شبیر صدیقی صاحبِ کتاب ہوگئے

شبیر صدیقی صاحبِ کتاب ہوگئے
شبیر صدیقی صاحبِ کتاب ہوگئے

  

تحریر: سردارخان (ٹورنٹو)

یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا جب  سینیر ترین صحافیوں میں سے ایک، مہربان، شفیق  اور ملنسار انسان جناب شبیر احمد صدیقی نے اپنی تصنیف، صحافت سے صحافت کا نسخہ  مجھے ارسال کیا۔ شبیر بھائی سے ہماری ملاقات ریڈیو پاکستان کے نیوز سیکشن میں تقریبا روز ہوتی تھی جب  عالمی سپورٹس رائونڈ اپ کے لیے ہم news creed ٰؒ   لینے کے لیے نیوز روم جاتے تھے جہاں شبیر بھائی کا مسکراتا چہرہ  ہمارا استقبال کرتا۔

383 صفحات پر مشتمل ان کی تصنیف ایک منفرد تاریخی دستاویز قرار دی جا سکتی ہے۔ اس کتاب کے سرورق پر ریڈیو پاکستان کی پر شکوہ تاریخی عمارت  کا عکس اس امر کا غماز ہے کہ مختلف  اخبارات اور جرائید   سے تعلق  جہاں شبیر صدیقی  کے معاشقے  قرار دیے جاسکتے ہیں وہاں سر ورق کی تصویر یہ ثابت کرتی ہے کہ ریڈیو (اور بقول برادر رضوان صدیقی کے ریڈوا) شبیر صدیقی کی  آخری محبت ہے۔ غرض یہ کہ  شبیر صدیقی  اہل کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ اب  خیر سے صاحب کتاب بھی ہو گئے ہیں جس پر ان کو تہ دل سے مبارکباد۔  کتابیں لکھنے  کے محرکات مختلف  شخصیا ت کے لیے مختلف ہوسکتے ھیں۔مثا ل کے طور پر بہ قول شاعر: 

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں۔ کچھ شعر فقظ ان کو سنانے کے لیے ہیں 

یہ علم کا سودا،یہ رسالے،یہ کتابیں۔ ایک شخص کی یا دوں کو بھلانے کے لیے ہیں 

شبیر صدیقی کی تصنیف  بجا طور پر ایک مثالی دستاویز ہے۔ شبیر صدیقی نے انتہائی عمدہ انداز میں واقعات کو ا س سادگی اور وقار کے ساتھ قلمبند کیا ہے کہ پڑھنے والا  اکتاہٹ کا شکار نہں ہوتا۔ انہوں نے واقعات کو بیجا طول دینے سے اجتناب کرتے ہوئے دریا کو کوزے میں بند کیا ہے جس سے قاری لمحوں میں تحریر اور واقعات کو باسانی ایک نشست میں پڑھ سکتا ہے۔ ان کی کتاب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ انہوں نے مختلف  ادوار  میں  اپنے ساتھ کام کرنے کم و بیش تمام افراد کا نام بنام تذکرہ کرکے ان کو بھی اس تاریخی دستاویز کا حصہ بنا کر امر کردیا ہے۔

شبیر صدیقی  کا اسلوب سادہ ہونے کے  ساتھ  انتہائی شائستہ  مزاح سے بھی مزین ہے۔  ان کی تصنیف  قاری کے ذہن میں واقعات کو پردہ سیمیں پر  ایک فلم کی صورت  نمودار  ہوتا دیکھتی ہے جیسے سٹیج پر زندہ کردار متحرک ہوں۔  اس کتاب میں شبیر صدیقی نے نصف صدی کے سفر میں سیاست کی غلام گردشوں  میں وقوع پزیر ہونیوالے واقعات کو  عمدہ انداز سے بیان کیا ہے۔

شبیر صدیقی  نے اس کتاب میں اپنی اماں کے ہاتھ کے مزیدار کھانے س لیکر،خان غفار خان سے ملاقات  اور فیض احمد فیض کو  انتظار کرواکر ان سے آٹو گراف لینے کاے واقعات  کو دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے ان پچاس برس میں پاکستانی سیاست کے نشیب وفراز اور  قوم کے عروج و زوال  کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے اور پاکستان کی تاریخ کے تمام سیاسی کرداروں  اور لگ بھگ تمام سربراہان  کو  نزدیک سے دیکھا ہے۔

قصہ کوتاہ یہ کہ شبیر صدیقی ایک درویش صفت، شریف النفس اور سفید پوش صحافی رہے ہیں جنکی اس ملک  نا پرساں میں شدید نا قدری ہوئی ہے۔ وہ نوجوان صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی کتاب کا مطالعہ کرکے بہت سارے تاریخی حقائق  کو جانا جا سکتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -