شام میں صبح کا انتظار

شام میں صبح کا انتظار
شام میں صبح کا انتظار

  

شام کے ائیر بیس پر کروز حملے کے بعد صورتِ حال کا فی حد تک سنجیدہ اور گھمبیر ہو چُکی ہے۔رُوس اور امریکہ کے درمیان امریکی حملے کے بعد سے غلط فہمیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ روُس کا موقف ہے کہ کہ امریکی حملہ غیر مُناسب اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف تھا۔جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ اسد البشار کی فوجوں نے کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کرکے انسانیت کے خلاف ایک سنگین جُرم کیا ہے۔ جس کو روکنا امریکہ اور دوسرے ممالک کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ اور رُوس کے الزام کا جواب دیتے ہوئے امریکہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ رُوس کو کروز حملے سے قبل با قاعدہ مطلع کر دیا گیا تھا۔ لہذا رُوس کا واویلا بے معنی ہے۔ رُوس کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے زہر یلی گیس اور مواد کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی قردادوں پر عمل در آمد کو یقینی بنانا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ رُوس شام کو سمجھانے بجائے اپنے حلیف کی مُجرمانہ سر گرمیوں کی حو صلہ افزائی کر رہا ہے۔جو کہ افسوس ناک ہے۔تاہم امر یکہ رُوس شام یا کسی بھی مُلکی کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو گا اور اگر مزید حملوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو امر یکہ اپنے اور بین الاقوامی مُفاد میں حملوں کو جاری رکھے گا۔ 

امریکہ کے سیاسی اور پینٹاگان کے اعلیٰ عُہدہ داران صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے شام میں داخل ہونے کے کوئی عزایم نہیں۔ تاہم امریکہ یہ ضر ور چاہتا ہے کہ اسَد بشار عوام کی خواہشات کے مُطابق اقتدار سے الگ ہو جائیں۔ شام کے عوام اُن کے طرز حکومت سے اُکتا چُکے ہیں۔ مُلک اور عوام کی بہتری اِسی میں ہے کہ وُہ مزید مُلک کو تباہ کرنے کی بجائے حزب اختلاف سے افہام و تفہیم سے کام لیں۔ لیکن اَسد البشار اپنی ضد پر قایم ہیں اور ہر طرح کی عسکری مدد کے لئے اپنے دیرینہ ساتھی رُوس پر انحصار کر رہے ہیں۔ ناجائز اور غیر فطری طریقوں سے اپنی حکومت کو بچانے کی کوششیں وقتی طور پر شائد سوُد مند ہو سکتی ہیں لیکن طویل دورا نیے کے لئے ہرگز فائدہ مند نہیں ہیں۔

شام کے پڑوسی مُلک تُرکی نے روس پر زُور دیا ہے کہ وُہ شام کی مدد کرنا بند کر دے۔ کیونکہ شام کے عوام اَسد البشار کی حکومت سے عاجز آچُکے ہیں۔اور امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وُہ شام کے مسئلے کو نمٹانے کے لئے ٹھُوس منصوبہ بندی کرے۔ تاکہ عوام کو راحت مِل سکے۔ شام کے عوام اور حزب اختلاف مُلک اور قوم کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے حکومت کے خلاف لڑنے والوں کی براہ راست مدد کرے تاکہ وُہ حکومت کو معزول کرکے عوامی راج لا سکیں۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی خواہش ہے کہ امریکہ بھر پوُر انداز میں شام پر فوجی حملے کرے تاکہ اَسد البشار کی حکومت سے عوام کو چھُڑایا جا سکے۔ اور ایران کے اثر و رسوخ کو علاقے میں سے ختم کیا جا سکے۔ ایسے ہی جذبات امریکہ کے دیرینہ ساتھ اسرائیل کے ہیں۔ اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام کے ایک دَم خلاف ہے اور اپنے پڑوس میں ایران کی مداخلت کو ایک خطرے کے رُوپ میں دیکھ رہا ہے۔ اوبامہ دور میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات اِس معاملے پر کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ لیکن صدر ٹرمپ کی آمد سے تُرکی، سعودی عرب، خلیجی ممالک اور اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکی صدر شام کے خلاف فوجی کاروائی کرتے ہوئے جھجکیں گے نہیں۔ بلکہ شام اور ایران کو اُنکی حدُود میں رکھنے کے لئے ضروری کاروائی کریں گے۔ ابھی تک امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ وُہ براہ راست شام کی جنگ میں ملو ث نہ ہو بلکہ حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی مالی اور عسکری انداز میں مدد کرے۔ لیکن شام کے صدر کی ہٹ دھرمی اور کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال نے امریکہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وُہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے خود میدان میں کُود کر شام کی فوجوں کی وحشیانہ کاروائیوں کو رُوکے۔ بعض لوگوں کے خیال کے مُطابق مشرقِ وسطیٰ تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے۔ کیونکہ دُنیا کی دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ رُوس اپنے حلیف کا ہر صُورت ساتھ دینے پر بضد ہے اور امریکہ اپنی ساکھ کو قایم رکھنے کیوجہ سے جنگ میں کودنے کے لئے تیار ہے۔ لیکن کُچھ حلقے مُختلف رائے رکھتے ہیں۔ اُن کے مُطابق، امریکہ اور رُوس بالآخر ایسے معاہدے پر راضی ہو جائیں گے۔ جس سے دونوں ممالک کے مُفاد محفوظ رہیں۔ بلکہ اُن کا خیال ہے کہ امریکی انتخابات سے پہلے رُوسی اور امر یکی صدر کے نمائندوں کی خفیہ مُلاقات عرب ممالک کے توسط سے ایک خفیہ جزیرے میں ہو چُکی ہے۔ ا طلاعات کے مُطابق، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات بلیک واٹر تنظیم کے منیجنگ ڈائیریکٹر نے روسی حکام سے کئے۔ علاوہ ازیں، یورو پین ممالک رُوس کو قابو میں کرنے کے لئے اقتصادی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ بیشک رُوس ایک بڑا مُلک ہے لیکن وُہ اقتصادی طور پر اتنا مضبوط نہیں کہ وُہ امریکہ اور یورپی ممالک کو خاطر میں نہ لائے۔تاہم۔ صورتِ حال نہائت گھمبیر اور خطر ناک ہے۔ گو امریکی اور رُوسی وزیر خار جہ ایک دوسرے کے ساتھ مُلاقات کرنے اور اِس مسئلہ کو سُلجھانے کا عندیہ دے چُکے ہیں ۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے بحری بیڑے بھی شام کی جانب روان دواں ہیں۔ اٹلی میں منعقدہ جی سیون میٹینگ میں رُوس پر زور دیا گیا ہے کہ وُہ اپنے اتحادی کو وحشیانہ کاروائی روکنے پر مجبور کرے۔ ورنہ اسد البشار کی ہٹ دھرمی کے نتائج اُنکی سوچ کے بر عکس زیادہ خطر ناک بھی ہو سکتے ہیں۔ امریکہ مزید اِس صورتِ حال پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔

امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ امریکہ کے حملے سے شام کی ائیر فورس کا پانچواں حصہ تباہ ہو چُکا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ شام اپنے مُلک کے مُفاد میں زہریلی گیس کے استعمال سے باز رہے گا۔ تاہم امریکہ اور اُسکے اتحادی اقوام متحدہ کی قردادوں پر عمل کروانے کے لئے ہر حربہ استعمال کریں گے۔روُس ، شام اور ایران کے تعلقات بیشک دیرینہ اور قریبی ہیں۔ تاہم رُوس اپنے مُفاد میں شام اور ایران کے لئے پُوری دُنیا سے لڑائی مول نہیں لے سکتا۔ پھر بھی تناؤ کی حالت میں کُچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ لہذا کسی بھی سنگین صورتِحال سے نمٹنے کے لئے رُوس اور امریکہ کو اپنے مُفادات کو دیکھنا ہوگا۔ اور ہمیں اُمید ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ جنگوں سے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔ مسائل کا حل گُفت و شنید سے ہی ممکن ہے۔فریقین کو مسائل سُلجھانے کے لئے معقولیت سے کام لینا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، عالمی جنگ کبھی بھی شر وع ہو سکتی ہے۔ جس سے ساری دُنیا تباہ ہو سکتی ہے۔جو کہ افسو ناک پیش رفت ہوگی۔شام میں نئی صبح طلوع ہوگیتو پوری دنیا میں امن کا اجالا ہوگا۔ورنہ اندھیرے گھپ ہوجائیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -