نیا ناظم آباد بنانے والی کمپنی نے سیلاب متاثرین کو جھنڈی کروادی، لیکن 75 کروڑ روپیہ کس چیز پر لگایا جائے گا؟ افسوسناک خبر آگئی

نیا ناظم آباد بنانے والی کمپنی نے سیلاب متاثرین کو جھنڈی کروادی، لیکن 75 کروڑ ...
نیا ناظم آباد بنانے والی کمپنی نے سیلاب متاثرین کو جھنڈی کروادی، لیکن 75 کروڑ روپیہ کس چیز پر لگایا جائے گا؟ افسوسناک خبر آگئی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے علاقے ناظم آباد کا نام پہلے گورنرجنرل خواجہ ناظم الدین کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ بستی 1952ءمیں وفاقی ملازمین کے لیے بسائی گئی تھی اور پھر یہاں بھارت سے آنے والے مہاجرین کو بسایا گیا اور پاکستان کے قیام کا جو ’مڈل کلاس کے لیے خوشحالی‘ کا وعدہ تھا، اسے پورا کیا گیا۔ اب کراچی کی آج کی مڈل کلاس کے لیے عارف حبیب گروپ ’نیا ناظم آباد‘ کے نام سے ویسی ہی ایک بستی بسانے جا رہا ہے لیکن حالیہ بارشوں سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے اس منصوبے کی لاگت میں 54کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق حالیہ بارشوں میں پورا کراچی ندی نالے کا منظر پیش کرتا رہا۔ ایسے میں نیا ناظم آباد میں بھی سیلاب کی صورتحال رہی اور کئی فٹ تک پانی جمع ہو گیا۔ کراچی کے حالات سے بخوبی واقفیت رکھنے والے ایک صحافی کاکہنا ہے کہ نیا ناظم آباد میں سیلابی پانی جمع ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہے۔ عارف حبیب کی طرف سے جو کنٹریکٹر ہائر کیے گئے تھے انہوں نے ایسی ناقص منصوبہ بندی کی کہ اس نئی بستی میں بھی بارش کا پانی کھڑا ہو گیا۔ جس سے نیا ناظم آباد کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ عارف حبیب گروپ کی طرف سے ان گھروں کے مالکان کو زرتلافی ادا کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے مگر دوسری طرف اس منصوبے پر ترقیاتی کام ہنوز جاری ہے۔ عارف حبیب گروپ کی طرف سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر مزید 75کروڑ روپے خرچ کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں سے 25کروڑ ایکوئٹی اور 50کروڑ قرض کے طور پر لگائے جائیں گے۔ 

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -