معاشی اور جوہری دفاع لازم و ملزوم

معاشی اور جوہری دفاع لازم و ملزوم
معاشی اور جوہری دفاع لازم و ملزوم

  

ایک اخباری خبر کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امریکی کانگریس کی ایک سماعت کے دوران امریکہ کے ہتھیاروں پر ضابطے اور بین الاقوامی سلامتی کی انڈر سیکرٹری ’’روزگوٹ موئلر‘‘ نے سینٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی کے لئے جو سینٹر آف ایکسی لینس اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا ہے، وہ نہایت ہی بہتر انداز میں کام کررہا ہے۔یہ سب تو ٹھیک ہے کہ پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی سلامتی کے لئے ایک فول پروف نظام وضع کیا ہے، جس پر امریکی انتظامیہ اور بین الاقوامی تنظیم آئی اے ای اے نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس کی کارکردگی کو سراہا ہے، لیکن اگر ہم اپنے ملکی حالات کا جائزہ لیں تو ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے، بلکہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے کہ کیا ملک کا معاشی دفاع اس کے جوہری اثاثوں کے دفاع سے زیادہ اہم نہیں ہے؟

اس سوال کا جواب کچھ مشکل نہیں ہے، لیکن اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں کچھ حقائق کا جائزہ لینا پڑے گا۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ سوویت یونین جو ایک سپرپاور تھا اور ہر طرح کے جوہری اور روایتی ہتھیاروں سے لیس تھا۔ بکھر کر رہ گیا اور اس کے تمام جوہری ہتھیار اپنی تمام تر ہلاکت خیزیوں کے باوجود اپنے محفوظ مقامات پر دھرے کے دھرے رہ گئے اور ایک سپرپاور کا شیرازہ بکھر گیا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ اس کی معیشت بالکل بیٹھ چکی تھی اور اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ سوویت یونین اور اس کی افواج کا بوجھ اٹھا سکے ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین مختلف ریاستوں میں بٹ گیا اور اس کے جوہری ہتھیارسجے کے سجے رہ گئے۔ اس سے ہم یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ ایک عظیم سپرپاور جس کی دفاعی اور جوہری صلاحیت پاکستان سے کئی گنا بڑی تھی،اپنی معیشت کے دم نکل جانے کی وجہ سے اس کے یہ اثاثے اس کے کسی کام نہ آ سکے اور وہ غیر محفوظ ہو گیا۔۔۔تو خاکم بدہن ہمارا ملک اپنی ڈوبتی اور نہایت ابتری میں مبتلا معیشت کے ساتھ کِس طرح ان اثاثوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے؟

ہماری معیشت کی مثال ایک ایسے مریض جیسی ہے، جس کو بہت سی جونکیں چپکی ہوئی ہوں اور مسلسل اس کا خون چوس رہی ہوں، جس سے اس کے جسم میں خون کی شدید کمی واقع ہو رہی ہو ۔ہم انتہائی مہنگے داموں بعض اوقات غلامانہ شرائط پر قرض اٹھا کر اس کو خون کی بوتلیں لگواتے ہیں، جو یہ چپکی ہوئی جونکیں پھر چوس لیتی ہیں، نیز یہ کہ جسم کا اپنا خون پیدا کرنے کا عمل بھی متاثر ہو چکا ہے ،اس کی اس صلاحیت کو بھی رفتہ رفتہ کم کیا جا رہا ہے ،اس کی یہ صلاحیت بھی مطلوبہ مقدار میں خون پیدا نہیں کر رہی ہے۔یعنی ہماری معیشت کو کرپشن (جونکیں) نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، ان جونکوں کی شناخت ہم کچھ اس طرح سے کر سکتے ہیں۔۔۔ سیاسی جونکیں، انتظامی جونکیں اور کچھ ادارہ جاتی جونکیں ہیں جو مسلسل ہماری معیشت کا خون چوس رہی ہیں۔دوسری طرف ہم اپنی معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بدانتظامی اور بدنیتی کی وجہ سے ختم کرتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے صنعت انجن کا کام دیتی ہے ،اس انجن کو چلانے کے لئے ہمیں پاور (بجلی و گیس) کی صورت میں درکار ہے جو لوڈشیڈنگ پالیسی کی وجہ سے اسے نہیں مل رہی ۔ ہماری معیشت میں زراعت کا بنیادی کردار ہے۔ دیکھا جائے تو ابھی تک ہم زراعت کی وجہ سے ہی کچھ بچے ہوئے ہیں، جبکہ رواں کچھ برسوں سے زراعت کا شعبہ بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

اب تو یہ شعبہ بھی ملکی سطح پر پانی کے ذخیرہ یعنی ڈیم نہ ہونے، جدید سائنسی سہولتوں اور مشینری کے فقدان، ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں اور ان جیسے بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ باقی موازنہ تو دور کی بات یہاں صرف یہی کافی ہے کہ بھارت میں کسانوں کو سستے نرخوں پر بجلی ملتی ہے۔ ہمارے لئے یہ شرم کی بات ہے کہ ہم ایک زرعی ملک کہلانے کے باوجود انڈیا سے سبزیاں اور پھل درآمد کر رہے ہیں اور زرعی ملک ہونے کے باوجود یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ہم فوڈ سیکیورٹی کا شکار نہ ہو جائیں۔۔۔لہٰذا جب تک ہم اپنی معیشت کی پیداواری صلاحیت کو خود انحصاری تک نہیں لے کر جائیں گے، یعنی مریض کا جسم مطلوبہ مقدار میں خون پیدا نہیں کرے گا اور خون چوسنے والی جونکوں کو اتار کر نہیں پھینکا جائے گا، یہ مریض تندرست نہیں ہو گا ۔۔۔ آخر ہم کب تک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض اٹھا کر مہنگی خون کی بوتلیں اپنی معیشت کو لگواتے رہیں گے ، کیونکہ قرض لینے اور اسے ادا کرنے کی بھی ایک صلاحیت ہوتی ہے جو ہماری معیشت میں بہت ہی کم رہ گئی ہے۔ اگر ہم نے اس کا درست علاج نہ کیا تو ایک وقت آئے گا کہ ہمیں قرض کا خون ملنا بھی بند ہو جائے گا اور ہمارے پاس زندہ رہنے کے لئے اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ہمیں اپنی سلامتی کے متعلق اپنے قیمتی اثاثے فروخت کرکے یا گروی رکھ کر خون کی بوتلیں خریدنے کے لئے قرض لینا پڑے۔

جس طرح ہم نے اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لئے ایک نہایت ہی اعلیٰ معیار کا سنٹر آف ایکسی لینس تشکیل دیا ہے اور ایک نہایت ہی فول پروف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم وضع کر رکھا ہے، جس کی تعریف امریکہ اور اس سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی بھی کرتی ہے، تو ہم اپنے معاشی نظام کی سلامتی اور اس کو کرپشن سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک بہترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کیوں ترتیب دے نہیں سکتے اور معیشت کی ترقی کے لئے ایک سنٹر آف ایکسی لینس کیوں نہیں بنا سکتے، کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم اپنے معاشی دفاع کے بغیر اپنے جوہری اثاثوں کا دفاع نہیں کرسکتے۔

مزید :

کالم -