حرمین شریفین کے تحفظ کی خاطر تیار ،یمن جنگ کا حصہ بننے سے انکار

حرمین شریفین کے تحفظ کی خاطر تیار ،یمن جنگ کا حصہ بننے سے انکار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ،اے این این) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کی صورتحال پر12نکاتی قرارداد متفقہ طور پرمنظو ر کرلی گئی ہے جس میں حکومت پرزوردیاہے کہ تنازعے میں فریق بننے کے بجائے اس کے حل کیلئے اقوام متحدہ اور او آئی سی میں سرگرم سفارتی کردار ادا کر ے کیونکہ جنگ کا حصہ بننے سے پاکستان بحران میں پھنس جائے گا جبکہ قرارادمیں ناگزیرصورتحال میں حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پاکستان کے سب سے آگے کھڑے ہونے کے عزم کااعادہ ،بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ سے یمن میں امن کیلئے کوششیں مزید تیز کرنے کی اپیل،شورش زدہ ملک سے پاکستانی شہریوں کے انخلا ء کیلئے حکومتی اقدامات کی تعریف ،تعاون کرنے پرچین سے اظہارتشکر بھی کیاگیاہے ،حکومت اورتحریک انصاف کے مسودوں کو ملا کر تیار کی گئی 12نکاتی قراداد وزیر خزانہ سحق ڈارنے پیش کی جبکہ ارکان اسمبلی نے متقفہ قرار داد کی منظوری پر وزیر اعظم کو مبارکباددیجمعرات کوپارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت شروع ہوا۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے یمن کی صورتحال سے متعلق 12نکاتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ قرارداد ایوان میں موجود جماعتوں کے نمائندوں کے اتفاقِ رائے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ایوان نے قرارداد کی متفقہ طورپرمنظوری دے دی ۔قراردادمیں کہا گیا ہے کہ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ قرارداد میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان یمن کے معاملے پر غیر جانبدار رہے اور وہاں فوری جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی میں کردار ادا کرے تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس عزم کو بھی دہرایا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت یا حرمین شریفین کو کسی قسم کے خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورت حال میں واضح طور پر سعودی عرب کی حمایت کی جائے گی اور یہ تائید کی جاتی ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور حرمین شریفین کو کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ پارلیمان کے ارکان نے یمن میں پھنسے افراد کی مشکلات اور وہاں کی سکیورٹی صورت حال اور اس کے خطے کی سلامتی اور امن پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن کی صورت حال پورے خطے میں شورش پھیلنے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ ایوان وہاں بحالی امن کیلیے کی جانے والی علاقائی اور عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اس کے علاوہ پارلیمان نے یمن میں قیام امن کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں کے جاری رہنے اور مسلم ممالک کے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ قرارداد میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ یمن میں موجود گروہ اپنے اختلافات پرامن طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے جبکہ بین لاقوامی برادری اور مسلم امہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔ متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں حکومت پاکستان کی جانب سے یمن سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا گیا اور خصوصا ہمسایہ ملک چین کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ سرکاری ریڈیوکے مطابق اس سے پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر سردارایازصادق کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں یمن کے بحران کے بارے میں قرارداد کا مسودہ تیار کیا گیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے چھ اپریل کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا اس اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے تین روز تک یمن کی صورت حال میں پاکستان کے متوقع کردار پر بحث کی ۔

مزید :

صفحہ اول -