خالدہ خانم اور رخسانہ نور کو الوداع

خالدہ خانم اور رخسانہ نور کو الوداع

  

خالدہ خانم اور رخسانہ نور کو جنوری کے آغاز میں پاکستان میں ہی رخصت کر دیا تھا لیکن انہیں باقاعدہ الوداع کرتے کرتے اب اپریل شروع ہو چکا ہے۔ چاہت گہری ہو تو جدائی کا گھاؤ بھی گہرا ہوتا ہے۔ اب گھاؤبھرنے کا مزید انتظار نہیں کرنا اور اظہار تو بہر حال کرنا ہی ہے چاہے تشنہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کیفیت پر میں نے ایک دفعہ لکھا تھا۔

پہلے کیوں بھلا ٹوٹ کے چاہا تھا اسے

کچھ تو تیرے جڑنے میں اب وقت لگے گا

سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں ہی میری انتہائی پسندیدہ ہستیاں تھیں خالدہ خانم میری ساس تھیں اور رخسانہ نور میری منہ بولی بہن۔ ہم اپنی سب سے چھوٹی بیٹی بسمہ کی شادی کرنے دسمبر میں لاہور گئے تھے اور جنوری کے آغاز میں اس نیک کام کی تکمیل ہوئی اس کی جتنی خوشی ہوئی اس کے فوراً بعد ان دو ہستیوں کی رحلت اتنا ہی اداس کر گئی۔ ان دونوں سے میرا خون کا رشتہ نہیں تھا لیکن ان کے وداع کا جھٹکا قریبی خونی، رشتوں سے زیادہ محسوس ہوا۔

پہلے بیان میری ساس خالدہ خانم کا۔۔۔ خاندان کے سب لوگوں کی طرح میں نے بھی ان سے سیکھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی کو کیسے مسکرا کر سہا جا سکتا ہے۔ پہلے تو الجھن ہوتی تھی کہ شاید وہ حد سے زیادہ بے حس ہیں لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر پتہ چلتا کہ وہ حساس تو بہت ہیں لیکن سب دکھوں کو اپنے اندر سمونے کے فن کی ماہر بھی ہیں ان کے اندر لگی جھڑی دکھائی نہ دیتی لیکن ان کی آنکھیں عموماً خشک ہوتیں اور چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوتی تھی۔ رشتے میں تو وہ ساس تھیں لیکن رویہ ان کا بے تکلف دوستوں جیسا تھا۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہر طرح کے اتار چڑھاؤ میں تعلق قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف رہتی تھیں۔ وہ کسی کے غلط رویے کے باوجود جواباً اپنا مروت بھرا سلوک جاری رکھتی تھیں۔ اگر دوسری طرف سے انتہا ہو جائے تو ان کا سخت ترین ردعمل خاموشی ہوتا لیکن میں نے انہیں محاذ کھول کر لڑائی جھگڑا کرتے نہیں دیکھا۔

جب میں ان کے خاندان کا حصہ بنا تو اس سے بہت سال پہلے میری ساس جوانی میں ہی بیوہ ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی بیگم عصمت کے والد عزیز الرحمن کو کبھی نہیں دیکھا اس لئے میری رشتے کی بات چلی تو اسے طے کرنے کا سارا معاملہ ان ہی کے ذمے تھا۔ روزنامہ ’’غریب‘‘ فیصل آباد کے لاہور میں نمائندے ایک مرزا صاحب (پورا نام بھول گیا ہوں)تھے جو لاہور پریس کلب کی پرانی بلڈنگ میں عام طور پر دوپہر کا کھانا کھانے آتے تھے جہاں ہم بھی عموماً موجود ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیگم کرشن نگر میں خواتین کے ایک ادارے’’ فیملی ویلفیئر سوسائٹی‘‘ میں کام کرتی ہیں جس کی منیجر ایک مسز شیخ ہیں جو اپنی بیٹی کے لئے رشتہ تلاش کر رہی ہیں۔ اگر آپ کی دلچسپی ہو تو میں اپنی بیگم کے ذریعے بات کروا سکتا ہوں۔ پتہ نہیں میں نے کیوں بلا سوچے سمجھے حامی بھرلی اور اس ادارے میں پہنچ گیا۔ ایک ہی نشست میں شاید میں ان کو اچھا لگا اور چند دن بعد بات کو مزید آگے بڑھانے کے لئے وہ میرے فلیٹ پر آئیں جو ریواز گارڈن میں منو بھائی کے گھر کے ساتھ والے بلاک میں واقع تھا۔ یہ مسز شیخ اصل میں خالدہ خانم تھیں جو آئندہ چل کر میری ساس بنیں ان کی ہنس مکھ طبیعت، بے تکلفانہ رویہ اور صاف شفاف بے باک گفتگو بہت متاثر کن تھی۔ اس لئے میں نے بھی ان کے ہر سوال کا سیدھا سادہ کھرا کھرا جواب دیا۔ انہوں نے جب مجھے باغبانپورہ میں اپنے گھر آنے کی دعوت دی تو میں سمجھ گیا کہ معاملہ آگے بڑھ چکا ہے لیکن ابھی لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے کو دیکھ کر پسند یا ناپسند کا اظہار کرنا باقی تھا۔ میں ان کے گھر گیا اور بمشکل ایک منٹ کے لئے ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اگلے روز مسز شیخ کی کال آئی اور میں نے بتا دیا کہ میں شادی کے لئے تیار ہوں اور ساتھ ہی انہوں نے بتا دیا کہ ان کی بیٹی عصمت نے بھی آپ کو پسند کر لیا ہے۔ اب مرحلہ باقی خاندان کا تھا۔ میری بہن جس کا نام بھی خالدہ تھا اوکاڑہ سے لڑکی کو دیکھنے آئیں جن کی رائے بھی مثبت تھی۔ میں نے پوچھا اب رشتہ طے ہو چکا ہے تو پھر شادی کی تیاری کریں۔ وہ اپنا روایتی قہقہہ لگا کر کہنے لگیں ’’بچوّ ! ابھی اصل مرحلہ باقی ہے۔‘‘ عصمت کے والد زندہ نہیں ہیں اس لئے ان کے خاندان کے تین فوجی افسروں سے توثیق ضروری تھی۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کسی بات پر بھی میری زمیندارانہ انا نہیں جاگی اور میں اس لڑکی کے حصول کے لئے سب شرطیں ماننے کے لئے تیار ہو گیا جسے صرف ایک فاصلے سے دیکھا تھا اور اس سے بات تک نہیں کی تھی۔ بلو ماموں ہمارا گھر بار دیکھنے میرے ساتھ اوکاڑہ گئے میری ہونے والی بیگم کے یہ ماموں عمر میں ان سے تھوڑا چھوٹے تھے لیکن ڈیوٹی ان کی لگی تھی۔ وہ بعد میں مجھے سرگودھا میں چھوٹے چچا میجر خلیل اور راولپنڈی میں بڑے چچا بریگیڈیئر حفیظ الرحمن اور خالو کرنل غلام مرتضیٰ کے پاس لے کر گئے اور ’’توثیق‘‘ کا یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ اس سارے کام کی انہوں نے معذرت نما وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے خاوند کے نہ ہونے کی وجہ سے میرے لئے انہیں فیصلے میں شریک کرنا ضروری تھا۔ پھر میری شادی ہوئی تو میں نے پتہ نہیں کیوں خود ہی فیصلہ کرلیا کہ بارات اوکاڑہ سے آنے کی بجائے یہیں ریواز گارڈن سے ہی آئے گی میں نے ابھی منو بھائی کے گھر کا ذکر اس لئے کیا تھا کہ میں چونکہ اکیلا قریب ہی فلیٹ میں رہتا تھا اس لئے میری بارات کی تیاری ان کے گھر میں ہوئی اور وہیں سے روانہ ہوئی۔ میرے والد علالت کے باعث نہ آ سکے لیکن میری والدہ بہن بھائی اور چند قریبی عزیز آئے کیونکہ میں نے وسیع تر برادری کو نہیں بلایا تھا۔ یہ سب میرے فیصلے تھے شاید اسی وجہ سے میرے اتنے قریبی عزیز آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میری لو میرج تھی حالانکہ میں نے اپنی ہونے والی بیوی سے شادی سے پہلے بات تک نہیں کی تھی۔ میں نے اپنے سسرالی خاندان میں شامل ہو کر جو مشاہدہ کیا اسے میں نے ’’باغبانپورہ سکول آف تھاٹ‘‘ کا نام دیا۔ اس نظریئے کا صحیح مظہر یہی خالدہ خانم تھیں۔ مصائب اور مسائل پر بددل ہو کر بے ہمتے ہونے کی بجائے ہنستے کھیلتے مشکل وقت سے گزر جانا در اصل انہی کا شیوہ تھا۔ زیر بحث موضوعات بلا شک بنیادی طور پر سنجیدہ ہوں لیکن خاندانی مجالس میں وہ ہلکا پھلکا مزاح اور لطیفہ بازی سے بھرپور رنگ اختیار کر لیتے تھے۔ ان کے دیور بریگیڈیئر حفیظ الرحمن مرحوم اور بہنوئی فدا گل مرحوم ایسے مباحث کی قیادت کرتے جہاں دوسرے بہنوئی کرنل غلام مرتضیٰ بھی اپنا حصہ بٹاتے۔ خالدہ خانم بھی ان محفلوں کے قہقہوں میں برابر شامل ہوتیں جن سے اٹھ کر جانے کو کسی کا دل نہ کرتا۔

خالدہ خانم باغبانپورہ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے اندر اپنے بیٹے شفیق الرحمن کے ساتھ رہتی تھیں، جو وہاں پڑھاتے تھے جواب اصل میں سارا انجینئروں کا خاندان بن چکا ہے۔ ان کا بڑا پوتا بلال انجینئر بن کر لاہور میں ہی جاب کر رہا ہے۔ پوتی فاطمہ انجینئرنگ میں ماسٹر کر کے آسٹریلیا میں رہ رہی ہے اور چھوٹا پوتا مومن انجینئر بننے ہی والا ہے۔انہوں نے ساری زندگی ایک ہی جاب کیا اور اتنی عمر ہونے کے باوجود چاق و چوبند تھیں۔ وہ اپنا کام نہ صرف خود کرتی تھیں، بلکہ اپنے پوتوں کے کام کرنے کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتیں۔ میں نے انہیں آج تک کسی کو کوئی کام کہتے نہیں دیکھا۔ وہ کرشن نگر میں غیر سرکاری سطح پر چلنے والے خواتین کے ایک بہت بڑے فلاحی ادارے ’’فیملی ویلفیئر‘‘ کی منیجر تھیں جن کے دائرہ کار میں ایک انڈسٹریل ہوم، انڈسٹریل سکول اور بے سہارہ لڑکیوں کا ہوسٹل شامل تھا وہیں ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی تھا لیکن انہوں نے اس کی ذمہ داری لینے کی حامی نہیں بھری، ان کا اس ادارے میں وجود ایک فرشتے جیسا تھا، جن کی وہاں اتنی مقبولیت تھی کہ وہ سارے ادارے کو سوگوار کر گئیں۔انہوں نے میری بیٹی اور اپنی نواسی بسمہ کی شادی کی رسموں کے لئے ادارے سے چند روز کی چھٹی لی۔ ایک رات وہ ہمارے لاہور والے گھر میں میری اسی بیٹی کے کمرے میں سوئیں۔ اگلے روز وہ ساتھ والے اپنے پوتے بلال کے گھر چلی گئیں۔ میری بیٹی انہیں روکتی ہی رہیں،لیکن وہ اگلے روز آنے کا وعدہ کر کے ایسی گئیں کہ دُنیا سے ہی چلی گئیں۔ اس گھر میں رات کو باتھ روم جاتے وقت کمرے میں گریں اور لکڑی کے بیڈ سے سر ٹکرایا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ان کا بیٹا شفیق اور بہو فاطمہ آسٹریلیا گئے ہوئے تھے اور جس روز ان کا واپس آنے کا پروگرام تھا اس سے دو تین روز قبل ہی وہ دُنیا سے اسی سکون سے رخصت ہو گئیں جس طرح انہوں نے کسی کو تکلیف دیئے بغیر زندگی گزاری تھی۔

اور اب ذکر رخسانہ نور کا، اسے مَیں اُس وقت سے جانتا تھا جب وہ رخسانہ آرزو تھیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے جرنلزم میں وہ مجھ سے کافی جونیئر تھیں، لیکن ڈیپارٹمنٹ کا تعلق تھا۔ مَیں امریکن سنٹر میں کام کرتا تھا جس وقت میری رخسانہ سے واقفیت شروع ہوئی۔ وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے میگزین سے وابستہ تھیں جہاں ان کی خالدہ یوسف کے ساتھ گہری دوستی تھی مجھے بالکل یاد نہیں کہ کس طرح میری آہستہ آہستہ اس سے دوستی بڑھتی گئی اور پھر ایک روز مَیں نے اسے باقاعدہ بہن بنانے کا اعلان کر دیا۔ وہ مجھے ہمیشہ ’’اظہر بھائی‘‘ کہتی تھیں۔جب وہ سید نور سے شادی کر کے رخسانہ نور بنی تو وہ پورے شہر کی بھابھی بن گئی،لیکن میں اسے ہمیشہ صرف ’’رخسانہ‘‘ کہہ کر بلاتا تھا۔ ان کی شادی سے پہلے سید نور کے ساتھ تھوڑی بہت جان پہچان موجود تھی،لیکن اس شادی کے بعد ان کے ساتھ تعلق بھی گہرا ہو گیا۔ کبھی کسی دعوت میں سید نور میرے بیوی بچوں سے ملتے تو وہ سب سے یہ کہہ کر تعارف کراتے کہ یہ سب میری فیملی کا حصہ ہیں۔ہمارے اس تعلق کی بنا پر میری تینوں بیٹیاں کنول، شاہ رخ اور بسمہ انہیں پھوپھو کہتی تھیں اور ان کی تینوں بیٹیوں عینی، نور العین اور ماہ نور کو بہنوں کی طرح سمجھتی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ میرے بچے امریکہ میں واشنگٹن میں آ گئے اور شادی ہونے کے بعد عینی امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع ریاست کیلیفورنیا، نور العین جاپان اور ماہ نور انگلینڈ چلی گئیں، تو رابطہ برائے نام رہ گیا۔ نور العین بھی اب جاپان چھوڑ کر کیلیفورنیا منتقل ہو چکی ہے۔ مَیں ذاتی طور پر بیٹیوں کو ہمیشہ برتر مقام دیتا ہوں ، شاید اللہ نے مجھ پر خاص کرم کر کے صرف بیٹیاں ہی دی ہیں لیکن مجھے لگتا تھا کہ سید نور اور رخسانہ کو ایک بیٹے کی بہت تمنا تھی، رخسانہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ بیٹے کا نام انہوں نے شازل نور رکھا جو اِس وقت ماشا اللہ کافی بڑا ہو گیا ہے۔ مَیں جو اپنے آپ کو خواتین، لڑکیوں اور بیٹیوں کے حقوق کا علمبردار سمجھتا ہوں، بیٹیوں کو ہر بات میں ترجیح دیتا ہوں تھوڑا سمجھوتہ کر کے رخسانہ کی خوشی میں اِس طرح شریک ہوا کہ مَیں نے رخسانہ نور کے بیٹے کے لئے جو خود بھی شاعرہ تھیں یہ قطعہ لکھ کر اسے تحفتہً دیا

نئی زندگی ملی مجھ کو

تجھے پا کے لگا ایسے

سمٹ آیا جہاں سارا

میری بانہوں میں جیسے

مجھے معلوم تھا وہ یہ سُن کر بہت خوش ہو گی جس کا کہنا تھا کہ اس سے اچھا تحفہ میرے لئے نہیں ہو سکتا تھا۔ فلمی شاعری لکھنے کا شوق میرا رخسانہ سے مشترک تھا۔ امجد بوبی مرحوم ہم دونوں کے پسندیدہ میوزک ڈائریکٹر تھے جن سے ہم دونوں کی برابر کی دوستی شروع ہوئی اورپھر یہ اتنی گہری ہو گئی کہ ہم تینوں بہن بھائیوں کی مثلث قائم ہو گئی۔ مجھے فلمی شاعر کے طور پر روشناس کرانے والے امجد بوبی ہی تھے،لیکن ہمارا تعلق اس پروفیشنل کام سے کہیں سوا تھا۔ ہم تینوں عموماً کسی پراجیکٹ کے بغیر مل کر ’’فری لانسنگ‘‘ کرتے تھے اور شاعری اور موسیقی کا لطف اٹھاتے تھے۔ کبھی مَیں کوئی استھائی لے کر آتا اور کبھی رخسانہ کوئی استھائی دیتی اور امجد بوبی ان کی مختلف طرزیں بنا کر سناتے۔ یہ سب کام علامہ اقبال ٹاؤن کے نرگس بلاک میں رخسانہ اور سید نور کے گھر پر ہوتا۔ کبھی سید نور بھی ہمیں دیکھتے،لیکن مداخلت نہیں کرتے۔ہم اس محفل کے اتنے شوقین ہو گئے کہ رخسانہ نے امجد بوبی کا ہارمونیم مستقل ہی اپنے گھر رکھوا لیا تاکہ انہیں لانے لے جانے کی دقت نہ ہو۔ رخسانہ کا چھوٹا دیور سید قاسم بھی اسی گھر میں رہتا تھا۔ انہی دِنوں اس سے بھی دوستی ہوئی جو آج بہت زیادہ گہری ہو چکی ہے جس سے ہفتے میں ایک بار تو ضرور فون پر بات ہوتی ہے۔ انہی دِنوں مَیں نے پہلے مہندی کی سچوئشن میں ایک استھائی لکھی۔ امجد بوبی نے اس کی بہت اچھی طرز بنائی تو فرمائش پر مَیں نے پورا گیت لکھ دیا جس کا میرے پاس اب ریکارڈ نہیں ہے البتہ استھائی کی ایک لائن شاید کچھ اس طرح تھی کہ

’’حسن پہ ایک نیا نکھار آیا چاہتا ہے‘‘

مَیں یہ سب کچھ بھول گیا تھا۔ ایک دفعہ رخسانہ نے مجھے بتایا کہ ’’اظہر بھائی! مَیں نے آپ کے لکھے ہوئے ایک گیت کو ایک فلم کے لئے استعمال کیا ہے۔ فلم ریلیز ہو چکی تھی جس کا وہ گیت بھی بہت مقبول ہو رہا تھا۔ مَیں نے جواب دیا ’’کوئی بات نہیں، آپ میری بہن ہیں آپ کو سب اختیار حاصل ہے‘‘۔ انہی دِنوں سید نور کے صائمہ سے تعلق کی افواہیں اُڑ رہی تھیں۔ رخسانہ بہت دُکھی تھیں اُس نے میرے ساتھ کبھی اس سلسلے میں اپنے دُکھ کا اظہار نہیں کیا۔ وہ صرف امجد بوبی سے تنہائی میں اس پر گفتگو کرتیں اور پھر امجد بوبی الگ سے مجھے سب کچھ بتا دیتا۔ میرے ساتھ شاید وہ ایک حجاب رکھتی تھیں اِس لئے مَیں نے بھی کبھی براہ راست اُسے نہیں کریدا۔ بعد میں جب صائمہ سے سید نور کی شادی کھل کر سامنے آ گئی تو اس نے پوری دلیری اور حقیقت پسندی سے صورت حال کا سامنا کیا۔ وہ بہت سمجھدار خاتون تھی اس نے سید نور سے سمجھوتے میں اپنی بیٹیوں کے لئے جائیداد بچائی۔ علامہ اقبال ٹاؤن والا گھر بیچ کر موہلنوال کے قریب نہر پر ’’ٹریکون ولیج‘‘ میں گھر خریدا تو اس میں بیٹیوں کا حصہ یقینی بنایا۔ اسے غالبا2002ء میں کینسر کی تشخیص ہوئی، اُس وقت ہم لوگ امریکہ آ چکے تھے اس لئے سچی بات یہ ہے کہ میں اس سے بے خبر رہا۔ چند سال پہلے اُس نے فون پر خود بتایا کہ اس کا علاج ہو رہا ہے اور یہ ’’انڈر کنٹرول‘‘ ہے۔ گزشتہ برسوں میں وہ کچھ مرتبہ امریکہ آئیں، لیکن اپنی بیٹی عینی کے ہاں کیلیفورنیا میں ہی رہتیں یا ایک آدھ مرتبہ نیو یارک تک آئیں، سال ڈیڑھ سال قبل وہ معمول کے مطابق ایک دفعہ پھر کیلیفورنیا آئی اور میرا گِلہ دور کرنے کے لئے واشنگٹن ایریا آئی، بلکہ ہمارے پاس ٹھہرنے کا وعدہ کیا۔ سارا پروگرام طے ہو چکا تھا،لیکن سفر کرنے کی بجائے وہ ہسپتال داخل ہو گئیں اور پھر بیماری کے باعث واپس لاہور چلی گئیں۔ سید نور کی فلم کا کراچی میں افتتاح پہلے سے ہی میری بیٹی کی شادی کی تاریخ والے دن کا طے ہو چکا تھا اس لئے وہ شریک نہ ہوئے۔ سید قاسم اپنی بیگم فاطمہ کے ہمراہ آئے اور رخسانہ نور کی نیک تمنائیں پہنچائیں جو گھر سے نکلنے کی سکت نہیں رکھتی تھیں۔ ہم لوگ جنوری کے دوسرے ہفتے اُس وقت اپنی بیٹی کے سسرال اور اسلام آباد میں تھے جب یہ خبر ملی کہ رخسانہ ہمیشہ کے لئے دُنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ۔ لاہور واپس پہنچ کر شعیب بن عزیز کی موجودگی میں سید نور اور سید قاسم سے اظہار افسوس کر کے اس کی رخصتی میں اپنا حصہ بٹا لیا۔تاہم اپنی مُنہ بولی بہن کو باقاعدہ الوداع کہنا باقی تھا جو اب کہہ لیا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ میری ان انتہائی پسندیدہ ہستیوں خالدہ خانم اور رخسانہ نور کو خوش رکھے گا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -