یمن میں ایک نئی طاقت نے قدم جمالئے، یہ کون ہے؟ جان کر سعودی عرب اور ایران دونوں کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی، یہ داعش نہیں بلکہ۔۔۔ انتہائی پریشان کن خبر آگئی

یمن میں ایک نئی طاقت نے قدم جمالئے، یہ کون ہے؟ جان کر سعودی عرب اور ایران ...
یمن میں ایک نئی طاقت نے قدم جمالئے، یہ کون ہے؟ جان کر سعودی عرب اور ایران دونوں کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی، یہ داعش نہیں بلکہ۔۔۔ انتہائی پریشان کن خبر آگئی

  

صنعائ(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں سعودی اتحاد اور حوثی باغیوں کی لڑائی کا فائدہ ایک تیسری شدت پسند قوت اٹھا رہی ہے اور وہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہو گئی ہے جس کے متعلق جان کر سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے مبینہ حامی ایران دونوں کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی۔مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق یہ تیسری قوت شدت پسند تنظیم ’القاعدہ‘ ہے جو یمن کے ثقافتی مرکز طیز (Taiz)میں قدم جمانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ انکشاف طیز میں القاعدہ کی قید میں رہنے والے صحافی جمیل الصامت نے کیا ہے۔

وہ وقت جب روسی دارالحکومت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا، دھماکوں کی وجہ کیا تھی اور ان کی ذمہ داری کس نے قبول کی ؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آگئے

جمیل الصامت نے ری پبلکن ہسپتال میں کرپشن کے حوالے سے ایک خبر دی تھی جس پر اسے القاعدہ کے دفتر کی طرف سے حاضر ہونے کا نوٹس موصول ہو گیا۔ جمیل الصامت کا کہنا ہے کہ ”میں اس نوٹس کے جواب میں انکار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ القاعدہ شہر میں مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے مجھے 30گھنٹے تک اپنے پاس رکھا اور پوچھ گچھ کرتے رہے۔ مجھے انصار الشریعہ کے زیرانتظام چلنے والی ایک جیل میں بطور مہمان رکھا گیا تھا۔“ مڈل ایسٹ آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ”میں پوچھ گچھ اور اپنی گرفتاری کی وجہ نہیں بتا سکتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ وہ مجھے حراست میں لے لیں، لیکن میں اتنا کہتا ہوں کہ وہ شہر میں انتا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں کہ اس شہر میں ان کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور ہر چیز وہ اپنی مرضی کے مطابق چلا رہے ہیں۔“

الصامت کا مزید کہنا تھا کہ ” القاعدہ والے ری پبلکن ہسپتال ہی نہیں، وہ کئی دوسرے ادارے، حتیٰ کہ پولیس سٹیشن بھی چلا رہے ہیں۔ جگہ جگہ ان کے اپنے دفاتر کھل چکے ہیں جو شہریوں کی شکایات کے لیے بنائے گئے ہیں اگرچہ بہت سے شہری ان کے دفاتر میں شکایت کے لیے نہیں جاتے۔القاعدہ خفیہ طور پر پورے ملک میں کام کر رہی ہے لیکن طیز پر وہ مکمل قبضہ کرکے اپنی حکومت بنا چکی ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -