گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کا زکو نقصان پہنچے گا:بیرسٹر سلطان محمود

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کا زکو نقصان پہنچے گا:بیرسٹر سلطان محمود

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کاز کو سخت نقصان پہنچے گا ، اور اقوام متحدہ میں ہمارا موقف کمزور ہوجائے گا، اس لئے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے گریز کیا جائے،آزاد کشمیر کا صدر ایک فارن آفس کے آدمی کو بنایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کشمیریوں پر اعتماد نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، ان کے ہمراہ تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیرسندھ کے صدر سردار مقصود الزماں راجہ اظہر، دواخان صابر اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ جبکہ پریس کلب کے سیکریٹری مقصود یوسفی بھی موجود تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کو دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں 7لاکھ سے زائد بھارتی افواج نے نہتے عوام پر مظالم کا سلسلہ ختم نہیں کیا۔ جس بندوق سے جانوروں کا ہلاک کیا جاتاہے وہ بندوق انسانوں پر استعمال کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں جہاں سینکڑوں افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں، وہاں لاتعداد لوگ معزوری کا بھی شکار ہیں جبکہ ہونے والی شہادتیں اس کے علاوہ ہیں،گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی 15شہادتیں اس بات کی کڑی ہیں،انھوں نے کہا کہ پاکستان سے بندوقیں تو جاسکتی ہیں لیکن پتھر نہیں جاسکتے وہاں تو لوگ بھارتی فوجیوں کو پتھر سے مار رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مضبوط و مستحکم پاکستان سے کشمیریوں کی بقاء ہے۔کرپشن جس سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کرپشن فری ہوجائیں۔انھوں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے اچھی خبر ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو موت کی سزا سنادی گئی ہے۔ اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر سلطان محمود نے کہا کہ گلگت ،بلتستان کو علحیدہ صوبہ بنانے کے بجائے ، یا تو آزاد کشمیر میں ضم کردیا جائے یا پھراسے آزاد کشمیر کی طرح سے علحیدہ ریاست بنادی جائے اور اس کا انتظام وفاق کے پاس ہو۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک سے دنیا کے ملکوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے،چین، روس، اور کوفی عنان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بات کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کا ا باضابطہ طور پر وزیر خارجہ مقرر کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کا کشمیر کے حوالے سے موقف کمزور ہے۔آزاد کشمیر کا صدر فارن آفس کے آدمی کو بنادیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ وہ بہت قابل آدمی ہیں، فارن آفس کے آدمی کو صدر بنانے کا مطلب ہے کہ کشمیریوں پر اعتماد نہیں کیا گیا ہے۔ اگر یہی کام بھارت کرتا تو پاکستان کے جانب سے بہت شور مچایا جاتا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -