ہائیڈروجن بم برائے فروخت!

ہائیڈروجن بم برائے فروخت!
 ہائیڈروجن بم برائے فروخت!

  

ہمارے میٹرک کی اُردو نصاب کی کتاب کا نام ’’سرمایۂ اُردو‘‘ تھا۔ حافظ محمود شیرانی جو ایک معروف اُردو شاعر، اختر شیرانی کے والد تھے، اس کتاب کے مرتب تھے۔ یہ کتاب 1940ء سے لے کر1960ء تک کے عشروں میں پروان چڑھنے والی نسلوں کی علمی تربیت اور ادبی ذوق کی آبیاری کرتی رہی۔ اس نصاب کے حص�ۂ نظم میں دو نظمیں خواجہ دِل محمد کی بھی تھیں جن کے نام سے لاہور کی دِل محمد روڈ موسوم ہے۔ان نظموں کے علاوہ خواجہ صاحب کی تین اور کتابیں بھی پنجاب یونیورسٹی کے ہمارے ریاضی کے نصاب کا حصہ تھیں جو بالترتیب دِل کا حساب، دِل کا الجبرا اور دِل کی جیومیٹری کہلاتی تھیں۔ یہ درسی کتابیں دراصل ان کی انگریزی درسی کتابوں کا اُردو ترجمہ تھیں جو انہوں نے خود کیا تھا۔ ہم کو یہ تینوں کتابیں پڑھائی گئیں اور بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد ایم اے ریاضیات (Mathematics) تک کسی اور ریاضی کی کتاب کی اساسی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس وقت بھی ہم حیران تھے اور میں آج بھی حیران ہوں کہ خواجہ دِل محمد ریاضیات کے استاد ہوتے ہوئے بھی اتنے اچھے شاعر کیسے بن گئے تھے۔ بالعموم تو سمجھا جاتا ہے کہ ریاضی اور شاعری کا آپس میں کچھ علاقہ نہیں بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا جاتا ہے لیکن خواجہ صاحب کے ہاں دونوں صفات یکساں باریاب تھیں بلکہ ان کے گھر کی باندیاں تھیں۔ ان دو نظموں میں سے ایک نظم کا عنوان تھا: ’’ علمائے یورپ کے عزائم‘‘۔۔۔یہ نظم35،40اشعار پر مشتمل تھی اور اس اعتبار سے منفرد تھی کہ اس میں استعمال کئے گئے الفاظ، ترکیبیں، اصطلاحیں اور محاورے اگرچہ جدید سائنسی ایجادات و انکشافات کے بارے میں تھے لیکن ان کو شاعر نے ایسی رواں بلکہ رومانی اُردو میں ڈھال دیا تھا کہ ان کی یہ کاوش بلاشبہ ان کے فکرو فن کے حوالے سے اجتماعِ ضدّین کہی جا سکتی ہے۔ نظم کا پہلا شعر تھا:

کاش سیکھیں اہل مشرق غربیوں کے رنگ ڈھنگ

ان کی ہمت، ان کی جودت، ان کا جوش، ان کی امنگ

لگے ہاتھوں ان کی اس نظم کے آخری چار شعر بھی سن لیجئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ خواجہ صاحب نے جدید سائنسی علوم کو اُردو شاعری کی ایک رواں دواں بحر میں کس طرح منظوم کر دیا تھا:

قصرِ ابعادِ ثلاثہ کی ہے بربادی قریب

دعوے اقلیدس کے باطل، ان سے آزادی قریب

ہندسے کو آئین اسٹائن نے برہم کر دیا

جھک کے ابعادِ ثلاثہ نے بھی سَرخم کر دیا

رازِ برقِ تیز پا معلوم ہو جانے کو ہے

کلفتِ بُعدِ مکاں معدوم ہو جانے کو ہے

عالمِ علمِ طبیعی کی فضا ہی اور ہے

اہلِ یورپ کے دماغوں کی ہوا ہی اور ہے

ابعادِ ثلاثہ، اقلید س، ہندسہ، آئن اسٹائن، برقِ تیز پا اور علمِ طبیعی خالصتاً جدید سائنسی انکشافات، اصطلاحیں اور جدید و قدیم ریاضی دانوں کے نام تھے جن کے خشک اور کھردرے موضوعات کو خواجہ دِل محمد نے گویا اطلس و کمخواب کی شعری قبا میں ملبوس کر دیا۔ اگر ان اصطلاحات کا مختصر سا تعاوف بھی کروانا مقصود ہو تو ایک لمبا چوڑا مضمون لکھنا پڑے گا جو لفظ وخیال کے اعتبار سے خاصا بوجھل ہو جائے گا اور میرا قارئین کو بور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہاں اس نظم کے دو شعر ایسے بھی ہیں جو آج کے کالم کے موضوع سے وابستہ ہیں۔ یورپی سائنس دانوں کے ارادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ایک کہتا ہے کہ میں توڑ وں گا ذرے کا طلسم

آخر ایک دن کھول کے چھوڑوں گا ذرے کا طلسم

زور ہے جو ریڈیم میں، منجمد کر لوں اُسے

ہیلیم کی لے کے طاقت ٹیوب میں بھر لوں اُسے

ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ صدی کا نصف اول (یعنی1901ء تا1950ء) ایک تاریخ ساز دور تھا جس میں دُنیا کی دو عظیم جنگیں لڑی گئیں۔ جنگ عظیم اول کے بعد ذرے (Atom) توڑنے اور اس کی بے پناہ قوت سے کام لینے کے عزائم زور پکڑنے لگے۔ ہمارے کئی شعراء نے بھی اس طرف اشارہ کیا۔۔۔۔ اقبال نے کہا:

حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاک ہو کہ نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

اور خواجہ دِل محمد کی درجِ بالا نظم کے دو شعروں میں بھی ذرے کو توڑنے اور اس کا طلسم پاش پاش کرنے کے علاوہ ریڈیم (Radium) اور ہیلیم(Helium) کا ذکر بھی کثرت سے کیا جانے لگا۔ پھر زیادہ وقت نہ گزرا کہ ذرے کا طلسم واقعی ٹوٹ گیا اور جولائی1945ء میں صحرائے نوادا(امریکہ) میں ایٹم بم کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ پھر جلد ہی ان بموں کے ’’کامیاب‘‘ تجربے اور استعمالات، ہیروشیما اور ناگا ساکی میں دُنیا کو دیکھنے کو ملے۔ جب انسان نے ریڈیم کے ذرے کو توڑا تو اس کے نتیجے میں بننے والے پہلے بم نے ہیرو شیما میں تقریباً 85000 جاپانیوں کو چشم زدن میں موت کی نیت سلا دیا اور ایک لاکھ سے زیادہ کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر کے انہیں زندہ بھی نہ چھوڑا اور مرنے بھی نہ دیا! اس کے بعد جلد ہی امریکیوں نے ایک ہزار ایٹم بموں کی ہلاکت آفرینی کو ایک بم میں جمع کر دیا۔ اس بم کا نام ہائیڈروجن بم تھا جس میں ہیلیم6- نامی ایک گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ گیس ایک ایٹم بم کو ایک ہزار ایٹم بموں کی قوتِ ہلاکت ’’عطا‘‘ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان نے بھی مئی 1998ء میں ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کے تجربے کر لئے تھے اور آج بھی پاکستانی جوہری اسلحہ خانہ میں کئی ہائیڈروجن بم موجود ہیں۔یہی حال انڈیا کا بھی ہے اور جہاں تک اسرائیل اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین (امریکہ، روس، چین برطانیہ اور فرانس) کا تعلق ہے تو ان کے پاس تو ہزاروں ہائیڈروجن بم موجود ہیں۔ میں جب بھی ان تمام بموں کی اجتماعی تباہ کن قوت کا مظاہرہ کسی آئندہ جنگ میں اپنے تصور میں لاتا ہوں تو یقین کیجئے وہی منظر سامنے آتا ہے جو غالب نے اس شعر میں کھینچا ہے:

پنہاں تھا دامِ سخت قریب آشیان کے

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

میری پروازِ تخیل ان ہزاروں ہائیڈروجن بموں کی اجتماعی قوتِ ہلاکت کا احساس کرنے سے قاصر ہے کہ اِس کرۂ ارض کو ملیا میٹ کرنے کے لئے تو صرف چار ہائیڈروجن بم ہی کافی ہیں جو اگر دُنیا کے چاروں کھونٹ پھینک دیئے جائیں تو صورِ اسرافیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی!۔۔۔

یہ سطور لکھنے کا خیال مجھے تب آیا جب میں نے مغربی میڈیا میں یہ خبر پڑھی کہ ہیلیم6- جو کسی ایک ایٹم بم کو ہزار ایٹم بموں میں تبدیل کر دیتی ہے وہ آسانی سے دستیاب ہے، قابلِ فروخت ہے، مشتہر کی جا رہی ہے اور اشتہار دینے والا مُلک شمالی کوریا ہے!

یہ شمالی کوریا اور اس کا صدر بھی خدا کی عجیب و غریب مخلوق ہے۔ یہ دُنیا کا واحد ملک ہے جس کی دفاعی صنعت، باقی تمام شعبہ ہائے زندگی کی ’’صنعتوں‘‘ سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ عسکری ترقی دوسرے غیر عسکری شعبوں کی ترقیوں کے شانہ بشانہ چلتی ہے۔لیکن شمالی کوریا وہ ملک ہے جو اپنے آپ کو صرف اپنی عسکری ترقی کے بل بوتے پر دنیا کی جدید ترین اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست(امریکہ) سے منوا رہا ہے۔ بعض اوقات مجھے یہ ڈر بھی رہتاہے کہ جس طرح 13ویں صدی عیسوی میں منگولوں نے اس دور کی ساری متمدن دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا اُسی طرح یہ شمالی کورین بھی کہ جو منگولوں ہی کے ہم شکل اور ہمزاد نسل معلوم ہوتے ہیں ایک بار پھر اکیسویں صدی میں ساری دُنیا کو الٹ پلٹ یا تہس نہس نہ کر دیں۔اب یہی دیکھئے ناں کہ ہیلیم6- جیسی خطرناک گیس/مواد کو بذریعہ اشتہار فروخت پر رکھ دیا ہے۔ آن لائن اشتہار میں باقاعدہ ملنے کا پتہ درج ہے جو چین کی ایک معروف بندرگاہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ ہیلیم6- ماہانہ 22پاؤنڈ کی مقدار میں دستیاب ہے۔ آیئے لے جائیے، تھرمو نیو کلیئر (ہائیڈروجن) بم تیار کیجئے اور زمانے بھر کو لرزہ براندام کرنے کا شغل اختیار فرمایئے۔۔۔۔

گزشتہ ہفتے 7اور 8اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ نے جب چینی صدر شی سے ملاقات کی تھی تو یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا تھا۔ صدر شی نے صدر ٹرمپ کو کہا تھا کہ وہ شمالی کورین کو سمجھائیں گے کہ مغرب کو زیادہ تنگ نہ کیا جائے۔ لیکن دُنیا بھر کی صحافی برادری کو معلوم ہے کہ چین کبھی سنجیدگی سے ایسا نہیں چاہے گا کہ اپنے اُس ہمسائے کو آنکھیں دکھائے جسے اس نے امریکیوں کی آنکھیں نکالنے کے قابل بنایا ہوا ہے۔ شمالی کوریا، امریکی جارحانہ عزائم کے سامنے چین کی فرسٹ ڈیفنس لائن ہے، بلاسٹک میزائلوں کے کئی تجربے کر چکا ہے اور آبدوزوں سے فائر ہونے والے نیو کلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بھی کر گزرا ہے!

پاکستانی بم ساز ادارے بھی ہیلیم6- کی تاثیر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انہوں نے تو20برس قبل ہی دُنیا کو بتا دیا تھا کہ خبردار ہمارے مُنہ نہ لگنا! گزشتہ دو عشروں میں ہم نے دہشت گردوں کے ہاتھوں70ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی ہے اور اب بھی دے رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ کسی بھی ایٹم یا ہائیڈروجن یا ڈرٹی بم سے زیادہ موثر وہ بم ہے جس کو انسانی بم یا خود کش بمبار کہا جاتا ہے۔ دُنیا کے پہلے ایٹم بم نے اگر 80ہزار انسان ہلاک کر دیئے تھے تو خود کش بمباروں نے بھی تو آہستہ آہستہ اتنے ہی پاکستانی، گزشتہ 17،18برسوں میں ہلاک کر دیئے ہیں۔لیکن اگر پاکستان، مشرق وسطیٰ کی ٹوٹل تباہی پر نظر ڈالے تو معلوم ہو کہ عراق اور شام میں تو کئی ایٹم بموں کی تباہی کے برابر بربادیاں ہو چکی ہیں۔کئی لاکھ عراقی اور شامی مارے جا چکے ہیں۔ یہ تباہی کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے اس کا ہم سب کو علم ہے۔

لیکن مجھے یقین واثق ہے کہ جو قوتیں یہ بربادی وارد کر رہی ہیں، ان کی باری بھی ضرور آئے گی۔ شمالی کوریا کی ہیلیم6- کوئی خریدے نہ خریدے اس کی موجودگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شمالی کوریا کے پاس یہ تباہ کن مواد فاضل مقدار میں موجود ہے۔ اس کو لاریب استعمال ہونا ہے۔ دُنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی ہتھیار بنایا گیا ہو اور استعمال نہ کیا گیا ہو۔ آج کل کی پراکسی جنگوں میں پراکسی اسلحہ جات کا استعمال ہم آئے روز دیکھ رہے ہیں۔ یہی رسم روائتی ہتھیاروں سے نکل غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال کی طرف ضرور جائے گی۔ قرآن پاک میں اللہ کریم کا وعدہ تین بار دہرایا گیا ہے کہ اس لمحے کا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی کروں گا!۔۔۔

مزید :

کالم -