فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 56

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 56
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 56

  

اس سے پہلے سبطین فضلی صاحب کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ وہ کئی سال قبل مرحوم ہو چکے ہیں۔ بہت باغ و بہار قسم کے آدمی تھے۔ انتہائی خوش اخلاق‘ خوش گو اور خوش لباس۔ بہت خاندانی آدمی تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے ہی سبطین فضلی اور ان کے بھائی حسنین فضلی نے کلکتہ میں ایک فلم ساز ادارہ ’’فضلی برادران‘‘ کے نام سے قائم کیا تھا اور بہت ہٹ فلمیں بنائی تھیں۔ ’’قیدی‘ چورنگ، عصمت‘‘ وغیرہ ان کی مشہور فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ فضلی برادرز عموماً معاشرتی موضوعات پر مسلم سوشل فلمیں بناتے تھے جو ہندوستان کے مسلمانوں کو تو پسند آتی ہی تھیں‘ دلچسپی اور معیار کی وجہ سے ہندو بھی انہیں بہت ذوق و شوق سے دیکھتے تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی فضل احمد کریم فضلی تھے۔ وہ بھی بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے اور قیام پاکستان سے پہلے انڈین سول سروس میں تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں آگئے اور بہت اعلیٰ عہدوں پر کام کرتے رہے۔ وہ بہت اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک تھے۔ بہت اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں انہوں نے ایک ناول بھی لکھا تھا جسے اپنے موضوع اور معیار کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ فضل کریم فضلی صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فنون لطیفہ کے شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر کراچی میں ایک فلم ساز ادارہ قائم کیا اور ’’چراغ جلتا رہا‘‘ بنائی۔ اس کی کہانی‘ مکالمے اور گانے ان ہی کے تحریر کردہ تھے۔ اس فلم کی قابل ذکر خوبی یہ ہے کہ اس میں زیبا‘ محمد علی اور دیبا کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔ اس فلم کے ہیرو طاہر تھے اور محمد علی نے اس میں ویلن کا کردار ادا کیا تھا مگر قسمت کی بات دیکھئے کہ محمد علی بعد میں بڑے ہیروبن گئے اور ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ کے ہیرو کے نام سے آج کوئی بھی واقف نہیں ہے۔

قسط نمبر 55 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فضل کریم فضلی کے بھائی حسنین فضلی نے کراچی میں ’’وفا‘‘ کے نام سے ایک فلم شروع کی تھی کہ اس کے دوران میں ان کا انتقال ہو گیا۔ سبطین فضلی لاہور میں رہتے تھے جہاں انہیں ایک سنیما میں حصہ الاٹ ہوا تھا۔ فلیٹ بھی ملا تھا۔ معاش کی طرف سے بے فکری تھی اس لئے وہ منصوبے زیادہ بناتے رہے۔ فلمیں صرف تین ہی بنائیں۔ ان کی پہلی فلم ’’دوپٹہ‘‘ تھی جس میں نور جہاں کے ساتھ ایک نئے ہیرو کو اجے کمار کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔ سدھیر اور زرینہ ریشماں نے بھی اس فلم میں کام کیا تھا۔ فیروز نظامی نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ یہ فلم 1952ء میں ریلیز ہوئی تھی اور بے حد کامیاب رہی تھی۔ وسائل اور دیگر سہولتوں کے فقدان کے باوجود یہ بہت معیاری فلم تھی۔ اس فلم کی ریلیز کے بعد بمبئی کے فلم اخبارات نے لکھا تھا کہ انڈیا کے فلم سازوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے کیونکہ پاکستان میں ’’دوپٹہ‘‘ جیسی فلمیں بننے لگی ہیں۔ یہ فلم بھارت میں بھی بھیجی گئی تھی مگر متعصب ہندوؤں نے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس سنیما میں آگ لگا دی جہاں یہ فلم ریلیز ہوئی تھی اور دھمکی دی کہ سارے بھارت میں جہاں بھی اس کی نمائش ہو گی اس سنیما کو جلا دیا جائے گا۔ اس طرح بھارت میں پاکستانی فلموں کی نمائش کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا لیکن بھارت کے فلم ساز ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ ان کی فلمیں پاکستان میں درآمد ہوں اور وہ یہاں سے دولت کمائیں۔ یہاں انہیں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے لالچی اور مفاد پرست عناصر بھی مل جاتے تھے۔ جو لوگ پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندیوں کے خلاف بولتے ہیں انہیں یہ علم نہیں ہے کہ یہ مسئلہ دراصل کیا ہے۔ پاکستانی فلم ساز ہمیشہ یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اگر بھارتی فلمیں پاکستان آئیں تو پاکستانی فلمیں بھی بھارت جائیں مگر بھارتی فلم ساز یک طرفہ کاروبار کے قائل رہے ہیں۔ 

’’دوپٹہ‘‘ کے بعد اگر پاکستانی فلمیں بھارت جانے لگتیں تو پاکستان کی فلمی صنعت کا حلیہ ہی بدل جاتا۔ دراصل اس وقت صحیح معنوں میں پاکستانی فلم سازوں میں مقابلے کا جذبہ اور بہترین فلمیں بنانے کا احساس پیدا ہوتا۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد سے یہ مقصد حل نہیں ہو سکتا تھا۔ 

دوپٹہ کے زمانے میں نورجہاں اپنے شباب پر تھیں۔ اداکاری بھی انہوں نے بہت اچھی کی تھی۔ فضلی صاحب کی ہدایت کاری بھی اعلیٰ درجے کی تھی۔ اس فلم کے نغمے آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔

چاندنی راتیں 

سب جگ سوئے ہم جاگیں 

تاروں سے کریں باتیں 

اسی فلم کا نغمہ ہے۔ اس فلم کے نغمات مشیر کاظمی نے لکھے تھے۔ نغمات اچھے لکھتے تھے مگر انہیں زیادہ کام نہ مل سکا۔ اس گانے کی شان نزول وہ یہ بتاتے تھے کہ سخت کڑکی اور مفلسی کے دن تھے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی تک نوبت پہنچ گئی تھی۔ گرمیوں کی چاندنی رات تھے۔ وہ صحن میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ بھوک کے مارے نیند آنکھوں سے دور تھی اور وہ کروٹیں بدل رہے تھے۔ اس عالم میں ان کے دل کی آواز ان اشعار کے ذریعے ان کی زبان پر آگئی۔

چاندنی راتیں 

سب جگ سوئے ہم جاگیں 

تاروں سے کریں باتیں 

ان کے ان ہی جذبات کا عکاس نغمہ تھا۔ صبح تک سارا نغمہ مکمل ہو گیا۔ وہ یہ گیت لے کر فضلی صاحب کے دفتر میں پہنچ گئے۔ انہوں نے گیت سنا اور بہت پسند کیا۔ اس گیت کا معاوضہ انہیں پچاس روپے ملا تھا۔ 

مشیر کاظمی بہت دلچسپ آدمی تھے۔ شاعر بھی اچھے تھے۔ مگر ساری زندگی پریشان ہی رہے۔ آخر ایک بار انہوں نے کوشش کر کے ایک فلم بھی بنا ڈالی مگر وہ بھی فلاپ ہو گئی۔ ایوب خان کے دور میں انہوں نے ایوب خان کی حمایت میں ایک نظم لکھی تو ان کی نظروں میں آگئے۔ اس کے بعد ایوب خان کے جلسوں میں انہیں بطورخاص بلوایا جاتا تھا۔ انہوں ے ایک پلاٹ بھی انہیں دے دیا تھا اس طرح قدرے فارغ البالی نصیب ہو گئی ورنہ زندگی بھر پریشان ہی رہے۔ لیکن بہت ہنس مکھ اور یار باش آدمی تھے۔ ہر وقت ہنستے ہی رہتے تھے۔ اپنی پریشانیاں کسی کو نہیں سناتے تھے۔

جس زمانے میں بھارتی فلم ’’جال‘‘ کی در آمد کے خلاف پاکستانی فلمی صنعت نے مہم شروع کی تو سبھی قابل ذکر ممتاز اداکار‘ ہدایت کار اور فلم ساز گرفتار کر لیے گئے تھے۔ درجہ دوئم اور سوئم کے لوگ باہر رہ گئے تھے جو لکشمی چوک میں جلوس نکالتے رہتے تھے۔ ہم اس زمانے میں روزنامہ ’’آثار ‘‘ میں تھے۔ یہ دراصل ’’زمیندار‘‘ پر بندش اور اس کے ایڈیٹر اختر علی خاں کے جیل جانے کے بعد اختر علی خاں کے بیٹے اور مولانا ظفر علی خاں کے پوتے منصور علی خان نے اس نام سے نکالا تھا۔ ظہور الحسن ڈار اس کے ایڈیٹر اور ہم جوائنٹ ایڈیٹر تھے۔ ہم دونوں کی ہمدردیاں ظاہر ہے کہ فلم انڈسٹری کے ساتھ تھیں مگر اخبار کی پالیسی ’’جال‘‘ کے حق میں تھی کیونکہ تقسیم کاروں سے بھارتی فلموں کے بڑے بڑے اشتہار ملتے تھے۔ اب یہ ہوتا کہ اداریے میں ’’جال‘‘ کی در آمد کی حمایت کی جاتی مگر ہمارے کالم میں اس کی مخالفت ہوتی تھی۔

ایک روز دوپہر کو ’’زندہ باد‘‘ اور ’’مردہ باد‘‘ کے نعرے بلند ہونے لگے۔ چپڑاسی نے آکر بتایا کہ فلم والوں کا جلوس آرہا ہے۔ منصور علی خاں تو گھبرا ہی گئے۔ فوراً دفتر کے دروازے بند کرنے کی ہدایت کی اور پولیس کو فون کرنے بیٹھ گئے۔ ہم نے انہیں تسلی دی اور سمجھایا کہ فکر نہ کریں۔ کچھ نہیں ہو گا۔ ہم دفتر کے برآمدے میں گئے تو دیکھا کہ سڑک کی دوسری جانب بیس پچیس آدمی کھڑے ’’آثار‘‘ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اس جلوس کے قائد مشیر کاظمی تھے۔ ہمیں دیکھا تو دور ہی سے ہاتھ ہلا کر علیک سلیک کی۔ ہم نے جواب میں انہیں آنے کااشارہ کیا تو وہ اپنے ساتھیوں کو یہ بتا کر کہ میں جا کر مذاکرات کرتا ہوں‘ ہمارے پاس آگئے۔ دفتر کے اندر ہم نے چائے سگریٹ پیش کی۔ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ کچھ کھانے کو بھی مل جائے تو منگالیں۔ ہم نے بن مکھن منگایا اور کھلایا۔ وہ کھاپی کر اپنے ’’عوام‘‘ میں پہنچ گئے اور کہا کہ آئندہ یہ اخبار ہماری مخالفت میں نہیں لکھے گا۔ میں ایڈیٹروں سے بات چیت کر کے آیا ہوں۔ 

ان ہی مشیر کاظمی کا ایک اور لطیفہ بھی ہے۔ ایک فلم ساز نے بھارتی فلم کا چربہ بنایا اور مشیر کاظمی سے کہا کہ اس کے گانوں کا بھی چربہ کر دو۔ مشیر کاظمی نے بہتیرا کہا کہ میں اس سے اچھے گانے لکھ دوں گا مگر فلم ساز نہ مانا۔ بے چارے شاعر نے پیٹ کی خاطر ان ہی گیتوں کو الٹ پلٹ دیا۔ بھارتی گیت کے بول یہ تھے۔

ایک پیسہ دے دے بابو۔۔۔۔۔۔ او جانے والے بابو ایک پیسہ دے دے۔

مشیر کاظمی نے اسے یوں کر دیا۔

ایک آنہ دے دے بابو 

ایک آنہ دے دے 

فلم ساز نے اسی دھن میں گیت ریکارڈ کر لیا۔ فلم ریلیز ہوئی تو سب دوستوں نے مشیر کاظمی کو پکر لیا اور بہت شرمندہ کیا کہ یار ہو بہو چربہ کر دیا۔ شرم کرو۔ 

مشیر کاظمی بولے ’’بھئی آپ لوگ بھی کمال کرتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ یہ گیت ہو بہو چربہ ہے۔ بھائی آپ کو آنے اور پیسے کا بھی علم نہیں ہے۔ پورے تین پیسوں کا فرق ہے۔‘‘

کئی سال ہوئے مشیر کاظمی کا انتقال ہو گیا۔ فلمی صنعت اور شاعری سے انہیں عمر بھر کچھ نہ ملا۔

دیکھئے ’’دوپٹہ ‘‘ اور فضلی صاحب کے تذکرے سے بات کہاں پہنچ گئی۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

 (علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -