کرکٹ کی اشرافیہ کے پاس واپسی کا سفر شروع!

کرکٹ کی اشرافیہ کے پاس واپسی کا سفر شروع!
کرکٹ کی اشرافیہ کے پاس واپسی کا سفر شروع!

  

کرکٹ بنیادی طور پر گوروں کا کھیل ہے، برطانیہ میں شروع ہوا اور وہاں اسے’’جنٹلمین سپورٹ‘‘ یعنی شرفا کا کھیل کہا جاتا ہے، اس سے مراد بظاہر تو شریف یا شریفانہ کھیل ہے،لیکن حقیقتاً یہ وہاں کی اشرافیہ کی وقت گذاری ہے۔

لندن میں پہلا سٹیڈیم بھی لارڈز ہے اور لارڈ کے معنی تو سبھی جانتے ہیں، یہ کھیل سفید قمیض اور سفید پتلون پہن کر کھیلا جاتا، چار روز تک مقابلہ ہوتا،جسے ٹیسٹ کہتے ، کھیل کے دوران پانی کا وقفہ، لنچ اور چائے کا وقفہ بھی ہوتا ہے، جبکہ کوئی بھی فیلڈر کسی ضرورت کے تحت امپائر کی اجازت سے گراؤنڈ سے باہر جا سکتا اور حاجت روائی کے بعد واپس آ سکتا، اسی کھیل کے بارے میں ہٹلر کا وہ قصہ مشہور ہے کہ ٹیسٹ میچ میں مہمانِ خصوصی تھے، چار روز کھیل ہوا اور جب اختتام ہو گیا اور تقسیم انعامات کی باری آئی، ہٹلر نے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا، بتایا گیا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ’’میچ ڈرا‘‘ ہو گیا، اس پر ہٹلر صاحب بہت بھنائے اور انہوں نے کہا بند کر دیں یہ کھیل جو چار روز تک کھیلا جائے اور پھر کوئی فیصلہ نہ ہو اور میچ برابر ہو جائے۔

سو قارئین! درحقیقت یہ اشرافیہ کا کھیل تھا، جسے عوامی دلچسپی کے لئے ایک روزہ میں تبدیل کیا گیا اور اب تو یہ20 اور100اووروں کا بھی ہوتا ہے اور اس میں عوامی دلچسپی بھی زیادہ ہو گئی، آسٹریلیا میں چینل9کے مالک کیری پیکر کا آسٹریلین کرکٹ بورڈ سے میچ دکھانے کے حقوق پر جھگڑا ہوا تو اس قبیلہ اشرافیہ کے معتبر نے اس کھیل کو نیا رنگ دے دیا، ڈے اینڈ نائٹ میچ، سفید بال اوررنگ برنگی یونیفارم پہنا دی۔ یوں ایک روزہ کرکٹ کو بھی فیسٹیول کی شکل دی۔

آج یہ ذکر یوں مقصود ہے کہ پاکستان میں کرکٹ پھر سے اشرافیہ کا کھیل بننے والا ہے اور یہ جو لوئر مڈل کلاس اور دیہات سے آنے والے اَن پڑھ بڑے بڑے کھلاڑی بن گئے ہیں، ان کو بھی چاند تارے نظر آ جائیں گے۔ اگر ان میں سے کسی نے اپنے اچھے وقت کی کمائی بچا کر رکھی اور کہیں انوسٹمنٹ کر لی ہے تو ٹھیک، ورنہ آئندہ خوش قسمتی اسی کے دروازے پر دستک دے گی جو کسی سپر لیگ کا حصہ بنے گا یا پھر آسٹریلیا یا برطانیہ کی کوئی کاؤنٹی کسی کھلاڑی کی صلاحیتوں سے مستفید ہو گی۔ یوں بھی ملک کے اندر کھیل کے مواقع کم ہونے والے ہیں کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر کے ریجنل کرکٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کسی بھی ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے پاس ایسا کوئی کاروبار یا اے ٹی ایم مشین نہیں،جو کھلاڑیوں کو معاوضہ دے کر ساتھ رکھے۔

محکمانہ کرکٹ ختم ہوئی تو کرکٹر بھی اسی طرح بے روزگار ہوں گے جیسے نئے پاکستان میں میڈیا والے رسوا ہو رہے ہیں، کہ تنخواہیں کم اور نوکریاں ختم، اب جس نے کھیلنا ہو وہ سامانِ کرکٹ اپنا لائے، پھر گراؤنڈ اور ریجنل ٹیم تلاش کرے، اگر وہاں جگہ مل جائے تو کھیلے ورنہ پریکٹس بھی محال ہو گی کہ ملک میں کھیل کے میدان ختم ہو چکے، تعلیمی اداروں کی تو بھرمار ہے اور یہ نجی ادارے بڑی فیسیں بھی وصول کر رہے ہیں،لیکن طلباء و طالبات کے لئے کھیل کے میدان اور مواقع نہیں ہیں۔ ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی جیسی بہت محدود سرکاری درسگاہیں ہیں جن کے پاس کھیلوں کی سہولتیں ہیں، ورنہ سکول اور کالج کی سطح پر کھیلوں کا کوئی ڈھانچہ ہی موجود نہیں ہے۔

بات چونکہ کرکٹ سے شروع کی تھی اس لئے واپس ہیں آتے ہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان کی ٹیم تھی تو اس میں ہندو، مسلم کھلاڑی شامل تھے اور یہ سب کھاتے پیتے گھرانوں سے تھے کہ اکثریت آکسفورڈ یا کیمبرج کی سند یافتہ یا بڑی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل تھے اور جن کو کوئی لالچ نہیں، کھیل کا شوق تھا، چنانچہ قیام پاکستان کے بعد جو ٹیم نظر آتی ہے اس میں عبدالحفیظ کاردار، دلاور خان، فضل محمود، محمود حسن، خان محمد،امتیاز احمد، کرنل شجاع اور مقصود احمد جیسے لوگ تھے،جو اچھے سرکاری افسر یا گھروں کے کھاتے پیتے تھے ان کو کسی تنخواہ کی ضرورت نہیں تھی۔حنیف محمد برادران، سعید احمد اور جاوید میاں داد جیسے حضرات قسمت کے دھنی ہیں کہ ان کو موقع اور شہرت بھی مل گئی۔

بہرحال ایک وقت آیا کہ عبدالحفیظ کاردار کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنا دیئے گئے تو ان کو خیال آیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ تو ہے اس کو موقع نہیں ملتا، تب یہاں کلب کرکٹ،سکول اور کالج کرکٹ بھی ہوتی تھی، انہوں نے دیکھا کہ نچلے متوسط طبقہ کے شوقین بچے کلب تک تو آ جاتے ہیں، لیکن ان کو بڑی سطح کی کرکٹ کا موقع نہیں ملتا کہ اکثر نوجوان میٹرک سے آگے پڑھنے سے قاصر تھے اس دور میں کھلاڑی تعلیمی میدان میں ہونے والے مقابلوں سے ہی اوپر آتے تھے اور یونیورسٹی کی سطح پر چُنے جاتے تھے، چنانچہ عبدالحفیظ کاردار نے کوشش کی اور محکمانہ کرکٹ کی ترویج کی، ان کی محنت سے مختلف سرکاری محکموں اور بنکوں وغیرہ کی ٹیمیں بنیں۔

یوں کرکٹ کے کھلاڑی مقامی (ریجنل) کرکٹ کے ساتھ ساتھ محکموں میں بھی کھپ گئے اور ان کو ملازمتیں (روزگار) ملیں اور یوں یہ خوشحال بھی ہوئے یہ درست ہے کہ اکثر ’’بڑے کھلاڑیوں‘‘ نے اس طریق کار سے اتفاق نہ کیا اور انہی میں سے ایک محترم کپتان عمران خان بھی ہیں، یوں بھی شاید ابھی تک ان کے دِل سے کاردار(سکپر) والی خلش نہیں گئی، چنانچہ انہوں نے بورڈ کی نئی سکیم مسترد کر کے ریجنل کرکٹ کو فروغ دینے کی ہدایت کی اور چیئرمین کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کا ڈھانچہ آسٹریلین بورڈ کی طرز پر استوار کریں۔

یوں اب محکمانہ ٹیمیں ختم ہونا شروع ہو گئیں، کلب کرکٹ پہلے ہی نہیں، تعلیمی اداروں کی سطح پر کھیل کے میدان نہیں ہیں، انٹرمیڈیٹ بورڈ اور یونیورسٹی الگ الگ ہونے کے بعد سے یونیورسٹی کی سطح سے کوئی کھلاڑی نہیں بنا، اب جو کھلاڑی سامنے آئے وہ مقامی کرکٹ اور ٹیپ بال سے ابھرے تاہم ان کا بڑا آسرا محکمانہ کرکٹ تھی کہ ابھرتے کھلاڑی کو روزگار مل جاتا اور پھر اس کی اپنی محنت اور قسمت اسے آگے بڑھاتی تھی، نئے پاکستان میں اب اشرافیہ ہی سے کھلاڑی مل سکیں گے کہ کسی پنکچر لگانے یا چائے بیچنے والے کو موقع نہیں ملے گا

مزید : رائے /کالم