شیر گڑھ ،نوسر بار نے ملازمت کے بہانے کروڑوں روپے ڈکار لئے

شیر گڑھ ،نوسر بار نے ملازمت کے بہانے کروڑوں روپے ڈکار لئے

  

شیرگڑھ(نما ئندہ پاکستان) پاکستان کے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل ڈبل شاہ کے بعد شیرگڑھ کے علاقے میں پنجاب کے ساتھ تعلق رکھنے والا دوسرا ڈبل شاہ منظر عام پر آیا تا ج گھی اور وڈملز اور ملز کے جی ایم کا نام استعمال کر کے وسیم نامی شخص نے مقامی لوگوں سے کاروبار میں شرکت کے بہا نے 4 کروڑ روپے سے زائد رقم بٹور لیاان لو گوں کو ہر ماہ رقم کی منا سبت سے معقول منافع دیتا رہااسی طرح یہ چمک دیکھ کر نئے پرندے بھی وسیم کے جال آکر پھنس جاتے ایک ڈاکٹر بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے مگر چند ماہ بعد جب وسیم نے ان کو منافع کی آدائیگی بند کی تو ان کو تب پتہ چلا کہ وسیم فراڈیہ ہے اوران کو پکڑکر پولیس کے حوالہ کیا پولیس نے وسیم کو زیر دفعہ 107 کے تحت جیل بھیج دیاعام لوگوں کے رائے کے مطابق اگر وسیم فراڈیہ ہے تو ان کو فکس منافع پر رقم دینے والے بھی سودی کاروبار کر نے والوں کے زمرے میں آتے ہیں تفصیلات کے مطا بق پنجاب کے فیصل آباد کے رہائشی وسیم نا می شخص جو تاج گھی ملز سخاکوٹ میں بطور ملازمت کا م کر تاتھا مگر جب تاج گھی ملز والوں نے سخاکوٹ کے مقام پر وڈ ز فیکٹری لگا دی تو وسیم نے خود کو تاج ملز کے جی ایم کے بھانجے ظاہر کرتے ہو ئے لوگوں کو بتا یا کہ اس ملز کے ساتھ ٹھیکیدار کی حیثیت سے کا روبار شروع کی ہے مگر اس کاروبار کیلئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے اور اتنا سرمایہ لگا ناکسی ایک فرد اور پا رٹی کی بس کی بات نہیں لہٰذا لوگ مجھے رقم دے کر ہر ماہ مجھ سے باقاعدہ طور اپنی رقم کی منا سبت سے معقول معاوضہ وصول کیا کریں اسی طرح لوگ آتے اور اپنی جمع پونجی وسیم کے ہا تھ میں رکھ دیتے اور جب نیا پرندہ ان کے جال میں پھنس جاتا تو وسیم اس کو خود تاج اوروڈز فیکٹری میں لے جاتا جب وہ فیکٹری میں داخل ہو تے تو وہاں پر ملز کے جی ایم ان کو خوب پروٹوکول دیتے اور جب ان کے جال میں پھنسنے والا پر ندہ یہ پروٹوکول دیکھتا تو ان کا وسیم کے کاروبار پر مزید یقین پختہ ہو جا تا اور بے اختیاراپنی جمع پونجی لاکروسیم کے ہا تھ میں رکھ دیتے اور خود کو ان کے کاروبار میں پارٹنر بنا دیتا وسیم ہر ماہ سرمایہ دینے والے لوگوں کومعقول منافع دیتا اور اسی طرح یہ سلسلہ جا ری رہا آخر کار وسیم نے اپنے ان پارٹنرز کو کھل کر کہا کہ ان کی بڑی رقم کسی کے پاس پھنس گئی ہے اور اب وہ اپنے ان پا ٹنر ز کو منافع دینے کی پو زیشن میں نہیں تو ان کے شکا ر بننے والوں میں بے چھینی پھیل گئی اور ان کو پتہ چلا کہ کہ وسیم کا روباری نہیں فراڈیہ ہے تخت بھا ئی کے نواحی گاؤں گنجئی کے رہا ئشی ڈاکٹراکرم خان ولد حمیدشاہ نے وسیم کو اپنے حجرے میں بند کر کے پولیس کو اطلاع دی شیرگڑھ پولیس نے وسیم کوپکڑ کر حوالات میں بند کیا تو ان کی گرفتاری کی خبری پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ان کے شکا ر بننے والے لوگ ایک ایک کر کے پولیس تھا نہ شیرگڑھ پہنچنا شروع ہو گئے وسیم نے جن افراد سے رقومات بٹور لی ہیں اس میں ایک ڈاکٹر گنجئی کے رہا ئشی اکرم خان بھی شامل ہیں جس نے معقول منافع ملنے کی لالچ میں آکروسیم کو0 4 لاکھ روپے دیئے ہیں اسی طرح جو افراد وسیم کے ہاتھوں کی صفا ئی کا نشانہ بنے ہیں ان کے نام اور ان سے لی گئی رقم ذیل ہے سجاد علی خان سکنہ کودر ی سے14لاکھ روپے ،اعجاز احمد سکنہ کو دری 9 لاکھ روپے،انعام اللہ سکنہ سپلنوڈھیرئی سے 7 لاکھ 80ہزارروپے، محمد طا ہر سکنہ سخاکوٹ7 لاکھ روپے ،مختیا ر علی سخاکوٹ2 لاکھ 25 ہزار روپے، مسلم سکنہ صافی آباد 24 لاکھ 7 ہزار روپے،محمد پر ویز سکنہ کودری 36 لاکھ 65 ہزار روپے، فرمان فضل بٹ خیلہ 43لاکھ 18 ہزار روپے، جما ل الدین لوہار سکنہ شیر گڑھ 27 لاکھ 3 ہزار روپے ، احمد زیب سکنہ سوات 6 لاکھ 45 ہزار وپے اور اجمل سکنہ سخاکوٹ سے 54 لاکھ روپے ہیں ان لو گوں میں وہ نام اور رقومات شامل نہیں جو وسیم کی گرفتاری کے وقت پولیس تھانہ شیرگڑھ میں موجود نہیں تھے اور ان سے وسیم نے بھا ری رقومات ہڑپ کی ہیں یہ سب لو گ وسیم سے با قاعدہ طور پر ہر ماہ کے آخر میں اپنی رقومات کی تنا سب سے معقول منا فع وصول کر تے مگر جب وسیم نے رقم کسی کے پاس پھنسنے کا ان لو گوں کو کہا تو ان سب کے پا ؤں کے نیچے زمین ہل گئی اور خود کو ڈاکٹر ظاہر کر نے والے نے بد حواس ہوکر فوری طور پر وسیم کو شیرگڑھ پولیس کے حوالہ کیا مگر پولیس نے وسیم کو صرف 107 میں چالان کر کے جیل بھیج دیا عام لو گوں اور علماء کے مطا بق اس کیس میں اگر وسیم فراڈیہ ہے تو فکس منا فع پر پر وسیم کو رقومات دینے والے اور ان منافع لینے والے بھی سودی کا روبار کر نے کے زمرے میں آ تے ہیں اور جتنا وسیم گنا ہ گار اتنے یہ رقم دینے والے بھی گنا ہ گار ہیں ان کو اپنی لالچ نے ڈبو دیا معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہوا جب وسیم جیل سے با ہر آئے گا تب پتہ چلے گا کہ اس سکینڈل کا اختتام کہاں پر اورکیا ہو گا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -