آپ ایسے افسر کے دفاع میں آئے جو عدالت میں کہتا ہے ہر قانون پر عمل نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے آئی جی پنجاب کے تبادلے کیخلاف درخواست پر ریمارکس

آپ ایسے افسر کے دفاع میں آئے جو عدالت میں کہتا ہے ہر قانون پر عمل نہیں ہو ...
آپ ایسے افسر کے دفاع میں آئے جو عدالت میں کہتا ہے ہر قانون پر عمل نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے آئی جی پنجاب کے تبادلے کیخلاف درخواست پر ریمارکس

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی پنجاب کے تبادلے کیخلاف درخواست پر ہائیکورٹ آفس کے اعتراض پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے درخواست گزار سے کہاکہ آپ ایسے افسر کے دفاع میں آئے جو عدالت میں کہتا ہے ہر قانون پر عمل نہیں ہو سکتا، اگرکمانڈر یہ کہے تو امن و امان کیسے قائم کریں گے ؟،ایسا افسر پولیس کی کمانڈ کیسے کر سکتا ہے ؟۔

نجی ٹی وی کے مطابق آئی جی پنجاب کے تبادلے کے خلاف درخواست میں ہائیکورٹ آفس کے اعتراض پر سماعت ہوئی ،لیگی رہنما ملک احمد خان نے شعیب دستگیر کے تبادلے کو چیلنج کیا،ہائیکورٹ آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہاکہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ،

درخواست گزار ملک احمدخان کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا ممبر اور متاثرہ فریق ہوں،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہاکہ آپ یہ بات اسمبلی میں کیوں نہیں کرتے ؟،آپ ایسے افسر کے دفاع میں آئے جو عدالت میں کہتا ہے ہر قانون پر عمل نہیں ہو سکتا،اگرکمانڈر یہ کہے تو امن و امان کیسے قائم کریں گے ؟،ایسا افسر پولیس کی کمانڈ کیسے کر سکتا ہے ؟۔

سرکاری وکیل نے کہاکہ یہ پولیس افسر کا تبادلہ ہے،درخواست گزارمتاثرہ فریق نہیں ،عدالت نے وفاقی اورصوبائی حکومت کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر پیر کو دلائل دینے کی ہدایت کردی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -