صوبائی حکومت نے پختونون کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا : حیدر ہوتی

صوبائی حکومت نے پختونون کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا : حیدر ہوتی

  

ہنگو (بیووررپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ امیر حید ر خان ہوتی نے کہا کہ پختون قوم اتفاق و اتحاد کا مظبوط ستون ہے۔باچا خان کی نظریات کی عدم تشدد کی پالیسی کی سیاست اے این پی کی سیاست کا محور ہے۔موجودہ صوبائی حکومت نے پختونوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صوبے کی ترقی سے بالاتر بین الاقوامی سطح پر گدھوں کی تجارت کے معاہدوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔پختونوں کی سر زمین کو 80ارب کا مقروض بنایا گیا ۔وہ پیر کے روز ہنگو میں سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ،سابق سنیٹر عبد الانبی بنگش ،سابق ایم ایم این اے پیر حیدر علی شاہ،شازیہ اورنگزیب،صوبائی نائب صدر سید حسین علی شاہ و دیگر ضلعی صوبائی قائدین بھی موجود تھے۔امیر حیدر خان ہوتی اور سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی کے دور اقتدار میں پختونوں کو ایک الگ منفرد تشخص دلایا گیا اور صوبائی خود مختاری کے تحت اپنے فیصلے از خود کئے گئے جبکہ گزشتہ چار سال سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے فیصلے بنی گالہ سے مسلط کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائدین اور کارکنان نے صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے شہادتیں نوش کیں جبکہ موجودہ سیاسی شعور سے عاری صوبائی حکومت نے صرف پختونوں کا استحصال کر کے شاہ کرسیوں کے مزے لوٹ کر صوبے کو سال ہاں سال پیچھے دکھیل دیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر عوام کے کندھوں کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے اسلامی ٹھیکداران صرف اسلام آباد کے خواب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2013میں اے این پی دہشت گردی کے خلاف کمر بستہ ہو کر لاشیں اٹھا رہی تھی جبکہ سیاسی حریف سیاسی دکان چمکا کر اقتدار کے حوس میں مصروف تھے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاق سے محاز آرائی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد کھو کر صوبے میں کوئی ترقیاتی امور نہ دیکھا سکی اورصوبے کو مالی بحران سے دوچار کیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے پر صوبائی حکومت کی خاموشی نا اہل حکمرانوں کی ناکامی کا بڑا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے صوبے کے صحت کو اپنی صحت کے برابر لا کھڑا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائل محب الوطن ہے جنہوں نے ملک و قوم کے لئے قربانیاں پیش کئے مگر آج قبائل کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔قبائل دہشت گرد نہیں بلکہ قبائل پر جنگ مسلط کرنے والے دہشت گرد ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے لئے2018کے انتخابات سے قبل انضمام کا عمل مکمل کیا جائے اور پالیسی کی اطلاق پر ان کے معاملات صوبائی حکومت کے زیر انتظام سونپ دیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد منصفانہ عدالتی نظام ،قانون اور انتظامی اصلاحات ،انڈسٹریز زون کا قیام ،تعلیم ،صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کا قانونی حق بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنا اور حقیقی زمینی حقائق پر مبنی مردم شماری صوبے کے عوام کی روشن مستقبل اور وسائل کے منصفانہ تقسیم کے لئے سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئیندہ عام انتخابات میں اے این پی کی انتخابی امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ کی تقسیم میں فیصلے مسلط کرنے کے بجائے پارٹی تنظیموں کی باہمی مشاورت سے عمل میں لائی جائے گی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -