پراجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف چترال کی تقرری عدالت میں چیلنج

پراجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف چترال کی تقرری عدالت میں چیلنج

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ میں یونیورسٹی آف چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی تقرری کو چیلنج کر دیا گیا اور رٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے فیصلہ تک پراجیکٹ ڈائریکٹر کوفرائض کی انجام دہی سے روکا جائے۔ایڈوکیٹ محب اللہ تریچوی کی وساطت سے درخواست گزارپروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی کی جانب سے دائر رٹ میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، محکمہ ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا اور پراجیکٹ ڈائریکٹر چترال یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاریکو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ولی نے انگلش کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ، تاہم چترال یونیورسٹی میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کی آسامی کے لئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو تین ناموں پرمشتمل سمری ارسال کی جس میں درخواست گزار کا نام سر فہرست تھا مگر اس کے باوجود میرٹ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد کی بحیثیت پراجیکٹ ڈائریکٹر تقرری کا اعلامیہ جاری کیا گیا مگر اس کے چند روز بعد وزیر اعلیٰ نے ایک آرڈر جاری کیا جس میں سمری میں موجود تین ناموں کی بجائے وزیر اعلیٰ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی تقرری کے احکامات دئیے ،جس کا محکمہ ہائر ایجوکیشن نے 31 مارچ 2017 کو باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔رٹ میں استدعا کی گئی کہ پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی بحیثیت پراجیکٹ ڈائریکٹر تقرری غیر قانونی ہے لہذا اسے عہدے سے برطرف کیا جائے اور کیس کے فیصلہ تک پراجیکٹ ڈائریکٹر کوفرائض کی انجام دہی سے روکا جائے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -