ضرورت پڑی تو شام پر حملہ کرینگے ، امریکہ منہ توڑ جوب دینگے: مشترکہ کمان سنٹر

ضرورت پڑی تو شام پر حملہ کرینگے ، امریکہ منہ توڑ جوب دینگے: مشترکہ کمان سنٹر

  

دمشق/واشنگٹن( نیٹ نیوز /اے این این) امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ ضرورت پڑی تو شام پر پھر حملہ کر سکتے ہیں جبکہ روس،ایران اور شام پر مشتمل مشترکہ کمانڈ سینٹر نے واضح کیا ہے کہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ایک ٹی وی پروگرام میں امریکی وزیر دفاع ریکس ٹلرسن نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شامی حکومت کو باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں کیمیائی حملہ کرنے سے باز رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ روس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تباہی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا ۔اس عمل میں ناکامی کی وجہ سے ہی شامی حکومت یہ حملہ کر سکی۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس مبینہ حملے میں روس بھی حصہ دار تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ 'روس اس سازش میں شامل تھا یا وہ صرف نااہل تھا یا اسے دھوکہ دیا گیا۔شامی حکومت کی طرف سے، وہ بین الاقوامی برادری سے کیے جانے والے اپنے وعدے میں ناکام ہو گیا ۔امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس نے شامی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس میں اس کی ناکامی کی وجہ سے زیادہ بچے اور معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کی شام میں پہلی ترجیح شدت پسند گروپ داعش کو شکست فاش سے دوچار کرنا ہے۔ خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔داعش پر قابو پا کر نہ صرف امریکہ کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو روکا جا سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن واستحکام کے لیے داعش کی شکست ضروری ہے۔ لوگ بار بار شام میں ہماری ترجیحات کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ہماری ترجیحات واضح ہیں۔ شام میں ہماری پہلی ترجیح داعش کو شکست دینا ہے۔ امریکہ شام کے تمام متحارب گروپوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔ توقع ہے کہ شام میں اعتدال پسند قوتیں مذاکرات کی میز پرمسائل حل کرنے کی کوشش کریں گی۔ شام میں متحارب فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اسد انتظامیہ اور اس کے حلیف بھی شامل ہوسکتے ہیں مگر انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تازہ کشیدگی کے دوران بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ شام میں اسد انتظامیہ کے فوجی اڈے پر امریکی حملے پر روس کے انتقامی ردعمل سے ہم خوف زدہ نہیں۔ ہم نے اس اڈے کو تباہ کیا ہے جہاں سے اسدانتظامیہ کے جنگی طیاروں نے اڑ کر خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے ۔ شام میں فوجی کارروائی کا نشانہ روس نہیں تھا بلکہ اسد انتظامیہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے مرکز کو تباہ کیا گیا۔ادھر اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ محسوس کرتے ہیں کہ شام پر مزید فوجی حملوں کی ضرورت ہے ''تو وہ ایسا کریں گے''۔ نِکی ہیلی نے امریکی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ وہ یہاں پر رکیں گے نہیں۔۔ہیلی کے بقول ''یہ کسی آپشن کا معاملہ نہیں کہ اگر اسد حکومت کا سربراہ رہتا ہے تو کسی سیاسی حل کی بات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر آپ ان کے اقدامات پر نظر ڈالیں، اگر آپ ان کی صورتِ حال پر نگاہ ڈالیں، تو کوئی حکومت ایسی دکھائی نہیں دیتی جو اسد کو پرامن اور مستحکم خیال کرتی ہو'' ۔حکومت کی تبدیلی ایسی بات ہے جو ہمارے خیال میں ہو کر رہے گی۔دوسری جانب روس، ایران اور بشار الاسد نواز ملیشیاؤں پر مشتمل مشترکہ کمانڈ سینٹر نے کہا ہے کہ حمص میں ایک شامی ائر بیس پر میزائل حملہ کر کے امریکہ نے تمام حدیں پار کر دیں۔ کمانڈ سینٹر کے مطابق" کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اتحادی 'بشار الاسد' کی حمایت میں اضافہ کر رہے ہیں۔'اعلام الحربی' یعنی وار میڈیا پر جاری بیان میں مشترکہ کمان سینٹر کا کہنا تھا کہ امر یکہ نے شام پر جارحیت کا ارتکاب کر کے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اس کے بعد ہم ریڈ لائن عبور کرنے والے کسی بھی جارح کو پوری طاقت سے جواب دیں گے۔ امریکہ جوابی وار کرنے کی ہماری صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہے۔روسی صدر پیوٹن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کیا اور شام میں جاری صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے شام پر جارحیت ناقابل قبول اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔دونوں رہنماؤں نے ادلب میں کیمیائی حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔

امریکہ دھمکی

مزید :

کراچی صفحہ اول -