وہ وقت جب ایک پاکدامن، باپردہ خاتون باران رحمت کے نزول کا ذریعہ بن گئی

وہ وقت جب ایک پاکدامن، باپردہ خاتون باران رحمت کے نزول کا ذریعہ بن گئی
وہ وقت جب ایک پاکدامن، باپردہ خاتون باران رحمت کے نزول کا ذریعہ بن گئی

  

کراچی (ویب ڈیسک) ایک مرتبہ دہلی قحط سالی ہوئی تو سارے لوگ پریشان ہوگئے اور بارش کی دعامانگنے لگ گئے تاہم کامیابی نہ ہوسکی، ایک دن ایک نوجوان کا وہاں سے گزررہا، صورتحال کا علم ہونے پر اس نے اونٹ پر بیٹھی اپنی والدہ کا پلو پکڑا اور اللہ تعالیٰ کو اس کی پاکدامنی اور باپردگی کا واسطہ دیتے ہوئے بارش کی دعا مانگی تو فوری ابررحمت برس پڑی۔ 

روزنامہ امت کے مطابق  خشک سالی کے بعد ایک دن تمام لوگ اور علمائے کرام میدان میں نما زاستسقا ادا کرنے کے بعد خدا سے بارش کی دعا مانگنے لگے۔ یہ عمل صبح سے شام تک چلتا رہا، لیکن بارش نہیں ہوئی، اسی وقت ایک مسافر نوجوان وہاں آگیا۔ اس کے ساتھ ایک پردہ نشین عورت بھی اونٹ پر سوار تھی۔ جب اس نوجوان نے یہ سارا ماجرا سنا تو کہنے لگا کہ میں بارش کی دعا مانگنا چاہتا ہوں، سب خوشی سے راضی ہوگئے تو وہ اونٹنی کے قریب گیا اور رب کے درمیان میں دعا کرنے لگا، اس کے ہاتھ نیچے رکھنے سے پہلے ہی بارش ہونے لگی، یہ دیکھ کر سارے علمائے کرام کہنے لگے کہ آپ مستجاب الدعوات ہیں۔

استفسار پر اس نوجوان نے کہا حقیقت یہ ہے کہ’ یہ جو اونٹنی پر سوار ہے، وہ میری ماں ہے اور ایک چادر ہاتھ میں پکڑ کر کہا یہ میری ماں کی چادر ہے اور میں نے اپنی ماں کی چادر پکڑکر اس طرح دعا کی ہے کہ اے پروردگار یہ میری ماں کی چادر ہے، اس نے کبھی اپنے سر سے دوپٹہ نہیں ہٹایا اور نہ کسی غیر مرد کو اپنا سردکھایا اور ساری زندگی اپنی عزت کی حفاظت کرتی رہی۔ خدایا! اس کی پاکدامنی کا واسطہ دیتا ہوں تو اپنے بندوں پر بارش برسادے تو خدا نے میرے ہاتھ نیچے رکھنے سے پہلے ہی بارش برسادی‘۔

ایسا ہی ایک اور واقعہ ہے ، حضرت محمد بن عبدالعزیز بن سلمان عابد ؒفرماتے ہیں، میں نے ایک نیک شخص کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک مرتبہ مجھے حضرت عبدالعزیز نے اپنے پاس بلایا۔ میں اس وقت کچھ غمگین تھا، لہٰذا اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا۔ پھر جب میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپؒ نے پوچھا: ”خیریت تو تھی، کل تم آئے نہیں۔“میں نے کہا: ”ہاں! خیریت تھی، خدا جس حال میں رکھے ہم تو اس کی رضا پر راضی ہیں، کل میں گھر والوں کو خوردونوش کا سامان مہیا کرنے کے لئے مزدوری کی تلاش میں تھا، اس لئے حاضر خدمت نہ ہوسکا۔“

آپؒ نے پوچھا: ”کیا تمہیں کل مزدوری ملی؟“ میں نے کہا: ”نہیں“ تو آپؒ نے ارشاد فرمایا: ”آﺅ! ہم اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں، وہ تمام جہانوں کو رزق عطا فرمانے والا ہے، ہم اس کی کریم ذات سے رزق کے لئے دعا کرتے ہیں۔“ اتنا کہنے کے بعد حضرت عبدالعزیزؒ نے دعا کی اور میں آمین کہتا رہا، پھر میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور آپ آمین کہنے لگے۔“ خدا کی قسم! ابھی ہم دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائے تھے کہ ہمارے پاس درہم و دینار آنا شروع ہوگئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عبدالعزیزؒ نے فرمایا: ”اے ابراہیم! کیا تجھے اتنا کافی ہے یا کچھ اور بھی چاہیے؟“ اتنا کہنے کے بعد آپ وہاں سے تشریف لے گئے اور میں نے جب وہ درہم و دینار جمع کئے تو 100 درہم اور 100 دینار تھے۔

حضرت محمد بن عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس صالح عابد شخص سے پوچھا کہ تم نے اس رقم کا کیا کیا؟ اس نے جواب دیا: ”میں نے اپنے اہل و عیال کے لئے اس رقم سے ایک ہفتے کا راشن خرید کر ان کے حوالے کردیا تاکہ میں اہل و عیال کی طرف سے بے فکر ہوجاﺅں اور پھر دل لگا کر خدا کی عبادت کروں اور کوئی چیز میرے اور میرے رب کے درمیان حائل نہ ہو۔“ پھر میں راہ خدا کا مسافر بن گیا۔ حضرت محمد بن عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں: ”خدا کی قسم! یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -