وہ 87 سالہ ڈاکیا جس کے 1300 سے زائد بچے ہیں لیکن کوئی بھی اسے اپنا باپ نہیں کہتا کیونکہ۔۔۔ایسی خبر کہ پڑھ کر آپ کے کان شرم سے لال ہوجائیں گے

وہ 87 سالہ ڈاکیا جس کے 1300 سے زائد بچے ہیں لیکن کوئی بھی اسے اپنا باپ نہیں کہتا ...
وہ 87 سالہ ڈاکیا جس کے 1300 سے زائد بچے ہیں لیکن کوئی بھی اسے اپنا باپ نہیں کہتا کیونکہ۔۔۔ایسی خبر کہ پڑھ کر آپ کے کان شرم سے لال ہوجائیں گے

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر نیشولی کے ایک 87سالہ ڈاکیے کے 13سو ناجائز بچے ہونے کا انکشاف ہواہے ۔

تفصیلات کے مطابق ٹینیسی کے ایک خاندان نے غیر سرکاری تفتیش کار کی اس کام کیلئے اس کی خدمات حاصل کیں جس کی تفتیش کے دوران ہونے والے اس انکشاف نے دنیا بھر کو حیرانگی میں مبتلا کر دیاہے۔تفتیش کار نے تحقیقات کے دوران ہزاروں ڈی این اے نمونے لیے اور اسے اس کام میں تقریبا 15سال کا وقت لگا ۔اس ڈاکیے نے اپنے دفاع میں رپورٹرز کو بتایا کہ اس کے دور میں مانع حمل مقبول نہیں تھا جس کے باعث وہ اتنے زیادہ بچوں کا باپ بنا ۔

نجی تفتیش کار سد روئے نے کہا کہ وہ کبھی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ ایک معمولی سی تفتیش 15سال بعد ایسے انکشافات کے ساتھ ختم ہو گی ۔اس کا کہناتھا کہ یہ سب 2001میں شروع ہوا ،اس وقت دو مختلف افراد نے مجھے اپنے باپ کو ڈھونڈنے کا کام سونپا ،مجھے اس وقت جھٹکا لگا جب تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ دونوں تو ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں ۔

یہاں سے اس معمے کی شروعات ہوئی اور یہ میرا ذاتی مشن بن گیا ،جب جب میرے پر فارغ وقت ہوتا تو میں دیگر ڈے این ایز کے ٹیسٹ کرواتا اور اتفاقاً ڈی این اے ٹیسٹ انتہائی سستا ہونے پر مجھے تحقیقات میں بہت آسانی ملی اور میں نے اتنی زیادہ تعداد میں معلوما ت اکھٹی کر لیں ۔

تحقیقات کا ر کا کہناہے کہ اس شخص کے بچوں نے اپنے باپ کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔بہت سے لوگ اس سچائی کو جانتے ہیں اور وہ اسے باہر عوام میں پھیلانا نہیں چاہتے تھے ۔سچائی کے باہر آنے سے ہو سکتاہے کہ کئی سو خاندان اس کی نذر ہو جاتے اور میری تحقیق کا ہر گز یہ مقصد نہیں تھا ۔مجھے یہ سب معلوم ہے کہ بہت سے لوگ حقیقت سامنے آنے پر خوش ہیں اور وہ اپنے بوڑھے باپ کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے ۔

سد روئے کا کہناہے کہ اس کی تحقیقات میں صرف 1300ایسے افراد ہی سامنے آئے ہیں جبکہ اس کا یقین ہے کہ ابھی اور بھی بہت سارے اس کے بچے ہیں جو کہ سامنے نہیں آ سکے ،اس کا کہناتھا کہ اس نے اپنی زندگی کے 15سال اس تحقیق میں لگا دیئے ہیں اور میں سمجھتاہوں کہ یہ بہت ہے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -