یمنی ’’قات‘‘ حرام: سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ

یمنی ’’قات‘‘ حرام: سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ
 یمنی ’’قات‘‘ حرام: سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ

  

یمن کی اسلامی اور تاریخی حیثیت کی بابت بعد میں اظہار خیال ہوگا، امروزہ اشاعت میں وہاں کے ایک شاخ دار پودے ’’قات‘‘ کی بابت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے متعلق سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ اسلامک ریسرچ وافتاء کونسل کے چیئرمین نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ ’’ قات‘‘ نامی بوٹی کے پتے کھانا، اس کی کاشت اور تجارت حرام ہے، اس لئے کہ یہ دیگر نشہ آور اشیاء کی طرح نشہ آور ہے، اس کو کھانا انسانی جسم کو ماؤف اور عقل و دانش ختم کر دینے کا باعث ہے.....’’قات‘‘ یمن کی سرزمین میں کاشت کئے جانے والا پودا ہمارے ہاں کاشت کردہ ’’ نیاز بو‘‘ پودے کی مانند ہے۔ یمنی باشندے مرد اور عورتیں ’’ قات‘‘ کے پتے اس طرح کھاتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں پان کا پتہ کھایا جاتا ہے۔ دونوں پودوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ پان کے پتے پر تو کتھا، چونا وغیرہ لگایا جاتا اور پان کے پتے میں چھالیا اور تمباکو وغیرہ ڈال کر کھایا جاتا اور لعاب دہن تھوکا جاتا ہے، لیکن ’’ قات‘‘ کے پتے شاخ سے توڑ کر کچھ ملائے بغیر کھائے جاتے اور لعاب پی لیا جاتا ہے۔

دوران سفر ایک روز ہم یمن کے دارالحکومت صنعا سے ’’ ملکہ سبا‘‘ کا علاقہ دیکھنے کے لئے شہر مآرب کو جا رہے تھے کہ ایک مقام پر گاڑی رک گئی اور تمام مقامی مسافر ویگن سے اتر گئے۔ ہم تین پاکستانی بیٹھے رہے۔ جب خاصی دیر ہو گئی تو ایک ساتھی نے خوفزدہ انداز میں کہا کہ ہمیں سفر سے پہلے ایک یمنی باشندے نے خبردار کیا تھا کہ مآرب کا علاقہ ہمارے قبائلی علاقے جیسا ہے، وہاں اکثر غیر ملکی مسافر لوٹ لئے جاتے ہیں، جبکہ غیر مسلم سیاح اس کا ہدف بنتے ہیں۔ یہ تاخیر کہیں ان کے منصوبے کا حصہ نہ ہو؟ مَیں نے ساتھیوں سے اللہ کا ذکر کرنے اور ’’ یاحافظ یا حفیظ‘‘ پڑھنے کو کہا۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد تمام سواریاں ’’ قات‘‘ کی شاخیں لئے ہشاش بشاش واپس آ کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئیں۔ مَیں نے اپنے قریب والی سیٹ پر بیٹھے ساتھی سے پوچھا کہ یہاں پر اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟ تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ عید کی مانند کل ہمارا قومی دن ہے، اس پر ہم ’’ قات‘‘ کھا کر لطف اندوز ہوتے اور جشن مناتے ہیں۔ یہ مقام ’’ قات ‘‘ کا مرکز ہے۔ یہاں سے لوگ ’’قات ‘‘ کے بنڈل لے جاتے ہیں، چونکہ مختلف گاڑیوں کے مسافروں کے ہجوم کی وجہ سے ’’قات ‘‘کی شاخیں قطار میں خریدنا پڑتی ہیں، اس لئے تاخیر ہو جاتی ہے۔ نیز اس نے بتایا کہ ’’قات ‘‘کی شاخیں مہنگی فروخت ہوتی ہیں، یہاں پر جس کے پاس زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی موجود ہے، اس پر ’’قات‘‘کے پودے کاشت کئے جاتے ہیں اور چھوٹے سے پودے کی چند شاخیں بھی نکل آئیں تو کاٹ کر فروخت کر دی جاتی ہیں۔ ’’قات خور‘‘ مرد تو کجا، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے والی لڑکیاں بھی ’’ قات خور‘‘ ہیں اور برقعے میں پردہ دار عورتیں، لڑکیاں سب ’’قات‘‘کھا کر شاخیں پھینک دیتی ہیں، چنانچہ دورانِ سفر جب ہم حضرت اویس قرنیؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی قبروں کی بابت معلومات پانے ’’ زبید‘‘ کو جا رہے تھے تو سمندر کے کنارے واقع ’’ الحدیدہ‘‘ سے واپسی ہو گئی، کیونکہ وہاں سے اگر ہم سو ڈیڑھ سو میل مزید سفرکرتے تو عمرہ ادا کرنے کی سعادت پانے سعودی عرب کی حدود میں بروقت داخل نہیں ہو سکتے تھے ،چنانچہ الحدیدہ سے صنعا کو واپسی پر ہم جس بس میں سوار ہوئے، اس میں برقع پوش عورتیں اگلی سیٹوں پر بیٹھی تھیں، ہماری بس نے ابھی تھوڑا سا فاصلہ طے ہی کیا تھا کہ ان عورتوں کی نشستوں کے نیچے شاخوں کا ڈھیر لگ گیا اور بلند و بالا پہاڑی سلسلہ ختم ہونے پر سڑک کے کنارے واقع ایک قصبے میں وہ اتر گئیں۔ ہم نے ’’قات ‘‘کی پتے خوردہ شاخوں کو دیکھا تو ان پر کوئی معمولی کونپل بھی موجود نہیں تھی۔ شکر ہے کہ ’’قات ‘‘کھانے والے لعاب دہن زمین پر نہیں تھوکتے، ورنہ پان کھانے والوں کی طرح وہاں بھی زمین داغدار نظر آتی۔

بہر حال دنیا کے اکثر ممالک کے باشندے مختلف قسم کی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ نشہ دار لوگ شراب، بھنگ، چرس، سگریٹ، حقہ اور گٹکا استعمال کرکے اپنی نشے کی لت پوری کرتے ہیں، کچھ ہیروئن، افیون اور تمباکو وغیرہ کھا کر نشے کا ٹھرک پورا کرتے ہیں۔ اسلام نے ہر قسم کی نشہ آور چیزوں کو حرام اور انسانی صحت کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ نشہ خوری ایک ایسی خطرناک عادت ہے کہ آغاز میں تو لوگ اپنے آپ کو چاک و چوبند اور مستعد خیال کرتے ہیں، مگر جلد ہی ان کی دماغی صلاحیت ماؤف اور جسم مضمحل ہو کر بے قابو ہو جاتا اور سفر آخرت پر روانگی کی ابتدا ہو جاتی ہے۔ ہم نے کئی خوبرو، اعلیٰ تعلیم اور ڈگری یافتہ ایسے نوجوان سڑکوں پر بے حس و حرکت غبار آلود دیکھے ہیں، جن کی صحت مند اور خوبصورت شکلیں دیکھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ایسے لوگ صرف نشے کی اشیاء سونگھنے کے بعد اس کے عادی بن جائیں گے اور بہت جلد موت کا مزا چکھ کر شہر خموشاں میں واقع قبر کے مکین بن جائیں گے...... ’’قات ‘‘اور دیگر نشہ آور اشیاء کی حرمت کی بابت صرف سعودی عرب کے مفتی اعظم کا ہی فتویٰ نہیں، پوری دنیائے اسلام کے علماء ا ور مفتی حضرات کے دوش بدوش تمام ممالک کے ہوشمند اور دور اندیش لوگ بھی نشہ آور چیزوں سے بچنے اور دوسرے کو ایسی لعنت سے اجتناب کی تلقین کر رہے ہیں۔ نشے میں دھت گلیوں اور سڑکوں کے کنارے ہوش و حواس سے بے گانہ بڑے ’’ جہاز‘‘ دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئے اور نشہ آور چیز کو چکھنا تو کجا اسے سونگھنے سے بھی دامن بچا کر رکھنا چاہئے اور قرآنی آیت کریمہ: فاعقیر وایاولی الابصار اے عقل مندو! اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔۔۔پر عمل کرنا چاہئے۔

مزید : کالم