بشا رالاسد کو فارغ کرنا اب امریکی مقاصد میں شامل ہو گیا : جنرل میک ماسٹر

بشا رالاسد کو فارغ کرنا اب امریکی مقاصد میں شامل ہو گیا : جنرل میک ماسٹر

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اور حاضر سروس جنرل ایچ آرمیکماسٹر نے واضح کیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو ان کے عہدے سے ہٹانا اب امریکی مقاصد میں شامل ہوگیا ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل ’’فوکس نیوز‘‘ کے ساتھ اتوار کے روز خصوصی شو میں انہوں نے یہ بات شام کے بارے میں امریکی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے بتائے جس کے مطابق وہاں دہشت گرد گروہ داعش کو شکست دینا بدستور اولین ترجیح رہے گی۔ جنرل میمکماسٹر حال ہی میں سکیورٹی معاملات کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے انتہائی موثر ’’سٹرانگ مین‘‘ کے طور پر ابھرے ہیں جس کی تازہ مثالیں شام کی اسد انتظامیہ کی طرف سے معصوم شہریوں کے خلاف کیمیائی گیس استعمال کرنے کے بعد وہاں میزائل حملے کا فیصلہ اور نیشنل سکیورٹی کونسل کی تشکیل نو ہے۔ ماہرین کے مطابق میزائل حملے کا اصل فیصلہ ان کا تھا جسے انہوں نے صدر ٹرمپ سے منوایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے صدر کے قریبی ساتھی اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکمت کار سیٹوبینن کو نیشنل سکیورٹی کونسل سے الگ کرکے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈنفورڈ اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ڈان کولسٹن کو کونسل کی ’’پرنسپلز کمیٹی‘‘ کا مستقل رکن بنایا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کا وائٹ ہاؤس پر غلبہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے چار اہم مشاورتی عہدوں پر سینئر فوجی کمانڈر فائز ہیں، جن میں سے تین ریٹائرڈ اور ایک حاضر سروس جنرل ہے۔جنرل میکماسٹر نے ’’فوکس نیوز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے بارے میں امریکی حکمت عملی کے دو بنیادی مقاصد بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں، ان کے حصوں میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ روس اور ایران کو بھی شریک کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ اسد انتظامیہ کو برقرار رکھ کر شام کا سیاسی حل کیسے ممکن ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ صرف ہم یہ تبدیلی لائیں گے۔ روس اور ایران جیسے ان حمائتیوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کس لئے ایک ایسی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں جو اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔

جنرل میکماسٹر

مزید :

صفحہ اول -