’’چھوٹے دماغ‘‘ کے مودی سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کی جائیں

’’چھوٹے دماغ‘‘ کے مودی سے زیادہ توقعات وابستہ نہ کی جائیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی عام انتخابات میں مودی کی بی جے پی اگر جیت گئی تو مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کے تصفیہ تک پہنچا جا سکتا ہے،ان کی جیت سے امن مذاکرات کے لئے بہتر مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اگر بھارتی انتخابات مودی کے حق میں نہیں جاتے تو بھارت پاکستان کے خلاف مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے،غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ کانگرس کی حکومت بنی تو انتہا پسندوں کے ردعمل کے پیشِ نظر وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ معاملات کے حوالے سے خوفزدہ رہے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے اگر بی جے پی کی کامیابی کی صورت میں بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے کسی تصفیہ کے امکانات کی توقعات یا نیک خواشات وابستہ کی ہیں تو ممکن ہے اُن کی اس خوش فہمی کی بنیاد کسی اطلاع پر ہو، تاہم ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا انہوں نے مودی کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ’’چھوٹے دماغ‘‘ کے ایسے آدمی ہیں، جو بڑے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں، اب معلوم نہیں اس چھوٹے دماغ کے آدمی کا ذہن یکایک وسیع اور کشادہ ہو گیا ہے یا پھر اُن کی شخصیت میں جوہری طور پر کوئی ایسی انقلابی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے،جس کی وجہ سے ہمارے وزیراعظم نے اُن سے بعض اچھی امیدیں وابستہ کر لی ہیں ویسے تو اس طرح کی خوش فکری کی بظاہر گنجائش نہیں،لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی معلومات کے کوئی ذرائع ایسے ہیں جن کی بنیاد پر انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا اور تصویر کا روشن پہلو دیکھا، حالانکہ اِس ضمن میں مودی کا ریکارڈ چنداں قابلِ تعریف نہیں،بلکہ بڑی حد تک قابلِ مذمت ہے، وہ جب سے وزیراعظم بنے ہیں پاکستان کے خلاف مسلسل محاذ آرائی پر تُلے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی کنٹرول لائن کا محاذ انہوں نے ان پانچ برسوں میں گرم رکھا ہے، آئے روز کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ملحقہ دیہات کی سویلین آبادی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، کھیتوں میں کام کرتے کسانوں پر بھی گولیاں برسائی جاتی ہیں اور اُنہیں ہراساں کیا جاتا ہے، بچوں کو سکول سے لانے والی ایک ویگن پر فائرنگ کا واقعہ بھی ہو چکا ہے،بھارتی فائرنگ سے پاکستان کے بہت سے فوجی جوان بھی شہید ہو چکے ہیں۔

یہ تو کنٹرول لائن کا احوال ہے۔ مقبوضہ ریاست کے اندر ظلم و ستم کے جو جھکڑ مودی نے چلا رکھے ہیں ان سے ریاستی دہشت گردی کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے، پیلٹ گنوں کا استعمال مودی کی وزارت میں پہلی دفعہ شروع ہوا،جس کی وجہ سے دس دس سال کے بچوں کی بینائی عمر بھر کے لئے زائل ہو گئی ہے، کیونکہ پیلٹ گنوں سے اُن کے چہروں پر سیدھی فائرنگ کی جاتی ہے، چھروں سے چہرے داغ دار ہو گئے ہیں۔ مودی کے پورے عرصہۂ اقتدار میں مقبوضہ کشمیر میں امن چین کا ایک دن بھی نہیں گزرا، ہڑتالیں، مظاہرے، کرفیو، گھر گھر تلاشیاں، جنازوں پر فائرنگ اور نوجوانوں کو گھروں سے اُٹھا کر غائب کر دینا اب روزمرہ ہو چکا ہے۔پلوامہ کے واقعہ میں جو خود کش حملہ آور نوجوان ملوث بتایا گیا ہے اُسے سکول سے گھر آتے ہوئے سیکیورٹی فورسز والے اُٹھا کر لے گئے تھے اس کے والدین تلاشِ بسیار کے باوجود رو پیٹ کر بیٹھ گئے۔ پلوامہ میں خود کش دھماکے کے بعد پتہ چلا کہ وہ تو عسکریت پسند ہو گیا تھا۔ اگر ایسا تھا تو بھی اس کی ذہنی کایا پلٹ ریاستی تحویل میں ہوئی اس طرح یہ سوال بھی اٹھا،جو نوجوان سیکیورٹی فورس کی تحویل میں تھا، اس نے کیسے دھماکہ کر دیا۔

مودی مسلمان اکثریت کی ریاست مقبوضہ کشمیر میں کسی ہندو کو وزیراعلیٰ بنانے کے لئے پورا زور لگا چکے ہیں،لیکن اُن کی دال نہیں گلی اور اُن کا مشہور’’1+44 منصوبہ‘‘ بُری طرح ناکام ہو گیا۔ ریاستی انتخابات میں اُنہیں امید تھی کہ بی جے پی ایک دو ووٹوں کی اکثریت سے ریاستی حکومت بنا لے گی، لیکن اُن کا یہ خواب پریشان ہو گیا۔اُن کی پارٹی اکثریت تو کیا حاصل کرتی دوسرے نمبر پر چلی گئی اور محض 25نشستیں جیت سکی، پہلی پوزیشن پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے حاصل کر لی تو مودی نے اس جماعت کے مرحوم سربراہ مفتی محمد سعید کے ساتھ ہندو وزیراعلیٰ کے لئے سودے بازی شروع کی وہ نہ مانے تو ریاست میں گورنر راج لگا دیا۔گورنر راج کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ڈیڈ لاک برقرار تھا اِس لئے مودی کو ہتھیار ڈال کر مفتی محمد سعید کو وزیراعلیٰ قبول کرنا پڑا، اُن کے انتقال کے بعد پہلی صورتِ حال پھر لوٹ آئی اور محبوبہ مفتی نے بھی مودی کا منصوبہ مسترد کر دیا، پھر دوسری مرتبہ انہیں محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ قبول کرنا پڑا، پھر اُن کے ساتھ بھی نہ چل سکے اور ان کی وزارت برطرف کر کے دوبارہ گورنر راج اور پھر صدر راج نافذ کر دیا گیا، اب پورے ملک میں لوک سبھا کے انتخابات ہو رہے ہیں تو بھی ریاست میں انتخابات ملتوی کئے گئے ہیں۔شاید اس لئے کہ وہ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنا چاہتے ہیں،جس پر کشمیر کی وہ قیادت بھی ڈٹ کر سامنے آ گئی ہے جو اب تک انتخاب میں حصہ لے رہی تھی، ان قائدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیری بھارت کو خیر باد کہہ دیں گے۔

مودی نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ مسلسل بند رکھا، اسلام آباد کی سارک سربراہ کانفرنس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا اور وزرائے خارجہ کی سطح پر جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کر کے سشما سوراج ان سے مُکر گئیں۔فروری میں بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے بالا کوٹ پر حملہ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کا کیمپ تباہ ہو گیا، جس میں350 دہشت گرد مارے گئے اور پاکستان لاشیں گن رہا ہے،اس ڈرامے کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ گیا اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری سے پوری دُنیا میں مودی کی جو جگ ہنسائی ہوئی اب تک اس کی باز گشت سنائی دے رہی ہے، خود وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ مودی الیکشن جیتنے کے لئے ڈرامے کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان پر ایک اور حملے کا خدشہ ظاہر کر رکھا ہے اور اس کی تاریخیں بھی دی ہوئی ہیں ان حالات میں مودی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی توقعات وابستہ کرنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں،لیکن اگر کوئی ایسی بنیاد ہے جس پر وزیراعظم نے یہ امید باندھ لی ہے کہ اگر مودی کامیاب ہو گئے تو کشمیر پر تصفیے کے لئے مذاکرات ہو سکتے ہیں، جبکہ کانگرس انتہا پسندوں کے ردعمل سے خوفزدہ رہے گی،تو اس کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں، ویسے جتنی انتہا پسندی کے مظاہرے مودی کی حکومت میں ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں، کانگرس کے تمام ادوار میں نہیں ہوئے،اس لئے حیرت یہ ہے کہ مودی سے کس بنیاد پر توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں اب تو انتخابات کے لئے ووٹنگ شروع ہونے والی ہے، ڈیڑھ ماہ بعد پتہ چل جائے گا،مودی کے ساتھ بھارتی ووٹر کیا سلوک کرتے ہیں،لیکن پاکستان کو بہرحال خوش فہمیوں میں مبتلا ہوئے بغیر زمینی حقائق پر نظر رکھنا ہو گی،کیونکہ ’’چھوٹے دماغ‘‘ کے آدمی نے خود قدم قدم پر ثابت کیا ہے کہ اس سے کسی بھی حماقت کی توقع کی جا سکتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ