نئے آئی جی پنجاب انعام غنی

نئے آئی جی پنجاب انعام غنی
نئے آئی جی پنجاب انعام غنی

  

محترم قارئین کرام ،

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے 2 دو سالہ دورِ حکومت میں 5 آئی جی تبدیل کئے اور کوئی بھی آئی جی پورا ایک سال تعینات نہیں رہ سکا ۔کلیم امام تین ماہ، طاہر خان ایک ماہ ،عارف نواز 7 ماہ ،امجد جاوید سلیمی 6 ماہ اور شعیب دستگیر 9 ماہ بطور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب رہے ۔گذشتہ روز ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب انعام غنی کوچھٹا آئی جی پنجاب تعینات کردیا گیا جس پر پولیس افسران اور حکومت کے درمیان تنائو کو میڈیا خوب زیر بحث لایا اور عوام کو بھی بزدار حکومت کی نالائقی پر بولنے کا موقع فراہم ہوا ۔انعام غنی کی آئی جی تعیناتی سے پولیس کے سینئر آفیسر طارق مسعود یسین نے تو انکے ماتحت کام کرنے سے بھی انکارکردیا اور متعدد پولیس افسران نے بغاوت کی چہ مگوئیاں کیں ۔ انعام غنی صاحب بطور ایڈیشنل  آئی جی 2 ماہ جنوبی پنجاب میں تعینات رہے حالانکہ 2 ماہ بہت زیادہ وقت نہیں ہے باوجود اسکے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ۔ میری بطور صدر جنوبی پنجاب نیشنل کالمسٹ کونسل آف پاکستان وفد کے ہمراہ ان سے ملتان میں ملاقات ہوئی جسمیں سینئر کالم نگار تحسین بخاری, خان خدایار چنڑ,قیصر ممتاز و دیگر دوست شامل تھے ۔اس ملاقات میں ہم نے ان سے  جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور پولیس کلچر میں تبدیلی کے متعلق بات چیت کی ۔ مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے جنوبی پنجاب اور پولیس کے مسائل سمیت نفری کے متعلق زبانی فیکٹ اینڈ فگرز بتائے جس سے مجھے خوشی بھی ہوئی اور تجسس بھی کہ ایسا پولیس آفیسر جو بلا روک ٹوک ہر کسی کو ایک بار کہنے پر ملاقات کرنے کو آمادہ ہوجاتا ہے اور مسائل کو بخوبی جانتا ہے یہ ہی ہمارے جنوبی پنجاب کی پسماندگی دور کرنے میں معاون ثابت ہو گا ۔ انکی ترجیحات میں" میرٹ" اور دوسرا عام عوام کی افسران تک رسائی شامل ہیں ۔

انعام غنی کے متعلق قارئین کی دلچسپی کے لئے بتاتا چلوں انعام غنی کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع مالاکنڈ سے ہے۔انہوں نے 1989میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ان کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے سترہویں کامن سے ہے۔کیرئیر کے آغاز میں انعام غنی نے CSAاورنیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں خدمات سر انجام دیں۔انہوں نے اے ایس پی پیپلزکالونی فیصل آباد،اے ایس پی سٹی فیصل آباد، اے ایس پی نواں کوٹ، لاہور کے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔انہوں نے ایس ایس پی آپریشنز پشاور، ایس پی ہیڈ کوارٹر اسلام آباداورایس ایس پی سیکیورٹی اسلام آبادکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔انعام غنی نے ڈی پی او ہری پور، ڈی پی او کرک، ڈی پی او صوابی، ڈی پی او مانسہرہ اور ڈی پی او چارسدہ کے عہدوں پر فرائض ادا کئے۔انعام غنی ایف آئی اے اور آئی بی میں بھی انتہائی اہم عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔انعام غنی نے یو این مشن موزمبیق، آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی امریکہ اور ایمبیسی آف پاکستان کویت میں بھی فرائض سر انجام دئیےاور بلاشبہ انعام غنی کا شمار پنجاب پولیس کےبہترین افسران میں ہوتا ہے ۔

جہاں تک سابق آئی جی شعیب دستگیر کو ہٹانے کا معاملہ ہے وہ بھی آجکل ہر زبان زدِعام ہیں کہ انکی ڈوریاں جاتی عمرہ سے ہلائی جاتی تھیں ۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور سابق آئی جی کے درمیان جو وجہ تنازعہ بنی وہ یہ تھی ۔ ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر کے لوگوں نے ایک شخص یوسف کے پلاٹ پر قبضہ کیا بعد میں اسے قتل بھی کردیا مقتول تھانے میں بار بار اپنی جان کی حفاظت کے لیے ایس ایچ او سے مدد مانگتا رہا مگر شنوائی نہ ہوئی ۔یوسف کے قتل کے بعد معاملہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ تک پہنچ گیا عمر شیخ نے خود انکوائری  کی تو پتہ چلا کہ متعلقہ تھانے کا SHO ملزمان ( جن پر 16 مقدمات پہلے سے درج تھے) کے ساتھ ملا ہوا تھا عمر شیخ نے جب اس ایس ایچ او کے بارے میں استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ آئی جی صاحب کے حکم پر اس ایس او کو معطل کر کے معاملہ رفع دفعہ کردیا گیا ہے سی سی پی او عمر شیخ نے اس معطل ہوئے ایس ایچ او کو بلایا اور حکم دیا  کہ اسے صرف معطل نہ کرو ہتھکڑی بھی لگاؤ کیونکہ یہ قاتل ہے جس پر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے درمیان سردجنگ چھڑ گئی ۔سی سی پی او عمر شیخ تو اس معاملے میں مشہور ہیں انہوں نےبطور آر پی او ڈی جی خان میں ایک ڈی ایس پی اور انسپکٹر کو اپنے آفس کے اندر ہتھکڑیاں لگوادی تھیں اور ڈی جی خان میں انکی پرفارمنس شاندار رہی وہ حکومت کے ویژن "تبدیلی"کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے بزدار کی گڈ بُک میں تھے ۔ دوسرا سابق آئی جی شعیب دستگیر سے حکومتی ارکان بھی نالاں تھے کہ وہ ان سے کم ملتے اور کام نہیں دیتے تھے ۔تیسرا مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور میں مریم نواز کی پیشی پر اور شہباز شریف کی گرفتاری پر پولیس کو سُبکی ہوئی جس سے یہ فضاء جنم ہوئی کہ سابق آئی جی صاحب اور لاہور پولیس کے زیادہ تر افسران شریف برادران کے تانے بانے ہیں ۔ اب چونکہ بلدیاتی الیکشن قریب ہیں تو پورے لاہور کے پولیس افسران تبدیل ہوں گے اور عمر شیخ کیوجہ سے لاہور پولیس تذبذب کا شکار ہے کہ اب کیا ہوگا ۔اکھاڑ پچھاڑ سمیت پولیس  ریفارمز پر بھی کام ہو گا کیونکہ لاہور پنجاب کی سیاست کا مرکز ہے اور لاہور میں پی ٹی آئی نہ جیت سکی تو تبدیلی سرکار کا پنڈورا باکس کھل جائے گا ۔

بہر حال انعام غنی صاحب سے توقعات ہیں کہ وہ حکومت کے ویژن "تبدیلی" اور محکمہ پولیس میں ریفارمز لانے میں کارگر ثابت ہوں گے ۔انعام غنی صاحب عوام, میڈیا اور پولیس کےدرمیان دوریاں کم کرنے کا سبب بنیں گے ان سے یہ بھی توقعات ہیں کہ وہ دوسرے آئی جیز سے ہٹ کر پولیسنگ پر کام کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کی پسماندگیوں کو ترجیحات میں رکھیں گے ۔انعام غنی صاحب سے آخری توقع یہ ہے کہ بطور آئی جی وہ میرٹ اور عام عوام کی افسران تک رسائی کو یقینی بنانے میں ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ انعام غنی صاحب کو بطور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب تعیناتی مبارک ہو ۔

مزید :

بلاگ -