پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ربڑ اسٹمپ بنادی گئی ہیں،لیاقت بلوچ 

  پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ربڑ اسٹمپ بنادی گئی ہیں،لیاقت بلوچ 

  

کراچی (پ ر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ مفادپرستانہ سیاست اوراسٹیبلشمنٹ کے جھگڑے نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ کراچی ملک کا بڑا اور اہم شہر ہے مگر بارش نے ڈبو دیا۔وفاقی وصوبائی حکومت ایک دوسرے پرالزام تراشیوں کی بجائے مصیبت زدہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ربڑ اسٹمپ بنادی گئی ہیں۔غربت، مہنگائی، بے روزگاری نے پسے  ہوئے طبقے کو زندگی اور ایمان فروخت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ عمران خان سرکار نے نعرہ ریاست مدینہ کا لگایا لیکن عملی طورملک میں قادیانیت، بد تہذیبی، سیکولر ازم، کرپٹ مافیا، فرقہ واریت کی سرپرستی کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان کے اسلامی و نظریاتی تشخص کو مسخ کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں علما ومشائخ کے وفد اورمیڈیاسے بات چیت کے دوران کیا۔ علماء و مشائخ کونسل سندھ کے صدرحافظ نصراللہ عزیز،جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر ممتاز حسین سہتواور مجاہدچنا بھی ساتھ موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر خدشات کے باوجود الحمد اللہ ماہ محرم الحرام اور دیگر ایام بخیریت تکمیل ہوئے۔ اہل سنت و تشیع علماء و قائدین اورعوام نے حب دین اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان دنوں دل آزار تقاریر،کلام اورسوشل میڈیا پیج نے تمام طبقات کو پریشان کیا ہے۔ یہ عناصر غیر ذمہ دار، عالمی استعماری ایجنڈا کے انجانے یا جان بوجھ کر آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ تمام مسالک کی قیادت ایسے شرپسندوں اور غیر ذمہ دار دل آزاری پھیلانے والوں کا محاسبہ کریں۔ اپنی صفوں سے نکال باہر کریں انہیں خود عبرت بنادیں اور حکومت ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کرے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ دینی جماعتوں کیلئے بڑا چیلنج ہے کہ حکمران عالمی دباؤ پر سجدہ ریزی کی وجہ سے اسلامی، نظریاتی، تعلیمی اور اقتصادی سرنڈر کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ملک وملت کو درپیش حقیقی بحرانوں سے  نجات دلانے کے ایجنڈا پر نہیں۔دینی جماعتیں ملک کا بڑا پریشر گروپ ہیں لیکن فرقہ بازی، مسالک کے اندر تقسیم در تقسیم نے بے دست کر ررہا ہے بحرانوں کے اس درد میں بزدلی اور خاموش تماشائی بننے کی بجائے دینی قیادت اپنا کردار ادا کرے۔تمام دینی قیادت ملک و ملت کی رہنمائی کیلئے کمر بستہ ہوجائے۔ بعد ازاں وہ لاہور روانہ ہوگئے۔

مزید :

صفحہ آخر -