنے کیلئے ری آرگنائزیشن اور اپ گریڈیشن پر توجہ دی جائے گی تاکہ محکمانہ امور مزیدبہتری اورتندہی کے ساتھ سر انجام پا سکیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سنٹرل پولیس آفس پولیس افسران کے گھر کی حیثیت رکھتا ہے اس میں افسران کی کوئی بھی میٹنگ پولیس فورس کا انٹرنل معاملہ ہے اسے کوئی اور رنگ دینا غیر مناسب ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پنجاب پولیس میں کسی قسم کی کوئی گروپنگ موجود نہیں اورسینئر، جونیئرز کی گروپنگ کے حوالے سے تمام خبریں حقائق کے برعکس اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سی سی پی او لاہور سمیت تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز حکومتی احکامات کے نفاذ کو یقینی بنا کر عوام کی جان و مال کے تحفظ اور خدمت کیلئے پر عزم ہیں اور پولیس ایک ڈسپلنڈ فورس کے طور پر اپنے فرائض کی انجام دہی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔انہوں نے مزیدکہاکہ غیر قانونی حراست، دوران حراست تشدد یا ہلاکت کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے واقعات میں ملوث افسران واہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کاروائی ترجیحی بنیادوں پر عمل میں لاتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سزا و جزاکے عمل پر بطور خاص توجہ دیتے ہوئے بہتر پرفارمنس دینے والے افسران و اہلکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ نان پروفیشنلزم اورغیر ذمہ داری کے مرتکب افسران واہلکاروں کو ڈسپلن میٹرکس کے مطابق سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ انفارمیشن کی بروقت فراہمی سے میڈیاکے ساتھ روابط کو بہتر سے بہتر بنایا جائے گا تاکہ میڈیا جرائم کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پولیس کے اچھے کاموں کی بھی تشہیر کا سلسلہ جاری رکھے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ آپریشنز کے ساتھ ساتھ انویسٹی گیشن کے معاملات پر یکساں توجہ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں سنگین جرائم کی بیخ کنی پر بطور خاص توجہ دی جائے گی۔ انہو ں نے مزیدکہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ نئی گاڑیوں کی بدولت پولیس کے پٹرولنگ اور تھانو ں کے امور کی انجام دہی میں بطور خاص بہتری آئے گی اور اسی طرح نفری کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ریکروٹمنٹ پراسس کو بغیر تعطل جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔ سنٹرل پولیس آفس آمد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے آئی جی پنجاب انعام غنی کو سلامی پیش کی جبکہ سی پی او میں تعینات ایڈیشنل آئی جیز اور ڈی آئی جیز سمیت دیگر افسران نے آئی جی پنجاب کو خوش آمدید کہا۔ آئی جی پنجاب نے میڈیا نمائندگان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی کے عمل کو یقینی بنانے میں کسی قسم کے سیاسی یا انتظامی دباؤکو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا بلکہ جس کسی نے بھی قانون شکنی کی اسکے خلاف میرٹ کے مطابق کاروائی میں ہرگز تاخیر نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سی سی پی او لاہور سمیت تمام فیلڈ افسران کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن کے تحت عوامی خدمت اور حفاظت کے مشن کو جاری رکھا جائے گا تاکہ سمارٹ اینڈ کمیونٹی پولیس کے طور پر پولیس عوام کو ہر ممکن تحفظ اور سروس ڈلیوری فراہم کرسکے۔ 

مزید :

علاقائی -