ہنگو ،گل باغ کلے مسائل کا آماجگاہ ،خطیر لاگت سے تعمیر شدہ سڑک ناقص میٹریل کی نذر

ہنگو ،گل باغ کلے مسائل کا آماجگاہ ،خطیر لاگت سے تعمیر شدہ سڑک ناقص میٹریل کی ...

  

ہنگو(سروے رپورٹ زاہد اللہ بنگش)ہنگوگل باغ کلے مسائل کے انبار سے دوچار۔65 لاکھ روپے سے تعمیر شدہ روڈ ناقص میٹریل کی نذر جبکہ 35 لاکھ روپے سے نالوں کی تعمیر اتی امور کاٹھیکدار غائب واٹر سپلائی اور بجلی سمیت تعلیمی نظام درہم برہم۔علاقہ مکین تشویش کا شکار بن گئے۔عدم صفائی کے باعث وبائی امراض پیھلنے کاخدشہ۔گیس ناپید۔ایک مختصر سروئے رپورٹ میں ہنگو گلباغ کلے عمائدین مشران بلدیاتی نمائندوں ویلج ناظم فاروق بنگش،اعظم خان،شریف خان،نذیر استاد، مصطفی، سمیع الدین،شاہ عالم ودیگر نے کہا کہ ہنگو کے گنجان آباد محلہ گلباغ میں ترقیاتی سیکموں کے 65 لاکھ کی لاگت سے تعمیر شدہ روڈ ناقص میٹریل کے باعث تباہ حالی سے دوچار جبکہ 35 لاکھ روپے سے نالوں کی تعمیر ومرمت کاکام ٹھیکدار کے ادھورا کام چھوڑنے سے جوں کے توں پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ کی غفلت اور چشم پوشی سے صفائی کی ابتر صورتحال کے باعث ندی نالے غلاظت کے ڈھیروں سے بند ہوکر وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ پیدا ہوتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ گل باغ میں اکثریتی بجلی کی تاریں لٹکی نظر آتی ہے جوکہ کسی بھی بڑے حددثے کا سبب بن سکتی ہیں گیس کم پریشر کی وجہ سے رہائشی مکانات میں چھولے ٹھنڈے پڑ جانے سے علاقہ مکینوں کو دووقت کی روٹی سے بھی محروم کیا گیا ہے سکولوں میں سٹاف کی کمی سمیت پانی ناپید اور عدم سہولیات سے تعلیمی صورتحال متاثر ہوکر بچوں کے قیمتی مستقبل کو داو پر لگایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ گلباغ کلے کے غریب عوام کے حقوق سلب کرتے ہوئے بے حسی کا ثبوت دیکر مسائل حل کرانے می۔ سنجیدہ نہیں اور منتخب نمائندے بھی عوامی مسائل سے لاعلم ہوکر خواب غفلت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ میونسپل انتظامیہ کے واٹر سپلائی سسٹم ایک ماہ کے عرصہ سے بند رہ کر گلباغ میں پانی کی قلت نے علاقہ مکینوں کو بوند بوند کیلئے ترسنے پر مجبور کر دیاہے جوکہ سراسر ظالمانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طورپر صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ اور اراکین اسمبلی نے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات نہیں اٹھائے تو احتجاجی تحریک کی کال دینے پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -