موٹروے زیادتی کیس، وزارت داخلہ کی قائمہ کمیٹی کا نوٹس، سزا دینے سے ہی ایسے واقعات رک سکتے ہیں: رحمان ملک

موٹروے زیادتی کیس، وزارت داخلہ کی قائمہ کمیٹی کا نوٹس، سزا دینے سے ہی ایسے ...
موٹروے زیادتی کیس، وزارت داخلہ کی قائمہ کمیٹی کا نوٹس، سزا دینے سے ہی ایسے واقعات رک سکتے ہیں: رحمان ملک

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹررحمان ملک کی زیر صدار پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی طرف سے 27 جولائی2020 کو ایوان بالاء کے اجلاس میں متعارف کرائے گئے اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام کا بل 2020، سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے 27 جولائی2020 کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020،سینیٹر سسی پلیجو کے 10 جنوری2020 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ سندھ میں رہنے والے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ کے غیر قانونی اجراء، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی جانب سے 22 جولائی 2020 کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے سی ڈی اے کی جانب سے مساجد کو شہید کرنے، قائمہ کمیٹی کی 13 اگست2020 کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں نادرا میں ایف آئی اے اور امیگریشن کی مدد سے ڈیٹا بیس قائم کرنے کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے 30 جون2020 کو ریفر کی گئی گاڑیوں کی چوری کے متعلق عوامی عرضداشت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام کا بل 2020 اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان بلوں میں مزید ترمیم کی ضروت ہے اور محرک بل نے کہا کہ وہ ان کو واپس لے کر ترمیم کے نیاڈرافٹ کمیٹی میں پیش کریں گے جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔

 قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لیفٹینٹ ناصر خالد و دیگر شہدا کی شہادت، سابق فاٹا کی مہمند ایجنسی کی کان میں دھماکے اور سیلاب کے دوران جابحق ہونے والے افراد کے لئے دعائے مغفرت کی اور قائمہ کمیٹی نے وزیرِداخلہ اعجاز شاہ کے بھائیوں کی وفات پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت بھی کی۔ قائمہ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وبربریت اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلاف ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے بھارتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے عاشورہ جلوسوں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قرار داد بھی پاس کی۔  

  چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا ک ایک بڑے عرصے کے بعد محرم الحرام امن و امان سے گزرا ہے۔وزارت داخلہ کو اس حوالے سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔قا ئمہ کمیٹی نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک قرار داد بھی پاس کی۔قائمہ کمیٹی داخلہ نے وزارت داخلہ اورملک میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کومحرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر شاباش د ی۔ انہوں نے کہا کہ محدود ذرائع، مشکل حالات اور شرپسند عناصر کیطرف سے دہشت گردی کے خطرات کے باوجود امن و امان برقرار رکھنا قابل ستائش ہے۔ قائمہ کمیٹی امن کمیٹیوں اور مذہبی اسکالرز کو بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے غیر ملکیوں کو خلاف قانون ویزہ اجرا کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے غیرملکیوں کو خلاف ضابطہ ویزوں کے اجراء میں ملوث نادرا ملازمین کو قانون کے کہٹرے میں لانے کی ہدایت کی اور وزارت داخلہ کو کہا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر قانونی غیرملکیوں کو فوری ملک بدر کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ غیرملکی بغیر ویزے کے پاکستان میں آزاد پھیر رہے ہیں۔قانون کے مطابق غیر قانونی غیرملکیوں کو تحویل میں لے کر قانونی سزا کے بعد ملک بدر کرنا ہوتا ہے۔کمیٹی نے غیرملکیوں کو خلاف قانون ویزوں کی اجراء پر ایک قرارداد بھی منظور کی۔قرارداد میں وزارت داخلہ سے ملوث افراد کو سخت سزا دینے کی تجویز دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب غیر ملکیوں کا ویزا ختم ہو جاتا ہے تو ان کو بروقت واپس چلے جانا چاہیے۔وزارت داخلہ نے غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 6 ہزار افراد کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کمیٹی اس کو سراہتی ہے۔

سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ ملک بھر اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بھر مار سے سیکورٹی و دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں یہ انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کراچی میں غیر قانونی غیر ملکیوں کاتعداد میں اضافہ ہو چکا ہے اور دس لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکی رہائش پذیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل انتہائی ضروری ہے۔

 قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موٹر وے پر رونما ہونے والے زیادتی کے کیس کا سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہے۔ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ سزا دینے سے ہی اس طرح کے واقعات روک سکتے ہیں۔

 سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کے علاقہ ہمک میں سی ڈی اے نے ایک مسجد شہید کر دیا ہے اس علاقے میں عدالت کے حکم پر 47 غیر قانونی قابضین جگہوں کی نشاندہی کی گئی مسجد کے علاوہ کہیں ایکشن نہیں لیا گیا۔  جس پر قائمہ کمیٹی نے مسجد کو شہید نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کر لی۔

 کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین، سردار محمد شفیق ترین، رانا مقبول احمد، حاجی مومن خان آفریدی، سسی پلیجو اور پروفیسر ساجد میر کے علاوہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شیر عالم مسعود، چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقات، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے، ڈی جی نادرا، ایس پی راولپنڈی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ 

مزید :

قومی -