امن کی ضمانت

امن کی ضمانت
 امن کی ضمانت

  

صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی خطے میں امن کی ضمانت بن گئی ہے۔ پاکستان کو پاک چین اقتصادی راہداری میں پورے خطے کی خوشحالی اور ترقی نظر آ رہی ہے، مگر پاکستان میں کچھ لوگ سی پیک پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک چینی سفارت کار کو میڈیا کے نمائندوں کے سامنے یہ وضاحت بھی کرنا پڑی کہ سی پیک کے تحت جو منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں، ان میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سی پیک پر جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان میں سے بعض کے پیچھے تو واضح طور پر بھارت کھڑا ہوا نظر آ رہا ہے جو اس منصوبے کے خلاف اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتا رہتا ہے۔ بھارت چین کو مخالفت کے پیغامات بھیجنے سے پرہیز نہیں کر رہا ہے۔ اس نے نہ صرف دلائی لامہ کو پناہ دے رکھی ہے، بلکہ اسے اروناچل پردیش کے شہر میں بدھوں کے ایک بڑے مذہبی اجتماع سے خطاب کرنے کا بھی موقعہ فراہم کیا ہے۔ اس پر چین نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اروناچل پردیش کا یہ علاقہ تبت کا حصہ رہا ہے، جسے انگریزوں نے ایک معاہدے کے ذریعے انڈیا میں شامل کیا تھا۔ مگر چین اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس علاقے میں انڈیا اور چین کی ایک جنگ بھی ہوچکی ہے، جس میں انڈیا کو شکست ہوئی تھی۔ اس جنگ میں ہلاک ہونے والے متعدد بھارتی فوجیوں کی قبریں بھی ان علاقوں میں ہیں، جن میں سے بعض تو باقاعدہ مندر کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ بی جے پی کی حکومت ایک طرف چین کے ساتھ تعلقات خراب کر رہی ہے، دوسری طرف انڈیا اور چین کی اس جنگ کی شکست کی وجہ پنڈت نہرو کی نااہلی کو قرار دے رہی ہے۔ زوروشور سے یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اس جنگ میں بھارتی فوجیوں کی زیادہ تعداد چینی فوجیوں کی گولیوں کی بجائے سرد موسم کی شدت سے ہلاک ہوئی تھی، کیونکہ پنڈت نہرو نے فوجیوں کے لئے مناسب سازوسامان کا بندوبست نہیں کیا تھا۔ نریندر مودی کی حکومت تاریخ، سیاست، خارجہ پالیسی غرض ہر معاملے کو انتخابی سیاست میں فائدے کے لئے استعمال کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ چین نے جہاں سی پیک پر بھارتی عزائم کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے، وہاں اس نے دلائی لامہ کے ارونا چل پردیش کے دورے پر بھی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

صدیوں سے ہمالیہ کے پہاڑوں نے چین اور برصغیر کے درمیان ایک اونچی دیوار کا کام کیا ہے۔ وسطی ایشیا اور افغانستان سے حملہ آور ہندوستان آتے رہے، سمندر کے راستے سے انگریز آئے، مگر چین اور ہندوستان کا رابطہ محدود رہا۔ وسطی ایشیا سے آنے والے فاتحین برصغیر میں ہی آباد ہو گئے اور انہوں نے اس خطے کے وسائل کو ترقی دی۔ ممتاز ہندو دانشور ششی تھرور کے مطابق اورنگ زیب کے عہد میں دنیا کے 27فیصد معاشی وسائل ہندوستان میں تھے۔ مسلم حکمرانوں پر تنقید کرنے والے بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ اس خطے کے وسائل کو باہر لے جانے کی مخالفت کرتے تھے۔ غزنویوں اور غوریوں کے عہد میں کچھ عرصہ غزنی دارالحکومت رہا، مگر پھر دہلی اور لاہور نے اس کی جگہ لے لی۔ مغل جب دہلی کے حکمران ہوئے تو اس وقت ان کا وسط ایشیا سے کوئی تعلق نہیں تھا، مگر انگریز بہت مختلف تھے۔ وہ خودمختار فاتحین نہیں تھے۔ وہ کمپنی کے ملازم تھے۔ وہ انگلستان میں بورڈ آف کنٹرول اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ماتحت تھے۔ انہیں احکامات کی تعمیل کرنا ہوتی تھی اور اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد واپس بھی جانا ہوتا تھا۔ مورخین کے مطابق ایک دور میں تو انگلستان میں کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار جنگوں اور فتوحات کے مخالف تھے اور ہندوستان میں تجارتی فوائد حاصل کرنے پر زور دے رہے تھے، مگر کمپنی کے مقامی ملازمین اور عہدیدار جب تجارتی فوائد کے لئے سیاست میں داخل ہوئے تو اکثر فیصلے انہوں نے حالات کے تحت کئے۔ ابتدائی دور کے کمپنی کے ملازم بے انتہا کرپٹ اور بدعنوان تھے۔ وہ زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتے تھے، مگر جب کمپنی کا سیاسی اقتدار مستحکم ہو گیا تو انہوں نے مختلف اصلاحات کے ذریعے اپنا ایک ایسا امیج بنایا جو ہندوستانیوں کے لئے قابل تعریف تھا۔ مٹکاف کے مطابق کمپنی کے ملازمین پر نجی تجارت کرنے کی پابندی لگا دی گئی تھی اورانہیں پابند کیا گیا تھا کہ وہ مقرر شدہ تنخواہ پر ہی گزارہ کریں گے۔ رشوت سے پرہیز کریں گے اور قانون کی پابندی کریں گے۔

پنجاب میں انگریز نے جو نصابی کتب متعارف کرائیں، ان میں انگریزی راج کی برکات کے متعلق ایک باب ہوتا تھا، جس میں امن و امان کے قیام کو سب سے بڑی برکت قرار دیا جاتا تھا۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ سکھوں کے عہد میں لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ تھا۔ انگریزوں کی آمد کے بعد پنجاب میں عام دکاندار وں کو اس وقت حیرت ہوتی تھی، جب سرکاری سپاہی کسی دکان سے خریداری کرتے تھے اور اس کی ادائیگی بھی کرتے تھے، جبکہ سکھ عہد میں اکثر سپاہی زبردستی دکانوں سے چیزیں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ برصغیر میں انگریزوں کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے مقامی باشندوں کے تعاون سے حکومت کی۔ انہوں نے ایک ایسا نظام قائم کیا جو امن و امان کو یقینی بناتا تھا اور جب معاملہ دیسی باشندوں کے درمیان ہوتاتھا تو سو فی صد انصاف بھی ملتا تھا۔ پاکستان اور بھارت میں آپ کی ایسے بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوئی ہو گی جو انگریزی عہد میں امن و امان کی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ کس طرح کوئی عورت زیورات پہن کر سینکڑوں میل کا سفر بلاخوف و خطر طے کر لیتی تھی۔ اسی طرح انگریز ججوں کی انصاف پسندی کی داستانیں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ انگریز نے امن و امان اور انصاف تو دیا، مگر اس خطے کے وسائل کو مسلسل برطانیہ منتقل کرتا رہا۔ اس نے پورے برصغیر میں ریلوے کا ایک وسیع نظام قائم کیا، مگر ہر بڑے شہر میں ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ایک غلہ منڈی بھی قائم کی۔ اس غلہ منڈی میں پورے علاقے سے غلہ آتا تھا اور پھر ریلوے کے ذریعے اسے بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا تھا، جہاں سے بحری جہاز اسے برطانیہ منتقل کرتے تھے۔ انگریز کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان میں متعدد مرتبہ قحط پڑا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو پاکستان تو دے دیا، مگر اقتصادی طور پر اسے ایک ناکام منصوبہ بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔ پاکستان کی اقتصادی مجبوریاں اسے امریکہ کے پاس لے گئیں۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا، جیسا کہ امریکہ کینیڈا، کے ساتھ کرتا رہا ہے تو تقسیم ہند سے برصغیر کے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہو جاتے۔ اس خطے میں عالمی سازشیں بہت کم ہوتیں، اگر بھارتی حکمران پاکستان کے وجود کو برداشت کرنے کا حقیقی حوصلہ پیدا کر لیتے تو برصغیر کی سیاست بہت مختلف ہوتی۔

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندومت کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے کلچر کا آغاز ہوا تھا۔ ہندوؤں کو ویدوں کا زمانہ یا رام راج قائم کرنے کے خواب دکھائے جا رہے تھے۔ ان خوابوں میں مسلمان نہیں تھے اور نہ ہی مسلمان ان خوابوں کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا عروج اسی سیاست کے ارتقاء کی ایک منزل ہے۔ ہندو حکمران رام راج سے آگے سوچنے کے لئے تیار ہی نہیں، مگر سوویت یونین کے حکمرانوں کو بحیرۂ عرب کے پانیوں میں ایک نیا مستقبل نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے طاقت کا استعمال کیا، مگر مغربی طاقتیں بحیرۂ عرب میں سوویت بالادستی کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھیں۔ سوویت یونین کو نہ صرف اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی بلکہ وہ خود بھی پارہ پارہ ہو گیا۔ امریکہ کے دانشور صدر رچرڈ نکسن نے 1970ء کے عشرے میں کہا تھا کہ اکیسویں صدی چین کی ہو گی۔ اس وقت ان کی یہ بات بہت عجیب محسوس ہوتی تھی۔ روس جو مقصد سپر طاقت ہونے کے باوجود اپنی بے پناہ فوجی قوت کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا تھا، چین نے سی پیک کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ چین کو گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ سی پیک ایک حقیقی گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو رہا ہے۔ بہت سے ممالک اس میں خطرات بھی دیکھ رہے ہیں۔ مگر چین انہیں اس اقتصادی موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقعہ دے رہا ہے۔ چینی اپنی دانش اور تحمل کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف ہیں۔ وہ اپنے انہی اوصاف کے ذریعے سی پیک مکمل کر رہے ہیں۔ سی پیک کے ذریعے چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار ہی تیز نہیں ہو گی بلکہ پاکستان بھی خوشحال اور مستحکم ہو گا۔ چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، مگر اب دنیا کو دونوں ممالک کے مفادات ایک نظر آ رہے ہیں۔ یہ امید وابستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہو گا، دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا، مگر چین کی دوستی کچھ ثقافتی چیلنج بھی لے کر آ رہی ہے۔ چینی دانش اور تحمل سے یہ چیلنج مسئلوں میں تبدیل نہیں ہوں گے۔ پاکستان میں بھی دانشوروں اور اہل قلم کو وقتی مسائل کے بھنور سے نکل کر مستقبل کو دیکھنا ہو گا۔ محاذ آرائی کی سیاست برصغیر کو خوفناک تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ دوستی، تعاون اور اخلاص کے ذریعے ہی اس خطے میں پائیدار امن کی ضمانت حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزید :

کالم -