شہرقائدکاموسم اور سیاسی ماحول ایک ساتھ انتہائی گرم

شہرقائدکاموسم اور سیاسی ماحول ایک ساتھ انتہائی گرم

  

(تجریہ:کامران چوہان)

کراچی کا موسم اور سیاسی ماحول ایک ساتھ انتہائی گرم ہوگئے ہیں ۔ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد شہر قائد کی سیاسی حکمرانی کے لئے مختلف جماعتوں نے اپنے کارکنوں کو متحرک کردیا ہے اور اس وقت شہر کی فضا احتجاجی نعروں سے گونج رہی ہے ۔پریس کلب کے باہر پاک سرزمین پارٹی خیمہ زن ہے جبکہ شہرکے تقریباً 20مقامات پر احتجاجی مظاہرے بادستورجاری ہیں وہیں جماعت اسلامی نے شہریوں کو بجلی اورپانی کے مسائل سے نجات دلانے کے لئے کمر کس کرمیدان میں دکھائی دے رہی ہے ۔جہاں دونوں جماعتیں عوامی مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں تو دوسری طرف اپنے آپ کو شہر کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر جماعت کہنے والی ایم کیو ایم پاکستان اور اس کے میئر مسلسل اختیارات نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں ۔گو کہ کراچی والوں کے مسائل اوربلدیاتی نمائندوں کواختیارات نہ دیئے جانے کا واویلا میئر کراچی نے منصب سنبھالنے کے بعد سے شروع کیا۔اس ساری صوتحال پر سندھ حکومت نے میئرکراچی کواختیارات اور عوام مسائل کارونارونے کے بجائے کام کرکے دکھانے کامشورہ دیا ہے مگر اب کراچی والوں کودرپیش مسائل کے حل کیلئے جماعت اسلامی اور پاک سرزمین پارٹی میدان میں ہیں ۔کراچی کے گرم سیاسی ماحول میں متحدہ پاکستان نظرنہیں آرہی ہے جبکہ پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی کے احتجاج کو بھرپور عوامی توجہ حاصل ہورہی ہے ۔شہرکے موجودہ سیاسی صورتحال سے دکھائی یہی دیتا ہے کہ شہری مسائل کے حل کیلئے اسٹریٹ پالیٹکس کرنے والی دونوں سیاسی جماعتیں دراصل آئندہ انتخابات میں متحدہ لندن /متحدہ پاکستان کو ’’رپلییس‘‘کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی نے آئندہ انتخابات کے لیے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور یہ احتجاج عوامی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا بھی ایک موثر ذریعہ ہے ۔ایم کیوا یم کی ٹوٹ پھوٹ اور کراچی میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شہر قائد کے باسی کئی دہائیوں کے بعد آزادانہ طور پر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرسکیں ۔اگر شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو جماعت اسلامی کے لئے کراچی میں’’ کم بیک ‘‘کیلئے اس سے اچھا اور کوئی موقع نہیں ہوسکتا ہے ۔اسی طرح پاک سرزمین پارٹی کی نظریں بھی آئندہ انتخابات پر ہیں اور وہ کراچی سے اتنی نشستیں جیتنے کی متمنی ہے جس سے دیگر سیاسی جماعتوں کو یہ پیغام جائے کہ پی ایس پی بھی اب شہر کی ’’اسٹیک ہولڈر‘‘ ہے ۔اس ساری صوتحال کے بعد ہر سیاسی جماعت ’’کراچی ہمارا‘‘ ہے کا نعرہ لگا کرآئندہ الیکشن میں کراچی شہر کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی دکھائی دیتی ہے مگر کراچی اسے جماعت کا ہوگا جو ’’مہاجرووٹ بینک‘‘کو اپنے کھاتے میں ڈال لے گی ۔ اس دوڑمیں جماعت اسلامی ،پاک سرزمین پارٹی،متحدہ پاکستان کے ساتھ ساتھ صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی بھی بھرپورکوششوں میں مصروف ہے ۔ذرائع کے مطابق متحدہ کے زیراثرسمجھے جانے والے علاقوں کے کئی کارکنان پیپلزپارٹی میں شامل ہوچکے ہیں جس کے ذریعے شایدپیپلزپارٹی آئندہ الیکشن میں شہرکی کچھ نشستوں کے حصول کی خواہشمندہے ۔جماعت اسلامی بھی اپنے بٹے ہوئے ووٹ بینک کویکجاکرنے میں مسلسل سرگراں ہے ۔اپنے بانی سے منحرف ایم کیو ایم پاکستان کے بارے میں عام تاثریہ ہے کہ یہ محض ایم این ایز اور ایم پی ایز کی جماعت رہ گئی ہے اور جس دن ارکان پارلیمنٹ اپنے عہدوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ جماعت اپنی رہی سہی افادیت بھی کھو بیٹھے گی۔اس وقت کراچی کے سیاسی گراؤنڈ پرسب سے بڑی کامیابی پاک سرزمین پارٹی سمیٹ رہی ہے ایم کیو ایم کے سیکٹر اور یونٹس سطح کے کارکنوں کی بڑی تعدادمیں پی ایس پی شمولیت اس جماعت کی بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے جس کے فوائدنتائج آئندہ انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کوملیں گے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -