37معطل جوڈیشل افسران کو بڑی محکمانہ سزائیں دیئے جانے کا امکان

37معطل جوڈیشل افسران کو بڑی محکمانہ سزائیں دیئے جانے کا امکان

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں معطل 37جوڈیشل افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے،قصورثابت ہونے پربرطرفی سمیت دیگربڑی محکمانہ سزاؤں کاامکان ہے ،4ایڈیشنل،ایک سینئرسول اور32سول ججز کے خلاف انکوائری ہورہی ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصورعلی شاہ کے حکم پر 2ماہ قبل پیشہ وارانہ بددیانتی سمیت مختلف الزامات کے تحت پہلے او ایس ڈی اورپھر ابتدائی تحقیقات کے بعد معطل کئے گئے جوڈیشل افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری جاری ہے۔امکان ہے کہ دوہفتوں تک محکمانہ انکوائری مکمل کر لی جائے گی اورقصور وار ثابت ہونے والے جوڈیشل افسروں کو بڑی محکمانہ سزائیں دئیے جانے کا امکان ہے جن جوڈیشل افسروں کو معطل کرکے باضابطہ محکمانہ انکوائریاں کی جارہی ہیں ان میں ایڈیشنل سیشن جج محمد علی رانا ڈسکہ، محمد بخش مسعود ہاشمی کمالیہ، محمد روف چیچہ وطنی اور سید احسن محبوب بخاری چیچہ وطنی شامل ہیں۔ سینئر سول جج لاہور جمیل احمد کھوکھر کو بھی معطل کرکے محکمانہ انکوائری کی جارہی ہے۔جن 32 سول ججوں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہورہی ہے ،ان میں نصرت علی صدیقی ملک جہانیاں، شیخ اللہ شخ دنیا پور، حافظ محمد اقبال کلہار لیاقت پور، ہدایت اللہ لاہور، مزمل سپرا ملتان، محمد طارق جھنگ، سعید احمد اعوان فیروز والا، محمد جاوید اسلم قریشی راولپنڈی، ندیم رانجھا بھلوال، ندیم عباس ساقی گوجرہ، محمد یوسف ہنجرا دیپالپور، نثار احمد بہاولنگر، محمد منصور فیصل آباد، ذوالفقار احمد ملتان، غلام مصطفیٰ گجرات، فیض احمد رانجھا فیروز والا، محمد نوازش خان چوہدری راجن پور، محمد افضل بھٹی لاہور، شہزاد اسلم لاہور، نور محمد نارووال، عبدالکریم سوہاوہ، محمد عنایت گوندل لاہور، خالد محمود وڑائچ لاہور، ملک اللہ دتہ انجم جتوئی، ساجد محمود شیخ، سرگودھا، نوید کامران لنگڑیال شجاع آباد، شاہد نواز کچھی بھوآنہ، بابر حسین پتوکی، شہزاد احسان بھٹی فتح جنگ، عبدالستار سرگودھااورعابد زبیر ننکانہ صاحب شامل ہیں۔

مزید :

علاقائی -