تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار  (3)

تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار  (3)
 تجارت وصنعت میں سید بابر علی کا دیومالائی کردار  (3)

  

1970کا عشرہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت تھا۔PIDC(اب NFC)کے تحت کیمیائی کھادوں کے 6کارخانے دن رات کھادیں بنانے میں مصروف تھے۔یوریا کے علاوہ سنگل سپر فاسفیٹ‘ایوینم‘سلفیٹ‘ایوینم نائٹرویٹ وہ کیمیائی کھادیں تھیں جو پاکستان کے سائل(SOIL)کے مطابق بنائی جاتی تھیں اور جو کبھی کسان کی پسندیدہ کھادیں ہوتی تھیں (یہ کھادیں آج بھی اسی قدر مقبول ہیں)کارخانے پبلک سیکٹر میں تھے اور ان کی پیداوار کی تقسیم پرائیویٹ سیکٹر کے پاس تھی۔مگر پرائیویٹ سیکٹر میں NFCکے پرنسپل ایجینٹس‘جن میں ایسو کیمیکلز(اینگرویوریا بنانے والے)اور داؤد کارپوریشن شامل تھیں‘ نے بوجوہ دیدہ دانستہ ملکی کھادوں کی فروخت بند کردی اور اپنی تمام تر توجہ غیر ملکی کھادوں کی پبلسٹی پر مذکور کردی تھی تاکہ حکومت گھٹنے ٹیک دے اور مجبور ہوکر ان کھاد فیکٹریوں کو ناکام اور ناکارہ سمجھ کر پرائیویٹ سیکٹر کو اونے پونے فروخت کردے۔

قیام پاکستان کیساتھ ہی مافیا بھی وجود میں آگیا تھا جس طرح آج شوگر مافیا حکومت کو بلیک میل کررہا ہے۔یہ وہی مافیا ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بھی بلیک میلنگ کی کوشش کی تھی۔مگر ذوالفقار علی بھٹو کے پاس سید بابر علی جیسے دیانتدار اور صنعتکار موجود تھے۔جو اس مافیا کے آڑے آئے۔وقتی طور پر مافیا سوگیا تھا مگر ختم(ELEMINATE)نہیں ہوا تھا۔جس نے کرپٹ حکمرانوں سے ملکر آخر پبلک سیکٹر میں کامیاب ترین اور منافع بخش کھاد فیکٹریوں کو نجکاری کا شکار کرکے دم لیا۔ہمارا میڈیا زندگی کے ہر شعبے میں ہونیوالی بدعنوانیوں کو ہائی لائٹ کرتا ہے۔مگر زراعت کے موضوع کو اہمیت نہیں دیتا۔یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں زراعت جس پر زیادہ تر پاکستان کی معیشت کا انحصار ہے بالکل بھی وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی یہ مستحق ہے۔یوں تو پاکستان میں اکثر حکمرانوں اور بیشتر نام نہاد اشرافیہ کے لوگوں نے ملک کو لوٹنے میں کہیں بھی کسر نہیں چھوڑی مگر ملک کو اور ملکی زراعت کو جو نقصان منافع بخش کھاد فیکٹریوں کو پرائیویٹائز کرکے پہنچایا گیا اس کا کسی نے بھی سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔میں نے قومی کھاد فیکٹریوں کی نجکاری کی تفصیل اپنی خود نوشت”مسافتیں کیا کیا“میں بیان کی ہے۔منافع بخش کھاد فیکٹریوں کی نجکاری سے ملکی معیشت کو جونقصان پہنچا اس کا ازالہ ناممکن ہے۔

1970کے عشرے میں یہ حالات تھے۔جس بناء پر حکومت نے ملک میں نئے فرٹیلائزر پلانٹس کی تنصیب اور موجودہ قومی کھاد فیکٹریوں کی پیداوار کیلئے نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن آف پاکستان کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کیا اور مارکیٹنگ کیلئے NFMLکے نام سے ایک ذیلی ادارہ بھی قائم کیا۔

ان پرائیویٹ کمپنیوں نے مارکیٹس میں دشمنی کی حد تک NFCکی مخالفت کی۔انہوں نے اتحاد کرلیا تھا کہ جو پرائیویٹ ڈیلرNFCکی ڈیلر شپ لیتا تھا اس کی اینگرو ایجنسی کینسل کردیتے تھے۔انہوں نے زبردست طریقے سے مارکیٹ میں پروپیگنڈا کررکھا تھا کہ ملک میں قومی کھاد فیکٹریوں میں تیار ہونیوالی کھادیں ناقص ہیں اور فصلیں جلادیتی ہیں۔قومی کھاد فیکٹریاں دھڑاڈھڑ کھادیں بنارہی تھیں۔گوداموں میں اور گوداموں سے باہر کیمیائی کھادوں کے بڑے بڑے انبار لگ چکے تھے مگر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنیوالا کوئی نہیں تھا۔

سید بابر علی کی قیادت میں کیمیائی کھادوں کے بڑے بڑے سٹاک مارکیٹ میں پرائیویٹ ڈیلر شپ کے ذریعے فروخت کئے گئے ملک بھر میں 5ہزار سے زیادہ پرائیویٹ ڈیلرز کا نیٹ ورک بنایا گیا اورہرجگہ پر یکساں قیمت پر کیمیائی کھادوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔بڑے بڑے نئے کارخانے بھی بنائے گئے۔چنانچہ پاک عرب فرٹیلائزر فیکٹری ملتان میں یہاں پہلے ایوینم نائٹرویٹ اور کرسٹل یوریا تیار کیاجاتا تھا وہاں ایونیم نائٹرویٹ اور دانہ دار یوریا کے توسیعی پلانٹ لگائے گئے اور نائٹرو فاس کھاد کے بنانے کا ایک بہت بڑا نیا پلانٹ بھی نصب کیا گیا۔پاک سعودی فرٹیلائزر فیکٹری میر پور میتھیلو(سندھ)میں بھی یوریا کھاد کا ایک بہت بڑا پلانٹ لگایا گیا۔پاک امریکن فرٹیلائزر فیکٹری داؤد خیل(میانوالی)میں یوریا کا ایک نیا پلانٹ نصب کیا گیا۔اور یوریا کھاد کا برانڈ نام کسان یوریا رکھا گیا۔سید بابر علی کی سربراہی میں برق رفتاری سے یہ کارخانے لگائے گئے جس کی پاکستان میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔NFMLکے نام سے دنیا کی ایک کامیاب ترین مارکیٹنگ کمپنی تشکیل دی گئی۔کروڑوں نہیں اربوں روپے کی کھادیں پرائیویٹ ڈیلرز کے ذریعے کریڈٹ پر فروخت کی گئیں اور100فیصد ریکوری کو یقینی بنایا گیا۔بعد میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے NFMLمیں خرابیاں پیدا ہوگئیں۔نجکاری کی لوٹ سیل لگادی گئی۔تربیت یافتہ افراد کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے فارغ کردیا گیا اور اتنی ہی تعداد میں سیاسی بنیادوں پر نئے لوگ بھرتی کرلئے گئے۔مافیا نے کرپٹ حکمرانوں سے ملکر پبلک سیکٹر میں NFML‘ PIAاور پاکستان سٹیلز جیسے کامیاب ترین اداروں کو ناکام کیا۔

سید بابر علی نے دیانت اور محنت کے جو بیج بوئے۔این ایف سی‘پیکچراور نیسلے اور LUMSجیسے کامیاب اور معیاری اداروں کی صورت میں پاکستان کو گفٹ دیئے۔وہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ملک وقوم سے ان کی COMMITMENTاور CREDIBILITYشک وشبہ سے بالاتر ہے۔حکومت کو صنعت وتجارت کا شعبہ سید بابر علی جیسی آزمائی ہوئی کسی شخصیت کے حوالے کرنا چاہیے۔جو اس شعبے میں چوروں اور ڈاکوؤں کو گردن سے دبوچے۔سید بابر علی کی دیانت‘سچائی اوراحساس ذمہ داری کے جلائے ہوئے چراغ تندہواؤں کے باوجود آج بھی روشن ہیں۔کاش!سید بابر علی دوبارہ جوان ہوکر فرٹیلائزر انڈسٹری میں آجائیں۔کاش!پی آئی اے اور پاکستان سٹیلز کو کوئی سید بابر علی مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

94سالہ جوان سید بابر علی کو انٹرویو میں چاک وچوبند(ماشااللہ) دیکھ کر‘ان کی کھنکتی ہوئی آواز اور دل سے نکلی ہوئی باتیں سن کر میں اپنے آپ کو توانا محسوس کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔پرستار تو میں انکا پہلے بھی تھا‘انٹرویو میں ان کے بچپن‘لڑکپن اورذاتی زندگی کی دلچسپ باتیں سن کر مجھے وہ اپنے اپنے لگے۔1978میں اگر ان سے میری ایک دو مزید ملاقاتیں ہوگئی ہوتیں تو شاید NFMLمیں مجھے اپنی نوکری بچانے کیلئے اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑتے اور شاید میں بہت آگے نکل گیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ ایک نیک انسان ہیں۔ ا ن کا وجود ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔اللہ تبارک تعالی انہیں ملک وقوم کی خدمت کے مزید مواقع فراہم کرے۔صحت مند لمبی عمر عطاء فرمائے۔آمین۔ (ختم شد)(بشکریہ روزنامہ نیا اجالا فیصل آباد)

مزید :

رائے -کالم -