کلبھوشن کو سزا ۔۔۔اب کیا ہو گا؟

کلبھوشن کو سزا ۔۔۔اب کیا ہو گا؟

  

پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات ثابت ہونے پربھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کوسزائے موت سنا دی گئی،یہ شاید سال رواں کی سب سے بڑی خبر ہے جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور طرح طرح کے تبصرے بھی ہو رہے ہیں ۔گزشتہ سال جب پاک بھارت تعلقات کو از سر نو بہتر بنانے اور تجارتی رابطے بحال کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں تو اچانک مذکورہ بھارتی جاسوس کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی اور دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات ایک مرتبہ پھر جمود کا شکار ہو گئے ۔کلبھوشن یادیو کے خلاف ایک سال تک مقدمہ کی سماعت ہوئی جس کے بعد اسے تخریب کاری اور پاکستان کے خلاف جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ۔چونکہ یہ دفاعی امور کا اہم ترین اور حساس معاملہ ہے اس وجہ سے افواج پاکستان کا بھی اس حوالے سے خاصااہم کردار رہا ہے اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارتی جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات ثابت ہونے پر سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں تمام الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جاسوس کو موت کی سزا سنائی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے پیر کو جاری بیان کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ نیول آفیسر 41558Z کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل کو تین مارچ 2016ء کو ماشکیل بلوچستان سے کاؤنٹر انٹلیجنس آپریشن کے دوران پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا۔ را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن سدھیر یادیو کو تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا ۔ بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ اسے را کی جانب سے پاکستان کیخلاف سازش اور تخریب کارانہ سرگرمیوں کا ٹاسک سونپا گیا تھا تاکہ بلوچستان اور کراچی میں امن کی بحالی کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کوششوں کو روک کر پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے اور اس کیخلاف جنگ مسلط کی جائے۔ بھارتی جاسوس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دفاع کیلئے آفیسر فراہم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بھارت اپنے جاسو س کل بھوشن یادیوکی سزائے موت کافیصلے آتے ہی متحر ک ہوگیا، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور کل بھوشن یادیوکے خلاف عدالتی کارروائی کی تفصیلات مانگ لی گئیں۔ بیان کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنرکے حوالے کےئے گئے مراسلے میں کہاگیاکہ کل بھوشن یادیوکے خلاف ٹرائل کے بارے میں اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کوبھی آگاہ نہیں کیاگیااوراگرکل بھوشن کے خلاف ٹرائل میں قانون وانصاف کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے توبھارت کی حکومت اورعوام اسے منصوبے کے تحت قتل تصورکریں گے ۔ بھارت نے یہ بھی الزام عائدکیاکل بھوشن کوایران سے اغواء کیاگیاتھاپاکستان میں اس کی موجودگی کی کبھی واضح نہیں کی گئی ۔بھارت نے دعویٰ کیاکہ اس نے 13 بار کل بھوشن تک رسائی مانگی لیکن پاکستان نے اس کی اجازت نہیں دی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد اپنی جیلوں میں سزا کی مدت پوری کرنے والے درجنوں پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ واپس بھی لے لیا۔ سزائے موت کے فوری بعد بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارتی حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ وہ ان درجنوں پاکستانی قیدیوں کو رہا نہیں کرے گی جنہیں کل بدھ کو پاکستان کے حوالے کیاجانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے یہ مناسب وقت نہیں ہے ۔ رہا کیے جانے والے پاکستانی قیدیوں نے سزا کی مدت پوری کرلی تھی اور ان کی یہ رہائی پاکستان اور بھارت کی طرف سے ایک دوسرے کی جیلوں میں سزا کی مدت پوری کرنے والے قیدیوں کی رہائی کے اقدام کے تحت ہونی تھی۔سزائے موت کے تناظر میں ایک اہم بات دو روز قبل یعنی 8اپریل کو سامنے آنے والی وہ خبر ہے جس میں بتایا گیا کہ پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ حبیب طاہر نیپال سے اچانک لاپتہ ہو گئے ہیں ۔

فیملی ذرائع کے مطابق حبیب ظاہر چھ اپریل کو اہلخانہ کو لمبینی ایئرپورٹ پہنچے کا پیغام بھیجا تھا اس کے بعدکوئی رابطہ نہیں ہوسکا،ادھردفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریانے کہاہے کہ کرنل حبیب کی گمشدگی کا معاملہ نیپالی حکومت کے ساتھ اٹھا یاگیاہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 2014میں پاک فوج سے ریٹائر ہونیوالے کرنل محمد حبیب ظاہر نے چند ماہ قبل لنکسٹرن اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹس پر سی وی لوڈ کیا جس کے بعد بھارتی پوسٹ ویب سائٹ اور برطانیہ سے مسٹر تھامسن کے نام سے آنے والی کال کے ذریعے ان سے رابط قائم کیا گیا اور نوکری کے لیے نیپال کے علاقے لمبینی بلایا گیا جہاں سے وہ 6 اپریل کو لاپتہ ہوئے اور فیملی کی جانب سے باربار کوشش کے باوجود تاحال ان سے کوئی رابط نہ ہوسکا ۔رپورٹ کے مطابق حبیب ظاہر نے سوشل میڈیا سائٹ لنکڈن اور اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اپنی سی وی اپ لوڈ کی ایک ماہ قبل برطانیہ سے مسٹر تھامسن نامی شخص نے سابق لیفٹیننٹ کرنل(ر )سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ایک ویب سائٹ پر رابطہ رکھنے کا کہا کچھ عرصے بعد لیفٹننٹ کرنل(ر )حبیب ظاہر کو 3500 سے 8500 ڈالر کی تنخواہ پر وائس پریذیڈنٹ اور زونل ڈائریکٹر کی آفر کی گئی تھی اور انہیں نوکری کنفرم کرنے کیلئے کھٹمنڈو آنے کو کہا گیا ساتھ ہی تھامسن نے لیفٹیننٹ کرنل (ر)حبیب کو کھٹمنڈو کے لئے عمان ایئر کا بزنس کلاس ٹکٹ دیا ۔اہل خانہ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل (ر) حبیب ظاہرپانچ اپریل کو نجی فلائٹ سے عمان گئے عمان ایئرپورٹ پر کسی جاوید انصاری نامی شخص نے محمد حبیب کا استقبال کیا اور کرنل (ر)حبیب کو کھٹمنڈو کا ایک فون نمبر دیا اور انہیں کہا گیا کہ کھٹمنڈو پہنچ کر اس نمبر پر رابطہ کیا جائے ۔اگلے روز کرنل (ر)حبیب کھٹمنڈو پہنچے اور اسی روز لمبینی کیلئے روانہ ہوگئے 6اپریل کو انہوں نے گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دی جس کے بعد ان کا اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔ اس معاملے کو بھی کلبھوشن کیس سے ملا کر دیکھا جا رہا ہے اور بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کیس میں بھی بھارتی مداخلت کے امکانات موجود ہیں ۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے پس منظر اور پیش منظر پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 29 مارچ 2016ء کو سرکاری طور پرایک بریکنگ نیوز جاری کی گئی جسے پاکستان سمیت دنیا بھر میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر نمایاں کوریج ملی اور اس خبر کے بعد ہر سطح پر پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ۔ پاک فوج نے بلوچستان سے گرفتار ہندوستانی جاسوس کی ویڈیو جاری ہوئی، جس میں کلبھوشن یادیو نے 'را' سے تعلق کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔کلبھوشن یادیو کی ویڈیو اس وقت کے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی۔ویڈیو میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی 'را' میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔کلبھوشن کے مطابق 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔وڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے 'را' کا ہاتھ ہے۔اس معاملہ پر پاکستان نے ہندوستان سے احتجاج کیا اور وزارت خارجہ بلا کر اپنا احتجاج انڈین سفارتکار کو تحریری ریکارڈ بھی کروایا۔اس موقع پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے پاکستان اور بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے ہیں اور وہ 'را' کے چیف اور جوائنٹ سیکریٹری اے کے گپتا سے براہ راست رابطے میں تھا۔افواج پاکستان کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا کہ کلبھوشن نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اگر آپ ہندوستان کو اس کی گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈ 'Your monkey is with us' (آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتائیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور کلبھوشن اس بات کا ثبوت ہے۔ 'ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی نہیں ہوسکتا'۔ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو گوادر میں چینی انجینیئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے، مہران بیس حملے میں ملوث رہا جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ اس کے بڑے اہداف تھے۔ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر کے سامنے بھی ہندوستانی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ ایرانی صدر نے را کی مداخلت کا مسئلہ تحمل سے سنا تھا اور اْمید ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت جواب آئے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ اطلاعات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ایک اور سوال پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانے، انھیں فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنے میں ملوث رہا تاہم اس سے مزید تفتیش جاری ہے اور جلد تمام معلومات منظرعام پر لائی جائیں گی۔بھارتی میڈیا میں آنے والی خبروں کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہا تھا اور قونصل رسائی کا معاملہ دیکھنا پڑے گا۔پنجاب میں جاری فورسز کے آپریشن کے سوال پر لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ راولپنڈی، ملتان اور دیگر علاقوں میں اس وقت بھی آپریشن جاری ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جانب سے سنائی جانے والی سزائے موت کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے بات کرنے والے زیادہ تر تجزیہ کاروں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا تاہم بعض نے کہا کہ بھارت کی جانب سے رد عمل بہت سخت ہوگا جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ اس سے باہمی تعلقات میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئے گی۔بعض کا موقف ہے کہ سزا ایک وارننگ ہے۔ اس کے کوئی زیادہ سخت اثرات رونما ہونے کا امکان کم ہی ہے۔سزائے موت کے بارے میں ملے جلے ردعمل تو سامنے آ رہے ہیں لیکن اصل صورتحال تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہی کہا ہے کہ کل بھوشن کی سزا پاکستان کے خلاف سازش کرنیوالوں کیلیے وارننگ ہے۔ کلبھوشن نے پاکستان میں کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے اور اسے سزائے موت پاکستان کے قانون کے مطابق دی گئی ہے۔ وزیردفاع کے مطابق بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے، بھارت عالمی سطح پر معاملہ لے گیا تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔قانون پوری قوت سے دشمنوں کے خلاف حرکت میں آئے گا، ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد سے ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحد سے بھی بھارتی جارحیت کا سامنا ہے، بھارت سے تعلقات خوشگوار اور آئیڈیل نہیں ہیں۔اس سلسلے میں کسی دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ 'پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور یہاں ایک قانون موجود ہے'۔اگر قانون کے مطابق کلبھوشن یادیو مجرم قرار پایا تو ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اسے سزائے موت سنائیں اور اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔رحمٰن ملک نے کہا کہ 'ہمیں کسی کے دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں چاہے وہ بھارتی ہو یا بین الاقوامی اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے'۔رحمٰن ملک کے مطابق 'وہ لوگ جنہیں اس اقدام پر تشویش ہے وہ یہ بھول رہے ہیں کہ مودی نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا ہے پاکستان کو توڑنے میں بھارت کا ہاتھ تھا'۔پوری قوم فیصلے پر متحد ہے۔'پوری قوم کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے کی حمایت کرے گی، یہ درست فیصلہ ہے جبکہ یہی درست وقت ہے کہ بھارت کی مداخلت کے معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے تاکہ اس مسئلے کا دیرپا حل نکالا جاسکے'۔کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔سیاسی تجزیہ کار ایئر مارشل (ر) شہزاد چوہدری نے کہا کہ 'میں نہیں سمجھتا کہ اس فیصلے کے بعد بھارت سے ہمارے تعلقات میں کوئی تبدیلی آئے گی، دونوں ملکوں کے درمیان اور بھی کئی معاملات پر اختلافات ہیں'۔'میرا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کو اس معاملے کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے کیوں کہ اور بھی بحث طلب مسائل موجود ہیں اور اس طرح صورتحال معمول پر برقرار رہے گی اور اس وقت یہی بہتر طرز عمل ہوگا'۔رد عمل آئے گا۔دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ ’کافی عرصے سے پاکستان یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں ملوث ہے‘۔یہ بھی پڑھیں: ’را ایجنٹ مراٹھی بولنے کے باعث گرفتار ہوا‘’ہمارے سفراء اس معاملے میں معاونت کے لیے مختلف ملکوں میں گئے اور انہیں شواہد دکھائے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، اب جبکہ ہم نے اپنے طور پر اقدام کرلیا ہے جو کہ درست ہے ہمیں بھارت کے رد عمل کے لیے تیار رہنا چاہیے‘۔طلعت مسعود نے کہا کہ ’یہ فیصلہ بالکل درست اور قانون کے مطابق ہے البتہ ہمیں تیار رہنا ہوگا کیوں کہ ردعمل ہوگا عالمی سطح پر بھی اور پاکستان کو لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں میں اضافے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے‘۔ثبوت منظر عام پر لانے چاہئیں۔سینیئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ’سب سے پہلے پاکستان کو جاسوس کے خلاف ملنے والے شواہد منظر عام پر لانے چاہئیں اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی شیئر کرنا چاہیے‘۔'دوسری بات یہ کہ ہر کوئی ابھی سے کیوں بھارتی ردعمل کی بات کررہا ہے، مجھے یقین ہے کہ بھارت سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خبروں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرے گا'۔حامد میر نے کہا کہ 'اگر لوگوں کو یاد ہو تو جب اجمل قصاب کو سزا سنائی گئی تھی اس وقت سارے معاملے میں پاکستان بالکل خاموش رہا تھا، پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا ادارے نے اس کی مذمت نہیں کی تھی، ہمارا رویہ سادہ سا تھا کہ اگر قصاب کے خلاف شواہد ہیں تو اسے بھارتی قوانین کے مطابق سزا ملنی چاہیے'۔انہوں نے کہا کہ 'بھارت کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے اور کلبھوشن یادیو کو ہیرو بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور بھارتی میڈیا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے'۔دنیا بھر میں یہی طریقہ کار ہے۔سینیئر تجزیہ کار نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھارت کی جانب سے منفی رد عمل آئے گا اور وہ یہی کہیں گے کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں معمول کا طریقہ کار یہی ہے کہ جب بھی حکومتیں کسی ملک کے جاسوس کو پکڑتی ہیں انہیں اپنے ملک کے متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تو ویسے بھی تعلقات اچھے نہیں ہیں لیکن امریکا اور اسرائیل بھی اگر ایک دوسرے کے ممالک میں محض جاسوسی کے الزام میں کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو متعلقہ ملک کو اس کی تفصیلات نہیں بتائی جاتیں۔انہوں نے کہا کہ یقیناً اس معاملے پر بھارت کا رد عمل ہوگا اور انتہائی سخت بھی ہوسکتا ہے۔سینیئر صحافی افتخار شیرازی نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اس سلسلے میں اپنی حمایت کا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈالے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ پٹھان کوٹ حملہ ہو، ممبئی حملہ ہو یا بھارت میں دہشت گردی کا کوئی اور واقعہ ہو، جب بھی بغیر تحقیق بھارت نے پاکستان پر انگلی اٹھائی ہے تو عالمی برادری نے بھی دہلی سرکار کی ہاں میں ہاں ملائی ہے اور پاکستان کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے منفی رد عمل آئے گا اور یہی کہا جائے گا کہ ’قونصلر رسائی نہیں دی گئی، انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، شفاف ٹرائل نہیں ہوا‘۔رد عمل کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔افتخار شیرازی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تو بھارت نے کہا تھا کہ یہ تو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہی نہیں ہے اور ریٹائرڈ افسر ہے جبکہ اس کا را سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھاکا میں جاکر خطاب کیا جس میں انہوں نے پاکستان توڑنے کا کریڈٹ لیا اور کہا کہ 1971 میں جو سازش ہوئی وہ بنیادی طور پر بھارت نے کی۔انہوں نے کہا کہ اگر کلبھوشن بھی ایسا کرتا رہا ہے تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں، بھارت سے ہمیں خیر کی توقع رکھنی ہی نہیں چاہیے۔ افتخار شیرازی نے کہا کہ ہمیں بھارت اور عالمی برادری کے ردعمل کی پروا نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر ہم نے کلبھوشن کو اتنی بڑی سزا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اور عالمی برادری اس سلسلے میں کوئی رد عمل دیتی ہے تو پاکستان کو اس کا جواب بھی موثر طریقے سے دینا چاہیے۔فیصلہ چیلنج ہوسکتا ہے۔تجزیہ کار محمود شاہ نے کہا کہ ’پاکستان کے آئین کے مطابق کلبھوشن یادیو کو کچھ حقوق حاصل ہیں، ملٹری کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ ایسا کریں گے بھی، سپریم کورٹ کو بھی قانون کے مطابق فیصلہ دینا چاہیے اور اس کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے‘۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کی پھانسی سے بھارت تھوڑا سا دفاعی حکمت عملی اپنائے گا کیوں کہ کلبھوشن کے بعد بھی بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بھارت کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے بعد بھی پاکستان میں بھارت کی مداخلت کے ثبوت موجود رہیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -