پاکستان میں تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں،جسٹس(ر) جواد ایس خواجہ

پاکستان میں تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں،جسٹس(ر) جواد ایس خواجہ

  

لاہور(فلم رپورٹر) ججوں کا کام سننا ہے بولنا نہیں،بدقسمتی سے پاکستان میں ایماندار افراد سیاست میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ نے ٹیک سوسائٹی کلب میں ٹیک ویلفےئر ہائی سکول کی آٹھویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں منظور احمدشیخ، عبد المجید خان، میاں محمد جمیل، مسز ناہید شیخ، محمود الرحمن چغتائی، ڈاکٹر محمد صادق اور ڈاکٹر حسیب اللہ نے انعامات تقسیم کئے جبکہ سابق وزیر مملکت قیوم نظامی، جمیل گشکور ی اور دیگر خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سکول کے بچوں نے قومی نغمے، ٹیبلو شو اور مختلف سکٹس پیش کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان میں تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں، اردو زبان ذریعہ تفریق بن چکی ہے اور یہ طبقاتی کشمکش معاشرے میں دراڑیں ڈال رہی ہے۔ اگر یہ طبقاتی تفریق ختم نہ کی گئی تو ہمارا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ آئینی طور پر اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن یہ بات ایک مخصوص محدود طبقہ نہیں سمجھتا۔ فرنگی ستر سال پہلے پاکستان سے چلا گیا لیکن ہم آج بھی ذہنی طور پر انکے غلام ہیں۔ آئین کے پاسدار اگر خود اس کی پاسداری نہیں کریں گے تو پھر کس کو پکڑیں گے۔ بعض فیصلے لکھنے والوں کی اپنی انگریزی کمزور ہوتی ہے کیونکہ یہ ان کی مادری زبان نہیں ہے۔انھوں نے سکول کے بچوں ، پرنسپل افرا ء ہاشمی اور مینجمنٹ کی تعریف کی اور اپنی مدد آپ کے تحت ٹیک سوسائٹی میں چلنے والے اس ٹرسٹ سکول کو ایک معیاری درس گاہ قرار دیا۔

جواد ایس خواجہ

مزید :

صفحہ آخر -