سرائیکی صوبہ بننے تک وفاق مکمل ہوگا نہ ہی دستور،سرائیکی رہنما

سرائیکی صوبہ بننے تک وفاق مکمل ہوگا نہ ہی دستور،سرائیکی رہنما

  

ملتان (سٹی رپورٹر)ملتان جب تک سرائیکی صوبہ نہیں بنے گا نہ وفاق مکمل ہو گا اور نہ دستور ۔ سینیٹ میں چند سینیٹروں کی خیرات نہیں مکمل حصہ مانگتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں عاشق بزدار، پروفیسر شوکت مغل، ارشاد امین ، ظہور دھریجہ اور منور خان بزدار نے یوم دستور کے حوالے سے منعقد کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سرائیکی شاعر(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

فیض بلوچ، زاہد سومرو ، اعجاز گولڈن ، جام محمد بخش شجم نوناری ، جام سجاد رسول ، جام نصیر احمد، رئیس محمد کامران اسلم اور دوسرے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوم دستور پر وزیراعلیٰ نے یہ پیغام دیا کہ یوم دستور پنجاب اور پنجابی عوام کیلئے عہد ساز دن ہے۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان پر سرائیکی وسیب کے لوگ اس پر احتجاج کرتے ہیں کہ پنجابی عوام کا نام تو لیا گیا مگر کروڑوں سرائیکی اور پوٹھوہاری عوام کو نظر انداز کیا گیا۔ یوم دستور کے موقع پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ یہ متفقہ دستور نہیں اس پر سرائیکی وسیب کے دو ارکان اسمبلی مخدوم نور محمد ہاشمی اور میاں نظام الدین حیدر نے یہ کہہ کر دستخط نہ کیے کہ دستور میں ہمارا صوبہ شامل نہیں ہم اس پر دستخط نہیں کرتے۔ سرائیکی وسیب کے لوگ حکمرانوں سے اپنا صوبہ مانگتے ہیں اور سینیٹ میں ایک آدھ سینیٹر کی نہیں بلکہ اسی طرح سینیٹ میں نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہیں جس طرح کے دوسرے صوبوں کو نمائندگی حاصل ہے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر سرائیکی واحد قوم ہے جس کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے ، اس لئے اسے صوبے کا حق دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سرائیکی قوم کی شمولیت کے بغیر نہ تو سینیٹ کا ادارہ مکمل ہے اور نہ ہی پاکستان کا دستور۔ یاد رکھیئے! سرائیکی وسیب کے لوگ خیرات نہیں اپنا حق مانگتے ہیں۔

سرائیکی رہنما

مزید :

ملتان صفحہ آخر -