سٹیٹ بنک ملتان،سکیورٹی کے نام پر صارفین کو تنگ کرنا معمول بن گیا

سٹیٹ بنک ملتان،سکیورٹی کے نام پر صارفین کو تنگ کرنا معمول بن گیا

  

ملتان(جنرل رپورٹر)سٹیٹ بنک ملتان کے عملہ نے بھی پارٹ ٹائم بزنس شروع کردیا‘ بنک کے اندر آنے والے صارفین کو سکیورٹی کے نام پر تنگ کرنا معمول جبکہ بلیک میں نئے نوٹ فروخت کرنے والے ڈیلرز کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں‘ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی صارف کام کے سلسلہ میں سٹیٹ بنک چلا جائے تو سکیورٹی کے نام پر اس کا شناختی کارڈ اور موبائل آف کروا کر کاؤنٹر پر ہی (بقیہ نمبر45صفحہ7پر )

جمع کرلیا جاتا ہے اس کے بعد کام کی نوعیت اور کسی افسر سے بات کروانے کے بعد کافی دیر انتظار کروا کر اندر جانے دیا جاتا ہے اگر کسی صارف کا تعلق دار نہ ہو تو اسے گیٹ سے ہی واپس بھگادیا جاتا ہے جبکہ سٹیٹ بنک کے عملہ کی ملی بھگت سے گیٹ کے باہر نئے نوٹوں کا کاروبار کرنے والوں کی آمدروفت پر کوئی پابندی نہیں ہے ‘ وہ اندر سے دھکے کھا کر آنے والے صارفین کو کئی کئی گنا زیادہ ریٹ پر نئے نوٹ فروخت کرتے ہیں اور ختم ہونے پر فوری اندر جا کر مزید نوٹ لے آتے ہیں پرافٹ کا حصہ مبینہ طور پر اندر بیٹھے عملہ کو بھی دیا جاتا ہے اسی لئے عام صارف کو اندر جانے تک کی اجازت نہیں ہوتی‘ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت کے لئے سٹیٹ بنک کا عملہ ڈیلرز کی مدد کرتا ہے اور مبینہ طور پر سارا دن موبائلز پر ان ڈیلرز سے رابطے میں رہتے ہیں جبکہ عام صارف کو موبائل اندر لے جانے تک کی اجازت نہ ہے تاکہ کوئی ان کی ویڈیو یا تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل نہ کردے ۔شہریوں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ گورنر سٹیٹ بنک اشرف محمود وتھرا سے سکیورٹی کے نام پر بلیک میلنگ ختم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سٹیٹ بنک

مزید :

ملتان صفحہ آخر -