چیف سیکرٹری پنجاب کے نام

چیف سیکرٹری پنجاب کے نام
چیف سیکرٹری پنجاب کے نام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پہلے میرا خیال تھا کہ مَیں جناب چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن(ر)زاہد سعید کے نام اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ کہانی ارسال کروں جو اب مَیں کالم میں بیان کر رہا ہوں، پھر مجھے اس خیال نے روک لیا کہ کہیں موصوف اسے 18سکیل کے نہایت ہی جونیئر شخص، یعنی صوبائی سیکرٹری کو ہی ’’مارک‘‘ نہ کر دیں۔

مَیں نے سرکاری نوکری میں کم و بیش درجن بھر چیف سیکرٹریوں کے ساتھ کام کیا ہے،بلکہ میری19 اور 20 سکیل میں ترقی کے وقت میری سالانہ رپورٹوں پر بہت سے چیف سیکرٹریوں نے بھی اپنے Counter Signs کئے ہیں۔ جناب بریگیڈیئر مظفر ملک، بریگیڈیئر قریشی، چودھری محمد صدیق، انور زاہد، جاوید قریشی تو مرحوم ہو گئے، جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے اکثر زندہ ہیں اور خوش و خرم بھی۔


کیپٹن صاحب کو مخاطب کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ چند روز قبل اخبار میں پروفیسر جناب تنویر صادق کا ایک کالم پنجاب کی بیورو کریسی کے بارے میں(جمعرات29مارچ ’’روزنامہ پاکستان‘‘) پڑھا تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس قدر زیادتی کی گئی۔ خدانخواستہ میرے ساتھ ایسے واقعات ہوتے تو خدا نہ کرے بلڈ پریشر کا مریض ہونے کے ناطے شاید خود پر مَیں قابو نہ رکھ سکتا۔گالی گلوچ تو مجھے آتا نہیں، لیکن جوتا اُتارنا ضرور آتا ہے۔خدا کی پناہ کہ 20 ارکان کی کمیٹی ہو۔ معاملے کی جانچ ہو جائے۔

کمیٹی متفقہ طور پر ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کرے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو اب صرف یہ کرنا تھا کہ جیسے کوئی جیوری فیصلے دے دیتی ہے اس پر اپنی تائید لکھ کر عمل درآمد کا نوٹیفکیشن جاری کرا دیا جاتا،لیکن اسے نگینے افسر نے جسے ریونیو کا سرے سے کام ہی نہیں آتا،بلکہ اِسے لفظ ریونیو،یعنی محکمہ مال سے ہی ہمیشہ نفرت اور چڑ رہی ہے، اس نے لکھ دیا کہ بہتر ہے کہ چیف منسٹر سے اجازت لے لی جائے۔ بس یہ لکھنا تھا کہ گیارہ برس سے پہلے ہی کھوہ کھاتے میں پڑے،اس مقدمہ کی فائل کو پھر پورے بورڈ آف ریونیو میں کہیں جگہ نہ ملی۔ اس فائل کے ٹکڑے ہزار ہوئے کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔

یہاں تک کہ فائل ایسے ہیرے افسر کے ہاں بھی مارک کی گئی، جس نے فیصلے پر عمل درآمد کا آرڈر جاری کرنے کی بجائے اُسے محکمہ قانون کو ارسال کر دیا تاکہ سائل مزید خوار ہو۔ اب فائل ایسی مشق ہے کہ کبھی اس پر Discuss لکھ دیا جاتا ہے۔ کبھیSpeak لکھ کر فائل ماتحتوں کو بھیج دی جاتی ہے۔

میرے بس میں ہوتا تو مَیں بورڈ آف ریونیو کے تمام افسروں کو ڈھاکہ بنگلہ دیش سرکاری طور پر بھجواتا۔ وہاں ہمارے بنگالی بھائیوں نے ہر فائل پر سرکاری فارم لگایا ہوا ہے، جس پر ایک مہینہ کے تیس، اکتیس خانے بنے ہوئے ہیں۔

وہاں یہ درج کرنا ضروری ہوتا ہے کہ کس دن فائل کس افسر کے پاس تھی۔ اس پر کیا کارروائی کی گئی۔ اگر ایک روز بھی فائل بلاوجہ کسی افسر کی دراز میں رہی ہو تو بنگالی بھائی ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہو کر پہلے احتجاج کرتے ہیں۔

اس افسر کی پٹائی کی جاتی ہے اور پھر معاملہ مزید بھی آگے بڑھتا۔ ایسے میں وہاں کے چیف سیکرٹری کو موقع پر پہنچ کر معاملے کو اپنے ہاتھوں میں لینا پڑتا ہے اور اسی روز فیصلہ کرنا یا کرانا پڑتا ہے۔ یہاں تو ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

مجھے یاد ہے کہ سابق گورنر مصطفےٰ کھر اور سابق چیف سیکرٹری مرحوم بریگیڈیئر مظفر ملک کے پاس جب کوئی ضروری معاملہ آتا تھا تو فائل مارک کرنے کی بجائے فون پر ہی نیچے والے افسروں کی رالے لے کر اُسے فائل پر لکھتے اور فیصلہ کر کے اس نوٹیفکیشن میں بھی لکھ دیتے کہ فلاں فلاں افسروں کی مرضی اس فیصلے میں شامل ہے۔


یہاں پنجاب کے بورڈ آف ریونیو کی حالت تو یہ ہے کہ محکمہ مال کا کام جاننے والے افسر موجود نہیں، جو پی سی ایس افسر اوپر پہنچ بھی گئے ہیں وہ تحصیلدار یا مجسٹریٹ سے اوپر اپنے آپ کو ذہنی طور پر سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔2008ء میں جب پنجاب کے چیف منسٹر نے پنجاب سے ساڑھے پانچ سو ایسے افسروں کی نوکری ایک ہی دن ختم کی تھی تو اس خادم نے اس روز لکھا تھا کہ 21-20-19 سکیل کے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے افسروں کو اتنی بڑی تعداد میں نکالنے کا خمیازہ پنجاب حکومت کو بھگتنا پڑے گا۔

راتوں رات تو اتنے زیادہ افسروں کی ترقی کرنا ممکن نہیں۔ دوسرے اتنی تعداد میں آسامیاں خالی ہو جائیں گی کہ محکموں کا ستیاناس ہو جائے گا۔ وجہ یہ تھی کہ سی ایس ایس کرنے والوں کی تعداد ستر اسی (70-80) فیصد کم ہو چکی تھی۔ پنجاب میں بھی پی سی ایس سطح کی بھرتی سال میں صرف ایک مرتبہ کی جاتی ہے، حالانکہ وقت کا تقاضہ تھا کہ کم از کم چار مرتبہ بھرتی کی جاتی تاکہ کمی پوری کی جا سکے۔ پنجاب حکومت نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک ایک افسر کو کئی کئی محکموں کا چارج دے دیا جس سے انتظامیہ کا بیڑہ ہی غرق ہو گیا۔

موجودہ چیف سیکرٹری چونکہ آٹھ دس برس پاکستان آرمی سے بھی وابستہ رہے ہیں، اِس لئے ان کی توجہ دِلانے کے لئے لکھا ہے۔ وہ یہ معاملہ یوں ہاتھ میں لیں کہ اس روز زیر تبصرہ مقدمے کا بھی فیصلہ ہو اور30 مارچ کو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں ہی سابق سیکرٹری اطلاعات جناب مینوچہر کا بھی توجہ دلاؤ خط میں بتائے گئے معاملے کا بھی نوٹس لیا جائے۔

خدا کی پناہ تمام سی ایس ایس ریٹائرڈ ملازمین کو تو اُن کی بیماری، دِل کے آپریشن، گردوں کی تبدیلی وغیرہ کے سلسلے کے تمام میڈیکل بل پورے مل رہے ہیں، لیکن ایک رشوت نہ کھانے والے بیس سکیل کے ڈاکٹر کی امریکہ سے ڈاکٹر بن کر آنے والی بیٹی، جو ملک میں ہی خدمت کرنے کے لئے واپس پاکستان آئی ہے، کے میڈیکل بل کو صرف آدھا اِس لئے منظور کیا گیا کہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں۔

ضروری ہے کہ یہ معاملہ بھی خوبی سے نمٹا دیا جائے، کالم ختم کرنے سے پہلے مَیں کیپٹن صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب کام کرنے کا جذبہ ہو اور کسی معاملے میں سفارش یا سیاسی مداخلت کی اجازت نہ دی جائے تو جس میاں بشارت رسول ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نے نوجوان بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی کارروائی کے دوران تھپڑ مارا تھا اور جس کو وزیراعظم بن کر بھٹو نے اپنی پہلی نشری تقریر میں برطرف کر دیا تھا، وہ بھی اللہ کے فضل سے ضیاء الحق دور میں بحال ہوگیا تھا اور اسے ضیاء الحق نے نہیں، بلکہ اپنے ہی ایک ساتھی چیف سیکرٹری نے یہ لکھ کر بحال کیا تھا کہ اس افسر کو نہ تو چارج شیٹ کیا گیا، نہ ہی قصور بتایا گیا۔ چنانچہ میاں بشارت رسول کو تمام واجبات بھی ملے اور ترقی بھی۔

آج بھی اگر کیپٹن زاہد سعید پنجاب کی بیورو کریسی کے اجلاسوں میں اُنہیں یہ تلقین کرتے رہیں کہ وہ فائل ورک روزانہ کی بنیاد پر اسی طرح سرانجام دیں اور فیصلے کسی کی خوشنودی کے بغیر کرنے کی عادت ڈالیں تو اس کی ضرورت نہ پڑے۔

جہاں تک پنجاب میں افسروں کی کمی کا معاملہ ہے ہنگامی سطح پر 19-18-17 سکیل کے دو ہزار افسر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کروا کر پوری کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم -