بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی ، یہ واقعہ دراصل کس جگہ پیش آیا اور وہاں سے گزرتے ہوئے شخص نے کیا منظر دیکھا ؟ کیس کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں 

بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی ، یہ واقعہ دراصل کس جگہ پیش آیا اور وہاں سے ...
بچوں کے سامنے خاتون سے زیادتی ، یہ واقعہ دراصل کس جگہ پیش آیا اور وہاں سے گزرتے ہوئے شخص نے کیا منظر دیکھا ؟ کیس کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )منگل اور بدھ کی درمیانی شب موٹر وے پر خاتون کو اس کے دو بچوں کے سامنے ڈاکوﺅں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تاہم جب خاتون کو ہسپتال پہنچایا گیا تو اس کی حالت غیر ہو چکی تھی لیکن اب اس کا علاج جاری ہے اور پولیس نے بڑے پیمانے پر اس ہولناک جرم کے مرتکب ہونے والوں کے گرد شکنجہ کسنے کیلئے تحقیقات شروع کر رکھیں اور انہیں ثبوت بھی  مل چکے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق خاتون نے پٹرول ختم ہونے پر موٹروے پر جس جگہ گاڑی روکی وہاں سے بائیں جانب سڑک کے نیچے تقریبا 30 فٹ گہرائی میں جھاڑیاں اور پھر آگے جا کر ” کرول “ نامی جنگل شروع ہو جاتاہے جس کے قریب گاﺅں بھی واقع ہے ۔گاڑی بند ہونے پر خاتون اندر ہی موجود تھی کہ اس نے اپنے گھروالوں کو اطلاع کی تاہم گھر والوں کے پہنچنے سے قبل ہی اسے ڈاکوﺅں نے آ کر گھیر لیا اور پھر زبردست گاڑی سے نکال کر نیچے جنگل کی جانب لے گئے جہاں وہ بچوں کے سامنے خاتون کو زیادتی کانشانہ بناتے رہے۔ 

سی سی پی او عمر شیخ نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خاتون کی گاڑی میں تقریبا رات ایک بجے گاڑی میں پٹرول ختم ہوا اور پولیس کو ا رات تین بج کر 5 منٹ پر اطلاع ملی ، ڈاکوجس وقت خاتون کو گاڑی سے زبردستی باہر نکال رہے تھے تو قریب سے گزرتی ایک گاڑی میں موجود شخص نے یہ منظر دیکھا تو اس نے فوری پولیس کو کال کر کے آگاہ کیا ۔ ان کا کہناتھا کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ڈولفن کے اہلکار موقع پر پہنچے تو گاڑی وہیں کھڑی تھی جس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے ، اہلکاروں نے جنگل کی طرف منہ کر کے ہوائی فائر کیے جس کے بعد ڈاکو وہاں سے فرار ہو گئے ، ڈولفن اہلکاروں نے جس وقت ٹارچ کے ذریعے نیچے جھاڑیوں میں دیکھا تو وہاں پر خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ حالت غیر میں پڑی تھی اور رو رہی تھی ۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے اہلکاروں نے موقع پرسے شواہد اکھٹے کر لیے ہیں اور انہیں گاڑی سے ڈاکوﺅں کا خون اور فنگر پرنٹس بھی مل گئے ہیں جس کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں اور کہا جارہاہے کہ ڈاکو قریبی آبادی سے ہی آئے تھے ۔سی سی پی او کا کہناہے کہ بہت جلدمعاملے کی تہہ تک پہنچ جائیں گے اور آئندہ 48 گھنٹے تک ملزمان گرفتار ہو جائیں گے ، اب تک ہم نے 14 افراد کوحراست میں لیاہے۔ سی سی پی او نے بتایا کہ خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے واقعہ کی اطلاع دی ۔

مزید :

قومی -