بے بنیاد الزامات لگانا فیشن بن گیا:سپریم کورٹ، 10 لاکھ جرمانے کیخلاف چینل کی اپیل واپس، ڈاکٹرشاہد مسعود کو نوکری سے نکال دیاگیا: اپیل کنندہ

بے بنیاد الزامات لگانا فیشن بن گیا:سپریم کورٹ، 10 لاکھ جرمانے کیخلاف چینل کی ...
بے بنیاد الزامات لگانا فیشن بن گیا:سپریم کورٹ، 10 لاکھ جرمانے کیخلاف چینل کی اپیل واپس، ڈاکٹرشاہد مسعود کو نوکری سے نکال دیاگیا: اپیل کنندہ

  

 اسلام آباد (ویب ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے پروگرام لائیو ود شاہد مسعود میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وزیر دفاع کے ہمراہ آرمی چیف سے خفیہ ملاقات کے حوالہ سے نجی ٹی وی پر مبینہ جھوٹی خبر چلانے کی پاداش میں پیمراکی کونسل آف کمپلینٹس کی جانب سے 10 لاکھ روپے جرمانہ کرنے سے متعلق مقدمہ میں نجی ٹیلی ویژن چینل کی اپیل کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ کی جانب سے اپیل واپس لئے جانے کی بنیاد پر خارج کر دی ہے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آج کل ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بے بنیاد الزامات لگاناایک فیشن بن چکا ہے، پیمرا کو کام کرنے دیا جائے، دوران سماعت ڈاکٹرشاہد مسعود کے وکیل نے بتایاکہ ان کے موکل کو نکال دیا گیا ہے جبکہ پیمرا کی جانب سے انکے پروگرام کی وجہ سے کئے جانے والے جرمانہ کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے،جس پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہاں سے فیصلہ آنے دیں۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بنچ نے نجی ٹیلی ویژن کی چیئرمین پیمرا کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی سماعت کی توجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپیل کنندہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی اپیل میں لکھا ہے کہ آپ اربوں پتی ہیں تو پھر پیمرا کی جانب سے کیا گیا 10 لاکھ روپے کا جرمانہ آپ کے لئے کیا معنی رکھتا ہے ؟ کیا خبر دینے سے پہلے ا فوج پاکستان اور وزرا ءکا موقف بھی لیا تھا ؟اگرنہیں تو میرے نزدیک یہ زرد صحافت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیااینکر اب بھی ٹی وی میں کام کر رہے ہیں یا ان کو غلط خبر نشر کرنے کی پاداش میں معطل کردیا گیا ہے تو اپیل کنندہ کے وکیل نے بتایا کہ اب وہ (انکے موکل) ادارے کیلئے کام نہیں کررہے ہیں بلکہ انہیں نکال دیا گیا ہے،جبکہ پیمرا کی جانب سے انکے پروگرام کی وجہ سے کئے جانے والے جرمانہ کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے،جس پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہاں سے فیصلہ آنے دیں، پیمرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے، اسے کام کرنے دیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق چینل کے وکیل نے کہا کہ کہ اتھارٹی کا ہمارے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہے ، ہمارے خلاف ایک سماعت اسلام آباد تو دوسری کراچی میں کی جاتی ہے، انکے اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ متعصب ادارہ ہے۔ بعد ازاں اپیل واپس لئے جانے کی بناءپر خارج کردی گئی۔

مزید :

اسلام آباد -