دینی مدارس کا نظامِ کار اور عصرِ حاضر کا تقاضا

دینی مدارس کا نظامِ کار اور عصرِ حاضر کا تقاضا
دینی مدارس کا نظامِ کار اور عصرِ حاضر کا تقاضا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دینِ اسلام کی حفاظت کے لئے ایک طریقہ تعلیم وتدریس کا بھی منتخب کیا ہے؛ چنانچہ اس سلسلے کی پہلی درسگاہ مسجد نبویؐ میں صفّہ کے مقام پر قائم ہوئی تھی، بعد ازاں اسی کے مطابق سرزمین مقدّس سے دنیا کے مختلف ممالک میں یہ روشنی منتقل ہوتی گئی اوردیئے سے دِیا ایسا جلا کہ اکنافِ عالم بقعۂ نُور بن گیا۔بعد ازاں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ سرزمینِ عرب کے شہر مکہ معظمہ میں واقع غارِ حرا کی چوٹی پر ناز ل ہوئی کتاب قرآن کریم عربی زبان میں ہے؛ لیکن اس کی تفہیم اور سمجھ بوجھ کے لئے دنیا میں رائج مختلف زبانوں میں دینِ اسلام کی تعلیم اور تبلیغ کا سلسلہ قائم ہوگیا جو رسول اللہ ؐکے حسبِ ارشاد وہدایت اختیار کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا رسول اللہؐ نے حضرت زیدؓ کو عبرانی زبان سیکھنے کے لیے اور حضرت سلمان فارسیؓ کو فارسی زبان سکھلانے پر مامور کیا تھا اور سیدنا رسول اکرم ﷺ نے عربی زبان کے علاوہ فارسی اور دیگر زبانوں میں بھی گفتگو اور حدیث بیان فرمائی تھی اور آپﷺ دنیا کی مختلف زبانوں سے واقف تھے۔

ان حقائق کی روشنی میں برصغیرِ پاک وہند کی تاریخ شاہد ہے کہ اس خطے میں ایک ہزار سال تک مسلم حکمرانوں کے دور میں فارسی زبان ذریعۂ تعلیم وتبلیغ رہی ہے حتی کہ قرآن کریم کا پہلا ترجمہ فارسی زبان میں ہوا ۔بعد ازاں اُردو زبان میں منتقل ہوا تھا، پھر تعلیم وتدریس کے لئے جو نصاب مرتب کیا گیا اس کی اکثر کتب عربی زبان میں ہیں؛ نیز تقسیم ہند کے بعد جو دینی مدارس پاکستان میں قائم ہوئے ان کے نصاب تعلیم میں سے چند کتب کے ردّ وبدل کے بعد اسی قدیم درسِ نظامی پر انحصار ضروری قرار دیا گیا اور عصرِ حاضر میں اس کی افادیت پر توجہ دینے کے بجائے دینی مدارس کی بلڈنگوں کی جدید تعمیرات ہی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں؛ چنانچہ’’ گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے‘‘ کی مثال صادق آگئی ہے کہ دینِ اسلام کی بابت طلبہ میں جو صلاحیت اور استعدار اُبھر کر سامنے آنی چاہیئے تھی وہ رفتہ رفتہ ناگفتہ بہ صورت اختیار کرتی گئی اور نوبت بایں رسید کہ اب دینی مدارس ہی ہدفِ تنقید بن گئے ہیں اور دینِ اسلام کی تعلیم وتدریس اور تبلیغ واشاعت متأثر ہونے کے ساتھ علمائے کرام کی مقبولیت بھی مجروح ہوئی ہے جس کے ازالے کی بھرپور کوشش ہونی چاہیئے۔

جہاں تک دینی مدارس کے نصابِ تعلیم اور اس کے نظامِ کار کا تعلق ہے تو مختلف اوقات میں مہتمم حضرات کی جانب سے ایسے اجلاس منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں نصابِ تعلیم کی تبدیلی موضوعِ سخن رہتی ہے؛ لیکن کوئی عملی اقدام نظر نواز نہیں ہوسکا جبکہ دینی مدارس میں قرآن کریم کی مکمل تفسیر ، سیرت النبیﷺاور تاریخِ اسلام جیسے اہم مضامین پر مشتمل کتب شامل تدریس نہیں ہیں ؛چنانچہ اسی سلسلے میں مشاورت کے لئے گذشتہ دِنوں جامعہ خالد بن ولیدؓ متصل وہاڑی میں ادارے کے مہتمم مولانا ظفر احمد قاسم صاحب نے مجلس شورٰی کا اہم اجلاس طلب کیا جس میں شیخ المشائخ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا مفتی محمد عبداللہ جامعہ خیر المدارس ملتان، حاجی دوست محمد کھچی ، صوفی دین محمد گوجرہ حاجی شبیر احمد وہاڑی اور حاجی عبد الماجد پراچہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی مجھے بھی دعوت دی گئی تھی ، شورٰی کے اجلاس میں جامعہ خالد بن ولیدؓ کی کارکردگی اور آیندہ لائحۂ عمل کا خاکہ پیش ہوا تھا ،رات بعد نماز عشاء عظیم اجتماع میں جامعہ کے ہونہار اور اعلیٰ صلاحیتوں سے متصف متعلم شکیل احمد نے عربی فصاحت وبلاغت میں فی البدیہہ خطاب کیا اس کے لب ولہجے سے کسی پنجابی کا نہیں ؛بلکہ عرب باشندے کا گمان ہورہا تھا ۔

اس خطاب کے بعدمیرا رہوارِ تصور دارالعلوم دیوبند کے اس واقعے کی جانب مڑگیا جب رشید رضا مِصری ایڈیٹر المنار نے شیخ الحدیث علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ سے عربی زبان میں فی البدیہہ خیر مقدمی کلمات سنے اور ان سے فصاحت وبلاغت سے آراستہ گفتگو سن کر کہا تھا کہ اگر میں ان عظیم شخصیات سے ملاقات کا اعزاز پائے بغیر ہندوستان سے واپس لوٹ جاتا تو ہندوستان کی پیشانی پر جہالت کدے کی تختی آویزاں کرنے پر مجبور ہوجاتا ، کچھ اسی نوعیت کا سماں یہاں بھی جلوہ گر تھا، مَیں بھی اگر عربی زبان کے علاوہ انگریزی اور اردو میں دو لڑکوں کی شائستہ اور شستہ گفتگو کی سماعت نہ کرتا تو علم وادراک کے اس گلشن سدا بہار کو خزاں رسیدہ اجاڑ قرار دیتا اور اس مثالی درسگاہ کے سربراہ مولانا ظفر احمد قاسم اور ان کے رفقاء واساتذہ کرام کی خدمت میں زبردست خراج تحسین و آفریں شاید پیش نہ کرسکتا۔

بہر حال پاکستان کے دینی مدارس کے مہتمم صاحبان اگر سیاسی پگڈنڈیوں پر چلنے کے بجائے اپنی سرگرمیاں اور توجہات صرف طلباء کی علمی وتحقیقی صلاحیتیں اُجاگر کرنے پر مرکوز کردیں اور سالانہ حسنِ صوت وآہنگ (حسنِ قرا ء ت اور حسنِ اذان) کے مظاہرے اور مقابلے کے ساتھ ساتھ حسنِ کتابت، حسنِ خطابت، حسنِ تصنیف اور حسنِ مضامین نویسی کا مظاہرہ اور مقابلہ کرائیں تو چند برس میں دینی مدارس میں اچھے مصنفوں ، اچھے خطیبوں ، اچھے مضمون نگاروں اور اچھے مدرسین کی ایک تربیت یافتہ کھیپ معرضِ وجود میں آسکے گی، نیز دینی مدارس کے طلباء پر پابندی عائد ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت کے رہنما کے استقبال کے لئے ہرگز اپنے مدارس کی حدود سے باہر نہ جائیں، سیاسی سرگرمیوں میں انہیں حصولِ تعلیم کے بعد حصہ لینا چاہیے جیسا کہ استاد محتر م مولانا خیر محمد جالندھریؒ خلیفہ مجاز حضرت موانا اشرف علی تھانوی ؒ نے 1942ء کو جب بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جالندھر میں تحریکِ قیام پاکستان کو مقبول اور ہمہ گیر بنانے کے سلسلے میں تشریف لائے تھے تو مدرسے کے طلباء پر جالندھر ریلوے سٹیشن پر استقبال کے لئے جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس پابندی کے بعدراقم الحروف نے اپنے دیگر ساتھیوں کی رفاقت میں مدرسہ خیر المدارس کے اندرون شہر واقع مقام سے متصل ریلوے روڈ کے کنارے پر کھڑے ہوکر قائد اعظم کا استقبال کیا اور ہاتھوں کے اشارے سے ہمارے سلام کے جواب میں قائداعظم نے بھی ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا تھا؛ جبکہ استاد محترم نے ریلوے اسٹیشن پر جا کر استقبال کرنے والے طلباء کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا حالانکہ استاد محترم مولانا خیر محمد صاحب ؒ تو تھانوی گروپ سے تعلق رکھتے تھے؛ بایں ہمہ وہ دینی مدرسے کے طلباء کو سیاسی سرگرمیوں میں وقت ضائع کرنے کے خلاف اور اپنی توجہ اور توانائیاں دینِ اسلام کی تعلیم پر مرکوز رکھنے کے مؤید اور کوشاں تھے ۔

دینی مدارس کے سربراہوں خصوصاً وفاق المدارس کے قائدین کو اپنی موجودہ تعلیمی اور سیاسی ترجیحات پر نظر ثانی کرکے اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مؤثر اور مفید مطلب اقدامات کرکے دینی مدارس کو اسلامی تعلیمات کا ماڈل بناکر گمراہ کن پروپیگنڈہ بازوں کو منہ توڑ اور مسکت جواب دینا چاہیے اور دورِ حاضر کی سیاسی آلودگی سے اپنے آپ کو اور دینی مدارس کے طلباء کو دامن کش رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مزید : کالم