گیس کے انڈسٹریل کنکشنز پرپابندی ہٹانے کیلئے سمری وزیر اعظم کو ارسال

گیس کے انڈسٹریل کنکشنز پرپابندی ہٹانے کیلئے سمری وزیر اعظم کو ارسال

  

لاہور (کامرس رپورٹر)چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ مفتاح اسمعیل نے کہا ہے کہ گیس کے نئے انڈسٹریل کنکشنز پر عائد پابندی ہٹانے کے لیے وزیراعظم کو سمری ارسال کردی گئی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں اویس سعید پراچہ، شاہد نذیر، طارق محمود، محمد شہزاد، خواجہ امتیاز احمد اور نبیلہ انتصار بھی موجود تھے۔ چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ نے کہا کہ نجی شعبے کے کچھ لوگ ایل این جی کی درآمد کے لیے بات چیت کرکے حکومت کی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں برسراقتدار آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے بجلی و گیس کا بحران ختم کرنے کا چیلنج لیا ، آج صورتحال بہت بہتر ہے اور توقع ہے کہ 2018تک لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک میں انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح اوسطاً تیس فیصد جبکہ پاکستان میں صرف پندرہ فیصد ہے۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صر سے اتفاق کیا کہ مقامی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ چین پاکستان اکنامک کاریڈور پر انہوں نے کہا کہ چین نے مشکل وقت میں پاکستان کو سپورٹ کیا جس سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں خاص طور پر بیرونی سرمایہ کاری میں بہت کمی واقع ہوئی مگر یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ سی پیک کی وجہ سے صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ سی پیک کی وجہ سے دیگر ممالک مثلاََ جرمنی، روس، ایران وغیرہ بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی انویسٹمنت پالیسی بہت واضح اور کاروبار دوست ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کی نظریں پاکستان پر ہیں کیونکہ پاکستان کی سکیورٹی کے حالات بھی بڑی تیزی سے بہتر ہورہے ہیں۔ اس میں تسلسل رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہماری انویسٹمینٹ پالیسی کے بارے میں ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ اس میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی رعایت یا سہولیات ہیں۔ جس کی وجہ سے دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کے کچھ خدشات یا تحفظات ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ہماری پالیسیاں یکساں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں میں چھاپوں اور بینک اکاؤنٹس تک رسائی کی وجہ سے بھی سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہورہا ہے۔

سینئر نائب صدر امجد علی جاوا نے کہا کہ اْن ممالک کی سرمایہ کاری بھی پاکستان میں کم ہورہی ہے جن کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہووے کہا کہ سال 2007-08ء میں پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کا حجم 1309.3ملین ڈالر تھا جو 2014-15ء میں 209ملین ڈالر رہ گیا جبکہ جولائی تا فروری 2016-17ء کے دوران امریکہ نے پاکستان میں صرف 50.3ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے کہا کہ جارحانہ مارکیٹنگ حکمت عملی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

مزید :

کامرس -