مفتی عبدالقوی کی چینی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

مفتی عبدالقوی کی چینی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
مفتی عبدالقوی کی چینی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مفتی عبدالقوی کو سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر خوش مزاج اور زندگی کو انجوائے کرنے والا قرار دیا جاتا ہے اوراس کی وجہ متنازع سٹارز کے ساتھ تصویر بھی ہیں تاہم اس مرتبہ مفتی قوی نے کوئی سیلفی نہیں بنائی بلکہ اب تو سیدھی ان کی ایک غیر ملکی نوجوان خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو ہی وائرل ہو گئی ہے جس نے ہنگامہ برپا کر رکھاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونی والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتاہے کہ مفتی عبدالقوی ایک نوجوان چینی خاتون کے ساتھ پرجوش طریقے سے رقص میں مصروف ہے اور وہ اپنی کمر ہلا ہلاڈانس کرنے والی چینی خاتون کا ساتھ دیتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ایک موقع پر وہ خاتون کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مغربی سٹائل کے ڈانس میں گھماتے بھی ہیں ۔ اس ویڈیو میں مفتی عبدالقوی اور چینی خاتون کے علاوہ دو اور بھی افراد کھائی دے رہے ہیں تاہم ابھی تک مفتی قوی کی جانب سے اس ویڈیو پر کوئی وضاحت یا بیان سامنے نہیں آ سکا ہے ۔

ویڈیو دیکھیں:

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مفتی عبدالقوی کی اس سے قبل بھی حریم شاہ اور قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر وائرل ہوئی تھیں تاہم ایک لمبے عرصہ کے بعد اب دوبارہ ان کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے مفتی عبدالقوی کی متنازع سوشل میڈیا سٹا ر حریم شاہ کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی جس میں دیکھا جا سکتاہے کہ حریم شاہ کالے رنگ کا لباس پہنے ہوئے ہیں جبکہ وہ  بادامی رنگ کا لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر اس تصویر کے وائرل ہوتے ہی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حریم شاہ اور مفتی عبدالقوی کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہوئی تھی حریم شاہ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ سیلفی لینے کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کر لیا ۔

دوسری جانب مفتی عبدالقوی کی قندیل بلوچ کے ساتھ بھی تصاویر وائرل ہو ئی تھیں جن کا بعد میں قتل کر دیا گیا تھا ، کیس میں عدالت نے مفتی عبدالقوی اور دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا تاہم قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔

ماڈل قندیل بلوچ کو 15 اور 16 جولائی 2016 کی درمیانی شب قتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ مظفر آباد میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ قندیل کو گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے۔ قندیل کے بھائی وسیم نے گرفتاری کے بعد اقبال جرم کرلیا تھا لیکن عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی تو اس نے انکار کردیا۔ مقدمے میں مذہبی اسکالر مفتی قوی سمیت عبدالباط، ظفر اقبال، اسلم شاہین اور حق نواز کو گرفتار کیاگیاتھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -