تخزیب کاری کے الزامات ثابت ، بھارتی جاسوس کلبھوشن کو سزائے موت ، آرمی چیف نے توثیق کر دی

تخزیب کاری کے الزامات ثابت ، بھارتی جاسوس کلبھوشن کو سزائے موت ، آرمی چیف نے ...

  

راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک/ نیوزا یجنسیاں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو کو پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات ثابت ہونے پر سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ گذشتہ برس بلوچستان سے گرفتاری کیے جانے والے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر اور 'را' کے جاسوس کلبھوشن یادو کو فوجی عدالت نے سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا ۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں تمام الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جاسوس کو موت کی سزا سنائی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ نیول آفیسر 41558Z کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو عرف حسین مبارک پاٹیل کو تین مارچ 2016ء کو ماشکیل بلوچستان سے کاؤنٹر انٹلیجنس آپریشن کے دوران پاکستان کیخلاف جاسوسی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی جاسوس کیخلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم)کی کارروائی میں موت کی سزا سنائی گئی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اب سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے کلبھوشن سدھیر یادیو کو تمام الزامات کا مرتکب قرار دیا ۔ ۔ واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کو قانونی تقاضوں کے مطابق دفاع کیلئے وکیل بھی فراہم کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کا مقدمہ ایک فوجی عدالت یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت چلایا گیا جس کے بعد انھیں سزائے موت سنائی گئی۔یاد رہے کہ وزیرِاعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے رواں برس مارچ میں پاکستان کے ایوانِ بالا کو بتایا تھا کہ کلبھوشن یادو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اور اْن کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔فوج کے بیان کے مطابق را کے ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کے افسر کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادو کو تین مارچ 2016 انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاڑ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔ کلبھوشن پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے سرگرم تھا اس کے خلاف تمام الزامات کو درست پایا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -