دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چلتی ٹرین میں واٹس ایپ کے ذریعے بچے کی پیدائش

دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چلتی ٹرین میں واٹس ایپ کے ذریعے بچے کی پیدائش
دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چلتی ٹرین میں واٹس ایپ کے ذریعے بچے کی پیدائش

  

ناگپور (نیوز ڈیسک) لوگ سوشل میڈیا کا استعمال عام طور پر تو صرف تفریح طبع کے لئے ہی کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار یہ سہولت کسی کی زندگی بچانے جیسے اہم ترین کام میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ بھارت میں ایک ایسی ہی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب چلتی ریل گاڑی میں ایک خاتون درد زہ میں مبتلاہوگئی اور معاملہ پیچیدہ ہونے پر ماں اور بچے دونوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ خوش قسمتی سے اسی ڈبے میں ایم بی بی ایس کا ایک طالبعلم موجود تھا جس نے فوری طور پر واٹس ایپ کے زریعے خاتون کی نازک حالت اپنے سینئرز کو دکھائی اور پھر ان سے ہدایات لے کر بچے کی بخریت پیدائش کو ممکن بنایا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق خاتون کی مدد کرنے والا نوجوان وپین خادزے گورنمنٹ کالج و ہسپتال ناگپور میں ایم بی بی ایس فائنل ائیرکا طالب علم ہے۔ وہ ابھی مستند ڈاکٹر نہیں بنا تاہم اس نے واٹس ایپ کی مدد سے 24 سالہ خاتون چتر لیکھا کی پیچیدہ ڈلیوری کا عمل کامیابی سے مکمل کروایا۔

’اس شخص نے سوشل میڈیا پر مجھے پیغام بھیجا کہ تمہاری گردن پر یہ چیز نظر آرہی ہے، ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے ایسی بات کہہ دی کہ کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا‘ سوشل میڈیا پر ایک پیغام نے معروف خاتون صحافی کی زندگی بچالی

خادزے نے میڈیا سے بت کرتے ہوئے بتایا کہ ریل گاڑی ناگ پور سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی جب چترا لیکھا کے خاوند نے زنجیر کھینچ کر اسے جنکشن کے قریب روک دیا۔ ٹکٹ کلکٹر اور گارڈ گاڑی میں موجود کسی ڈاکٹر کی تلاش میں تھے۔ وپین کا کہنا ہے کہ پہلے وہ خاموش رہے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ شاید کوئی تجربہ کار ڈاکٹر مل جائے لیکن جب کسی قسم کی طبی امداد موصول نہ ہوئی تو انہوں نے مدد کی پیشکش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ چترا لیکھا کے پاس پہنچے تو وہ شدید درد میں مبتلا تھیں اور ان کا خون ضائع ہورہا تھا۔ وہاں موجود خواتین چترا لیکھا کی مدد کی کوشش کررہی تھیں لیکن چونکہ یہ ایک نارمل کیس نہیں تھا لہٰذا وہ کچھ نہیں کرپارہی تھیں۔

وپین نے یہ صورتحال دیکھتے ہوئے واٹس ایپ پر سینئر ڈاکٹروں کے ایک گروپ سے رابطہ کیا۔ ایک سینئر ڈاکٹر شیخہ ملک نے انہیں فون پر ہدایات دینا شروع کردیں۔ وپین نے دی گئی ہدایات کے مطابق بچے کی پیدائش میں ہر ممکن مدد فراہم کی اور خوش قسمتی سے بچے کی پیدائش بخیروعافیت ہوگئی۔ جب ریل گاڑی ناگ پور سٹیشن پر پہنچی تو وہاں خواتین ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پہلے ہی منتظر تھی جنہوں نے چتر الیکھا کو مزید طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -