ملک میں نجی کریڈٹ 6ٹریلین، صنعتکاروں کو 470ارب کا فائدہ ہو ا: رضا باقر

ملک میں نجی کریڈٹ 6ٹریلین، صنعتکاروں کو 470ارب کا فائدہ ہو ا: رضا باقر

  

 فیصل آباد(سٹی رپورٹر،سپیشل رپورٹر)گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ قومی معیشت میں فیصل آباد کا حصہ 20فیصد ہے مگر کرونا بحران کے منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے متعارف کرائی جانے والی مختلف سکیموں کے استعمال میں فیصل آباد کا حصہ بہت کم ہے جسے بڑھا کر ترقی کی شرح کو تیزی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ وہ آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں ڈپٹی گورنر محترمہ سیما کامل چیمہ اور سٹیٹ بینک کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ گورنر رضا باقر نے کہا کہ کمرشل بینک مسائل کے آؤٹ آف بکس حل سے گھبراتے ہیں جبکہ کرونا جیسے غیر معمولی حالات میں ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ کورونا کے معیشت پر منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے سٹیٹ بینک نے جراتمندانہ اور فوری اقدامات اٹھائے لیکن یہ بات بھی ہمارے مدنظر تھی کہ ان سکیموں کا غلط استعمال نہ ہو۔ اس وقت نجی کریڈٹ تقریباً 6ٹریلین ہے جس سے کیش فلو اور آؤٹ پٹ کی صورت میں ہمارے صنعتکاروں کو پالیسی ریٹ میں کمی سے 470 ارب روپے سالانہ کی بچت ہو گی۔ اس طرح بینکوں سے لئے گئے 640ارب کے قرضوں کی قسطیں ایک سال کیلئے مؤخرکی گئیں۔ جس سے فائدہ اٹھانے والوں میں 90فیصد چھوٹے یونٹ شامل ہیں۔ بیمار یونٹوں کی طرف سے پہلے سے لئے گئے قرضوں کو ڈبل کر دیا گیاتاکہ وہ بحالی کی سمت میں گامزن ہو سکیں۔ اس طرح اس مد میں انہیں 170ارب روپے کے مارک اپ کا فائدہ ہوا۔ روزگار سکیم کے تحت 180ارب روپے کے قرضے جاری کئے جا چکے ہیں۔ اس سے قرض لینے والوں کی لیکویڈیٹی پر تقریباً 1000ارب کا اثر پڑا۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سیما کامل چیمہ نے کہا کہ بیمار یونٹوں کی بحالی معیشت کیلئے بہت ضروری ہے۔ فیصل آباد چیمبر میں قائم ہیلپ ڈیسک کے ذریعے ری فنانس سکیم کے تحت 5ارب روپے کا قرضہ دیا گیا جس سے 50ہزار ملازمین کا روزگار محفوظ ہوا۔علاوہ ازیں گورنر سٹیٹ بینک  رضا باقر نے کمشنر آفس کابھی دورہ کیا۔ڈویژنل کمشنر عشرت علی نے گورنر سٹیٹ بینک کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں ڈویژنل انتظامیہ کی طرف سے عوامی فلاح وبہبود کی حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

رضا باقر

مزید :

صفحہ آخر -