جامعہ کراچی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ابوبکر احمد حلیم

جامعہ کراچی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ابوبکر احمد حلیم

  



پروفیسر ابوبکر احمد حلیم کا شمار قیام پاکستان سے پہلے برصغیر میں اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں علم و ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت اور ان کی زندگی کا مقصد اس آبشار کی مانند تھا جو کسی پہاڑ سے پھوٹے ہوئے چشمے سے ہوتی ہے۔ جو جدھر اور جس سمت جاتی ہے ادھر پھول کھلا دیتی ہے۔ پروفیسر ابوبکر احمد حلیم جنہیں ابا حلیم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جس جگہ رہے جس مقام پر رہے۔ علم و ادب کی آباری کرتے رہے وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ پروفیسر ابوبکر احمد حلیم یکم مارچ 1897ء بہار کے ضلع گیا کے گاؤں ارکی میں پیدا ہوئے۔14سال کی عمر میں آپ نے میٹرک گیا سے کیا اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے۔ وہاں پر آپ نے کیمبرج یونیورسٹی سے بی آے آنرز اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی۔1923ء میں جامعہ علی گڑھ میں بحیثیت پروفیسر تاریخ و سیاسیات اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اپنی نمایاں اہلیت اور قابلیت کے سبب بہت جلد ترقی کرتے ہوئے صدر شعبہ کے عہدے پر فائز ہوئے بعدازاں پر وائس چانسلر کے منصب پر فائز ہوئے۔1942ء سے 1943ء تک ہندوستان کے انٹر یونیورسٹی بورڈ کے چیئرمین رہے۔1940ء میں پونا میں آل انڈیا مسلم لیگ ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت اسلامی تاریخ و ثقافت کے موضوع پر جو اجلاس ہوا اس کی صدارت بھی آپ ہی نے کی تھی۔

پروفیسر ابوبکر احمد حلیم کی قابلیت سے قائداعظمؒ بھی بڑے متاثر تھے۔ قائداعظمؒ نے جب علی گڑھ یونیورسٹی کا دورہ کیا تو پروفیسر ابوبکر احمد حلیم سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران پروفیسر صاحب نے قائداعظمؒ سے کہا کہ جناب آپ میں اور مجھ میں ایک قدر مشترک ہے کہ آپ تاریخ بنا رہے ہیں اور میں تاریخ پڑھا رہا ہوں۔1944ء میں پروفیسر صاحب نے جب یونیورسٹی سے علیحدگی اختیار کی تو قائداعظم8 نے ان کو اپنا قانونی مشیر بنایا۔آپ نے اس دوران مسلم لیگ کے لئے سرگرمی سے کام کیا۔ چنانچہ 1945-46ء میں متحدہ ہندوستان میں جوالیکشن ہوئے اس میں آپ نے مسلم لیگ کی طرف سے حصہ لے کر شاندار طریقے سے کامیابی حاصل کی۔ آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پیغام کو ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچانے کا کام تند ہی سے کیا۔ جب پیر الٰہی بخش (مرحوم) نے سندھ میں کراچی کے اندر سندھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تو انہوں نے اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لئے پروفیسر ابوبکر احمد حلیم کا انتخاب کیا، چنانچہ 1947ء سے 1951ء تک آپ سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر رہے۔ بعد ازاں جب سندھ یونیورسٹی حیدرآباد منتقل ہو گئی تو کراچی میں دوسری یونیورسٹی کراچی یونیورسٹی کے نام سے قائم کی گئی اس جامعہ کے بھی آپ پہلے وائس چانسلر بنائے گئے۔

یہ یونیورسٹی جس وقت قائم ہوئی تھی اس وقت یہ حال تھا کہ نہ دفتر تھا اور نہ ہی عملہ پورا تھا، لیکن اس ہستی نے اس وقت بھی ایثار محنت اور دیانت سے کام لیتے ہوئے اپنی خدمات جاری رکھیں، کئی ماہ تک اپنے گھر کا برآمدہ دفتر کے طور پر استعمال کرتے رہے ٹائپ رائٹر بھی ماہانہ کرائے پر لیا گیا۔ طباعت وغیرہ کا کام کچھ ادھار اور کچھ نقد چلتا رہا غرض یہ آغاز تھا ملک کی اس یونیورسٹی کا جس کی موجودہ عظمت و وسعت دیکھنے کے بعد اس کے ابتدائی دور کی مشکلات اور مسائل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس ہستی نے اس وقت بھی ایثار محنت، خلوص اور دیانت سے اس جامعہ کو خوب سے خوب تر بنانے کے لئے کام کیا۔ آپ ہی کے دورِ وائس چانسلری میں برصغیر پاک و ہند اور یورپ و امریکہ کے نامور محقیقین و ماہرین تعلیم کو یونیورسٹی میں پڑھانے کے لئے رکھا گیا۔ ان میں سے چند کے اسم گرامی درج ذیل ہیں۔ ڈاکٹر محمود حسین خان (مرحوم) سربراہ شعبہ تاریخ عمومی، ڈاکٹر امیر حسن صدیقی (مرحوم) سربراہ شعبہ تاریخ اسلام، ڈاکٹر ایم ایم احمد سربراہ شعبہ فلسفہ، ڈاکٹر فلپ سی، نیومین (Dr. Philp C. Newman) سربراہ شعبہ معاشیات و تجارت، ڈاکٹر آسکر شمیڈر (Dr. Oskar Schmieder) سربراہ شعبہ جغرافیہ، سلیمان محمد کیرا والا سربراہ شعبہ ریاضی، ڈاکٹر جارج انٹانوف (Dr. George Antonoff) سربراہ شعبہ کیمیا، ڈاکٹر مجتبیٰ کریم سربراہ شعبہ طبیعات، ڈاکٹر محمد افضال حسین قادری سربراہ شعبہ حیوانیات اور ڈاکٹر ایل، جی، جی، وارن (Dr. L.G.G. Warne) سربراہ شعبہ نباتیات تھے۔

ڈاکٹر مولوی عبدالحق (مرحوم) کو اعزازی پروفیسر کے طور پر رکھا گیا اور وہی اردو کے لئے پروفیسروں اور ریڈروں کی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، پروفیسر شریف المجاہد اور بھی بہت سے نامور محقیقین تاریخ داں اس جامعہ میں پروفیسر ابوبکر احمد حلیم کے دور میں داخل ہوئے۔ آپ ہی کے دور میں موجودہ جگہ پر کراچی یونیورسٹی کے لئے اراضی حاصل کی گئی تھی۔ آپ 1951ء سے 1957ء تک جامعہ کراچی کے وائس چانسلر رہے۔ آپ نے دن رات محنت کر کے اس جامعہ کو ممتاز مقام دلوانے کی بھرپور کوشش کی، علاوہ ازیں 1948ء سے 1974ء تک کونسل آف انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیرز کے چیئرمین رہے آپ 1949ء سے مؤتمر عالم اسلامی پاکستان شاخ کے بانی رکن تھے اور آخر وقت تک مختلف حیثیتوں سے خدمت کرتے رہے 1949ء میں ہونے والی پہلی اسلامی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی علم وادب کی اس قندیل کی زندگی کا باب 20اپریل 1975ء کو دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں بند ہو گیا۔ آپ کی نماز جنازہ رحمانیہ مسجد میں ادا کی گئی۔ سوسائٹی کے قبرستان میں آپ کی تدفین کی گئی۔

مزید : کالم