کلبھوشن سے پہلے سربجیت، کشمیرسنگھ اوررویندا پاکستان میں جاسوسی کرتے پکڑے گئے

کلبھوشن سے پہلے سربجیت، کشمیرسنگھ اوررویندا پاکستان میں جاسوسی کرتے پکڑے ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) کل بھوشن یادو بھارت کا پہلا جاسوس نہیں جو پاکستان سے پکڑا گیا، بھارت پہلے بھی کئی بار بے نقاب ہوچکا ہے۔اس سے پہلے سربجیت سنگھ 1981ء میں پاکستان میں گھسا، کشمیر سنگھ 35 برس پاکستان میں رہا ہوا، رویندرا کوشک 1975ء میں پاکستان آیا، جاسوسی کرتا رہا۔پاکستان توڑنے اور ملک خدا داد میں فساد کرانے کے ناپاک منصوبوں میں ملوث ’’را‘‘ کا ایجنٹ کل بھوشن یادیو سرزمین پاک پر ناپاک عزائم لیکرداخل ہونیوالا پہلا بھارتی جاسوس نہیں، پاکستان کے پاس کلبھوشن کے پیش روؤں کی طویل فہرست ہے، جو پکڑے گئے اور بھارت بے نقاب ہوتا رہا۔بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ دسمبر1981ء میں بھارت سے پاکستان میں گھسا لیکن پکڑا گیا، 73برس کی عمر میں27 مئی2012ء کو بھارت لوٹا تو اس کا باپ، دو بہنیں، بڑا بیٹا اور چار بھائی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔بدنامی سے بچنے کیلئے بھارت حکومت نے سربجیت سنگھ سے لا تعلقی ظاہر کر دی، سربجیت سنگھ نے بھارتی قومی ٹی وی پر اعتراف کیا کہ وہ ’را‘ کا ایجنٹ تھا۔بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ35 برس پاکستان میں قید رہنے کے بعد 2008ء میں بھارت واپس پہنچا، دواران قید تو کشمیر سنگھ نے کبھی تسلیم نہ کیا کہ وہ جاسوسی مشن پر تھا لیکن سرحد پار بھارتی مٹی پر قدم رکھتے ہی کشمیر سنگھ کا ضمیر جاگ اٹھا اور اس نے سچ اگل دیا، نعرہ لگا کر بتایا کہ وہ بھارتی جاسوس تھا۔ 1975ء میں ’را‘ میں شمولیت اختیار کرنیوالے روندرا کوشک کو بھی بارڈر پار جاسوسی کیلئے بھیجا گیا، اس خطر ناک جاسوس نے کراچی میں گریجویشن کی، اردوسیکھی اور پھر پاکستان آرمی میں بھی شامل ہوگیا، 1983ء میں راز فاش ہونے پر روندرا کو گرفتار کر لیا گیا، جو 16سال جیل میں رہا اور دوران قید طبی موت مر گیا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -