این بی پی ،ٹیلی نار اور مائیکرو فنانس بینک کے درمیان معاہدہ

این بی پی ،ٹیلی نار اور مائیکرو فنانس بینک کے درمیان معاہدہ

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) نیشنل بینک آف پاکستان ، ٹیلی نار پاکستان اور ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ(سابق تعمیر مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ) کے درمیان اسٹریٹیجک الائنس طے پا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے پر دستخطوں کی تقریب اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس پر نیشنل بینک کی جانب سے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، سعید احمد نے ،ٹیلی نارکی جانب سے اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، عرفان وہاب نے اورٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کی جانب سے بینک سی ایف آئی او اینڈ سی ڈی او یحیٰ خان نے دستخط کیے۔اس موقع پرنیشنل بینک کے ایس ای وی پی/ گروپ چیف سی آر بی جی مدثر ایچ خان، ای وی پی/ہیڈ-پیمنٹ سروسزاظفر جمال، ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کے چیف آپریٹنگ آفیسر خواجہ آصف اور ہیڈآف ایف ایس کاراندازسمیت تینوں اداروں کے دیگر سینئر اہلکاربھی موجود تھے۔یہ اسٹریٹجک الائنس اس تحاد کے تسلسل میں ہے جس کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے جواب پاکستان کی تقریباً تمام ٹیلی کام انڈسٹری کا احاطہ کر چکی ہے۔اس معاہدے کے تحت ٹیلی نار یو ایس ایس ڈی چینل، ایجنٹ نیٹ ورک آف ایزی پیسہ اور این بی پی کی ٹرانزیکشن بیس سمیت متعدد سروسز فراہم کی جائیں گی تاکہ پبلک ٹو گورنمنٹ (P2G) اور گورنمنٹ ٹو پبلک (G2P) ٹرانزیکشنز سمیت بینکاری کی سہولت تک رسائی رکھنے اور رسائی نہ رکھنے والی آبادی کو سہولت فراہم کی جاسکے ۔پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری بینکوں میں سے ایک اور پاکستان کی ممتاز ٹیلی کام آپریٹرزمیں سے ایک اور اس کے مائیکرو فنانس بینک کے ساتھ شراکت کے ذریعے ڈیجیٹل فنانشل سروسز کے ڈائنامکس یقیناً آئندہ منزل تک پہنچیں گی۔تقریب کے بعد نیشنل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، سعید احمد نے کہا کہ نیشنل بینک ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جدت کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس مواقع پیدا کرنے کانظریہ رکھتا ہے اور اس کے ذریعے رسمی بینکاری سیکٹر میں جامع اور پائیدار ترقی دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل بینک، ٹیلی نار پاکستان اور ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک لمٹیڈ مل کر اپنی انڈسٹری کے ویژن کو وسیع کریں گے تاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی (National Financial Inclusion Strategy) کو کامیاب بنایا جا سکے۔ سعید احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ تین اسٹریٹجک الائنسز ہمارے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ نیشنل بینک ایک عوامی ادارہ ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فنانشل سروسز پر مشتمل ایسا ڈیجیٹل سوٹ تیار کریں جس تک مارکیٹ کے تمام پلیئرز کو کسی بھی دستیا ب چینل کے ذریعے ر سائی حاصل ہواور وہ ای-گورننس انفراسٹرکچر کو بااختیار بنانے پر توجہ رکھتے ہوئے کسٹمر کی سہولت میں اضافہ کر یں۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مدثر ایچ خان ایس ای وی پی/گروپ چیف سی آر بی جی-این بی پی نے کہا :’’پاکستان میں ڈیجیٹل فنانشل سروسز انڈسٹری نے اپنا پہلا قدم 2009میں اٹھایا تھا اور اب یہ ایک ایسے مرحلہ پر پہنچ چکی ہے جہاں سے اسے اگلی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ این بی پی موبائل منی پلیٹ فارموں اور سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کے ذریعے سروسز کو ڈیجیٹائز کر رہی ہے؛ ہم مالی شمولیت کے ہدف کو اس کے حقیقی معنوں کے ساتھ قائم کر رہے ہیں اور ملک میں شمولیت میں اضافے کے لیے مناسب ماحول بھی پیدا کر رہے ہیں۔‘‘اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی نار پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، عرفان وہاب نے کہا :’’پاکستان میں ٹیلی نارپاکستان اور ٹیلی نار مائیکروفنانس کے ترقی کرتے ہوئے مالی ایکو سسٹم کی پشت پرملک میں خودمالی شمولیت کا فروغ ایک تحریکی قوت کے طور پر موجود ہے۔ٹیلی نار پاکستان معاشر ے میں مالی شمولیت سے باہر طبقوں کو مالی شمولیت میں لانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے اور اس کے لیے باکفایت مالی پروڈکٹس اور سروسز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔پاکستان کے مشترکہ ویژن کو حاصل کرنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے بینکاری ادارے ، نیشنل بینک آف پاکستان ،کے ساتھ اتحاد قابل اطمینان ہے۔ہم مل کر اپنی خوشگوار امیدوں کے لیے تیزی سے قدم اٹھائیں گے۔اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کے سی ایف آئی او اینڈ سی ڈی او محمد یحیٰ نے کہا:’’گورنمنٹ ٹو پبلک (G2P) اور پبلک ٹو گورنمنٹ (P2G) کے میدان میں سب سے بڑے بینک اور بلا شاخ بینکاری کے سب سے بڑے ادارے کے ساتھ تعاون ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے جو ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل سہولت کی فراہمی کے ذریعے ملک کے مالی منظر نامے تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اور اس طرح پاکستان کے کم مراعات یافتہ طبقوں کو مالی نظام اور بینکاری کے مرکزی دھارے میں شامل کر رہے ہیں۔نیشنل بینک کے ساتھ تعاون دونوں اداروں کی طاقت سے ہماری کوششوں میں تیزی لائے گا۔میں بہت پر امید ہوں کہ ہم مل کر ملک کے مالی منظرنامہ کو تبدیل کر دیں گے۔ملک کے بڑے بینکوں اور ایک ممتاز ٹیلی کام کمپنی کے درمیان تعاون کا یہ نیا راستہ بڑی مالی شمولیت کے لیے ایک آزمایہ ہوا طریقہ ہے جو میکرو اکنامک لیول پر عظیم تر مقامی معاشی سرگرمی اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے موافقت رکھتا ہے۔اس معاہدے میں شریک اداروں کی انتظامیہ ڈیجیٹل پیمنٹس کے ذریعے باقاعدہ مالی خدمات پر یقین رکھتی ہیں اور متعدد مائیکرواکنامک انڈیکٹرز پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں جس میں سیلف-ایمپلائمنٹ، کاروباری سرگرمیاں ، گھریلوخرچ اور بہبود شامل ہیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -