مسکراہٹیں بکھیرنے والا جاوید کوڈو کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

مسکراہٹیں بکھیرنے والا جاوید کوڈو کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) شوبزانڈسٹری میں 35سال تک عوام کو ہنسانے والے اپنے وقت کے معروف فنکار’جاوید کوڈو‘ آج کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور برین ہیمرج ، ہارٹ اٹیک اور فالج کے حملے کے بعد اب مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں اور مالی پریشانی کی وجہ سے ادویات کے استعمال میں بھی ناغہ ہوجاتاہے۔ کرائے کے گھرکی دوسری منزل پر مقیم ہیں جہاں واش روم تک جانے کے لیے بیٹے کے کندھوں کے محتاج ہیں ، اگر کوئی ان کی مالی معاونت کرنا چاہے تو ان کے موبائل فون نمبر 03004202389پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے جاوید کوڈو نے بتایاکہ ’میں عوام اورحکمرانوں سے پریشان ہوں کہ کسی بھی فنکار، کھلاڑی ، رائٹر یا کسی کو کیوں کہنا پڑتاہے کہ میری مدد کریں، کسی کو اس حدتک پہنچنے سے پہلے بچائیں ، عوام فنکار کیلئے ایک ایک روپیہ بھی ڈالیں تو سترہ کروڑ روپے فنکار کے حصے میں آتاہے تاکہ کسی کو کسی کی طرف دیکھنا نہ پڑے اورپنتیس سال بعد بھی بچے کو بھرتی کرانے کے لیے سفارشیں نہ کرانی پڑیں۔

کرآئیں۔اْنہوں نے بتایاکہ بھارت سے پیشکش آئی لیکن ٹھکرادی تھی، دلیپ کمار کی چارفلمیں تھیں اور چار لاکھ روپے دے رہے تھے، بابری مسجد کی شہادت اور مسلمان ہونے کی وجہ سے پیسوں کو نہیں دیکھااورآج پاکستانی فنکار وں کی حالت یہ ہے ، ایسے کسی کی مدد کروکہ عزت مجروح نہ ہو، میں دل کا مریض ہوں ، برین ہیمرج کا شکاراور فالج کاحملہ بھی ہوچکا ہے، معذور ہوچکاہوں، بیٹا باتھ روم سے لے کر آتا جاتاہے، بیٹے کی نوکری کیلئے خواجہ سلمان رفیق نے یقین دہانی کرائی تھی اور پھر فون پر بتانے کو بھی کہالیکن مسڈ کال بھی نہیں آئی۔ ان کاکہناتھاکہ ڈائریکٹر وغیرہ بلاتو لیتے ہیں ، سلام دعا کیلئے لیکن کام نہیں ہوتا، فنکار تب مرتاہے جب اس سے اس کاکام چھین لیا جائے ، میرے جیسے کئی فنکار مرتے ہیں لیکن اپیل ہے کہ کوئی اور نہ مرے ،زندگی کے کسی حصے میں مجھے کوئی پیار کیا ہے تو اس پیار کا اظہار پردے میں کریں۔

مزید :

کلچر -